Baseerat Online News Portal

بہار کے خوش آئند مستقبل کے لئے نتیش کمار کا اقتدار میں بنے رہنا ضروری ۔۔۔۔۔، سیاسی لیڈر مولانا غلام مذکر خان کی عوام سے جے ڈی یو پر اعتماد کرنے کی اپیل

جالے۔ 21/ اکتوبر ( پریس ریلیز )

بہار کے مستقبل کا فیصلہ اندھی تقلید سے نہیں کھلی آنکھوں حقیقت کا معائنہ کر کے کرنا ہوگا،آپ سنجیدہ لوگ ہیں اور بہار کے بہتر مستقبل کا سپنا دیکھتے ہیں اس لئے مجھے آپ سے زیادہ کچھ نہیں کہنا بس میں عام آدمی سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ بے جا عقیدت ومحبت اور نفرت وتعصب کی چادر اتار کر ایمانداری کے عینک سے لالو اور رابڑی جی کے 15 سال کا نتیش بابو کے 15 سال کا موازنہ کیجئے تو آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی یہ باتیں جے ڈی یو لیڈر مولانا غلام مذکر خان جالوی نے آج اپنے اخباری بیان میں کہیں انہوں نے کہا کہ آپ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پورے بہار کے مزاج پر الیکشن سوار ہے،انتخابی موضوعات کو لے کر ہر طرف ہو ہنگامہ ہے،تمام ہی پارٹیاں عوام کے لئے وعدوں کا پٹارہ کھول کر ان کو ووٹ بٹورنے کی فراق میں ہے،گلی گلی چکر لگائے جا رہے ہیں،دروازوں پر دستک دینے کی روایت پھر زور پکڑ رہی ہے،دل بدل کا کھیل بھی پورے شباب پر ہے،دوستی اور دشمنی کے معیار بدل رہے ہیں،ایسے میں کل کیا ہوگا اور بہار الیکشن کا اونٹ کس کڑوٹ بیٹھے گا یہ کم از کم ابھی تک تو کوئی بھی نہیں جانتا لیکن اگر آپ کا رشتہ بہار سے ہے تو ذرا ایمانداری سے بتائیے کہ بھلا بہار کے مستقبل کے لئے بطور وزیر اعلی نتیش کمار نہیں تواور کون؟انہوں نے کہا کہ اگر آپ حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو میں آپ کو بتاونگا کہ نتیش کمار وہ ہیں جنہوں نے بہار کی کمان ایسی حالت میں سنبھالی تھی کہ ہر طرف ہاہاکار مچا ہوا تھا،لوٹ کھسوٹ،بد عنوانی اور چور بازارای آسمان چھو رہی تھی،تعلیمی نظام سسکیاں لے رہا تھا،صحت کا شعبہ نزع کی حالت میں حکومت سے رحم کی بھیک مانگ رہا تھا،سڑکیں اپنا وجود بھلا کر گڈھوں میں تبدیل ہو چکی تھیں،چمچماتی گلیوں کا تصور دیوانے کا خواب مانا جاتا تھا،بجلی کا خیال لاتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی تھی،جرائم کا ایسا طوفان برپا تھا کہ راہ چلتے مسافر وحشت سے کانپتے اور خوف سے تھراتے تھے مگر سب کو یاد ہوگا کہ وہی نتیش کمار ہیں جنہوں نے بہار کی تصویر بدل کر پورے ملک کو حیرت زدہ کر دیا تھا،انہوں نے کہا کہ بھلا اس سچائی کو کون بھلائے گا کہ پندرہ سال آرجےڈی کی حکومت کے باوجود بہار کسمپرسی کی حالت میں تھا،اس وقت کی نوجوان نسل ہاتھوں میں ڈگرکاں لے کر دردر کی خاک چھان رہے تھے،جن تعلیمی اداروں کا کام نئی نسل کی تعلیمی ضروریات کی تکمیل تھا انہوں چرا گاہ کی شکل اختیار کرلی تھی،سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بدعنوانی اور رشورت خوری کے اڈے بن چکے تھے،لیکن نتیش کمار نے بہار کو نہ صرف اس بحرانی کیفیت سے نکال کر اسے ترقی کی راہ بتائی،بلکہ انہوں نے فرقہ پرستی اور مذہبی نفرت کی آگ میں جل رہے بہار جو بچائے رکھنے کے لئے اپنی ان ذمہ داریوں کا ثبوت دیا جس کی بہار کی سیاسی تاریخ میں بہت کم مثالیں مل پائیں گی،انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر حکومت چلانے کے باوجود بہار کے اندر ان خیالات کو پروان چڑھنے کا موقع نہیں دیا جن کے سبب ہندوستان کی کئی بی جے پی کے زیر اثر ریاستوں میں نفرت وتعصب کا طوفان برپا ہے،انہوں نے تعلیمی میدان میں جس طرح کی پیش رفتیں کیں اس سے نئی نسل کو اپنی منزل تلاش کرنے کے قابل اطمینان مواقع ملے،سرکاری دفاتر کے کام کاج کو موثر بنانے کے لئے افسران کو جوابدہ دہ بناکر اپنی ایماندارانہ ذہنیت کا ثبوت دیا انہوں نے کہا کہ آج نتیش کمار کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے ہی بے بسی کے عالم میں زندگی گزار رہی بہار کی عوام کو خوشحال زندگی فراہم کرنے کے لئے انقلابی قدم اٹھائے،سرکاری نوکری کے قابل رشک دروازے کھولے اور بہار کے سماج امن وسکون کے ماحول میں زندگی کا سفر طے کر نے کا موقع فراہم کیا،اس لئے میں بلا کسی تردد کے کہوں گا کہ بہار کے امن و ترقی پسند لوگ انہیں نظر انداز کر کے مفاد پرستی کا کھیل رچ رہے لیڈروں پر بھروسہ نہیں کریں گے،کیونکہ بہار کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں وزیر اعلی عہدہ کے لئے نتیش کمار سے اچھا اور تجربہ کار چہرہ کوئی نہیں،ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا ہوگا کہ نتیش بابو کے دور میں بہار نے ترقی کی کئی قابل اطمینان منزلیں طے کیں اور بہار کو ایک ایسی شناخت دلائی کہ ہر کوئی اس پر فخر کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ انتخابی موسم میں چونکہ بہار کے مستقبل کا فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے اور وہ آپ ہی ہیں جن کے ہاتھوں سے بہار کی آئندہ پانچ سالہ زندگی کی قسمت لکھی جائے گی اس لئے میں آپ کو اپنا سمجھ کر بس اتنا ہی کہونگا کہ لمبے لمبے وعدوں کی گہرائی میں ڈوب جانے کی بجائے بہار کے شاندار مستقبل کے لئے ترقی کو انتخابی مدعا بنائیے ورنہ جہاں تک میں دیکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر ہم نے ذات پات اور مذہبی سیاست میں الجھ کر بہار کے مفاد کو نظر انداز کردیا تو ریاستی ترقی کا خواب چکنا چور ہو جائے گا اور ایک بار پھر ہم اسی اندھیرے میں گم ہو جائیں جس کا شکار ہوکر ہمارے بڑوں نے اپنی زندگی کے برباد دور کا سامنا کیا تھا۔

You might also like