Baseerat Online News Portal

معمولی معاوضے پر دینی خدمات کرنے والے!! محمد صابر حسین ندوی

معمولی معاوضے پر دینی خدمات کرنے والے!!

 

 

محمد صابر حسین ندوی

[email protected]

7987972043

 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کے دو مراکز مساجد اور مدارس دونوں ہی اپنی خدمات اور مقام کے اعتبار سے کہیں بالاتر ہیں، قدیم زمانہ کو دیکھئے یا آج عالمی منظرنامہ پر نگاہ ڈالئے تو یقیناً آپ کی حیرانی بڑھ جائے گی؛ کہ کس طرح ان دونوں اداروں کے خدمت گزار عمومی طور پر دین اور انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، ہمیں اسے قبول کرنے میں جھجھک نہیں کہ ان میں خامیاں بھی ہیں؛ لیکن اسے ماننے پر مجبور ہیں اور ہونا پڑے گا کہ انہیں کی وجہ سے مسلمانوں کی رہی سہی عزت بچی ہوئی ہے، ہندوستان میں مسلمانوں کو مساجد و مدارس سے توڑنے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا گیا اور کیا جاتا ہے، ہمیشہ مولوی اور ملا کا طعنہ دینے والے اور ان کے خلاف بھڑکا کر پوری قوم کو ایک الگ دھڑے پر پٹک دینے کی کوشش کرنے والے یہی لوگ ہیں، سبھی جانتے ہیں کہ اگر جسم سے شہ رگ کاٹ دی جائے تو پورا جسم رفتہ رفتہ سرد پڑ جاتا ہے، انسان مر جاتا، وہ نعش بن جاتا ہے، ٹھیک ویسے ہی ان دونوں اداروں کے خدمت گزار شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، جس دن انہیں اکھیڑدیا گیا اس دن مسلمانوں کی عزت اور ان کے استقلال پر آخری کیل بھی ٹھونک دی جائے گی، کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ان سب کے بدلے ان نادانوں کو کیا ملتا ہے، اتنا بھی نہیں جسے تنخواہ کہا جائے؛ بلکہ وہ جیب خرچ ہی رہ جاتا ہے، آج ایک یومیہ مزدور بھی چھ سو یا سات سو اور بعض اس سے زائد کماتے ہیں، مگر چوبیس گھنٹے اصلاح انسانیت اور روحانیت کا کام کرنے والے دو وقت کی روٹی ہی پر اکتفا کرتے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کیلئے یہ سب کیا جاتا ہے وہی انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں، ان پر اپنی فوقیت اور برتری دکھانے سے باز نہیں آتے، ان کی دست گیری اور اپنا خیر خواہ اور مصلح ماننے کے بجائے انہیں دھتکارتے اور بسااوقات حقارت تک کرتے ہیں، انہیں کم تنخواہ میں ان کی کمیاں تلاش کرتے ہیں، یقین جانئے جتنی محنت اور لگن کے ساتھ وہ علمی اور دینی خدمات انجام دیتے ہیں اگر وہی محنت مادی طور پر کرلیں تو کسی سے پیچھے نہ رہیں، لیکن وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی خاص رحمت اور شفقت ان کے ساتھ ہے، وہ ابر باراں ان پر برس رہی ہے جس سے ان کی زندگی نہال ہونی ہے، برکت کی وہ حقیقت انہیں کے سامنے کھلنی ہے، کاش لوگ سمجھتے کہ روحانیت اور مادیت کو الگ نہیں کیا جاسکتا، اگر زمانہ کی مجبوری نے کسی کو روحانی فرائض تک محدود کردیا ہے تو دوسرے مادی گروہ والے اس کمی کو دور کریں، بالخصوص موجودہ وقت میں اپنی آنکھیں کھولیں اور انسانیت دکھائیں، استاد گرامی قدر فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ کی جامع تحریر یہاں پیش خدمت ہے تاکہ صاحب بصیرت ہوش کے ناخن لیں۔

“یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مساجد اور مدارس مسلمانوں کی دینی زندگی کے لئے بے حد اہم ہیں؛ اگر یہ نہ ہوتے تو ہندوستان اور اس جیسے ممالک میں مسلمانوں کو ایمان پر باقی رکھنا بے حد دشوار ہوتا اور اتداد و الحاد کا طوفان نئی نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ دین کے یہ دونوں مراکز دینی خدمت گزاروں کے ذریعہ قائم ہیں، یوں تو ملک میں مدارس کی تعداد ہزاروں میں ہے، ہر سال فارغ ہونے والے علماء اور حفاظ بھی بعید نہیں کہ پچاس ہزار تک پہنچتے ہوں؛ لیکن ان کی ایک بہت ہی مختصر تعداد دینی خدمت کی لائن میں آتی ہے، ان ہی کے ذریعہ مساجدو مدارس کا نظام قائم ہے، یہ چیز بھی علماء کے حصہ میں اپنے بزرگوں کی میراث کے طور پر چلی آ رہی ہے کہ وہ بہت ہی معمولی معاوضہ پر دینی خدمت انجام دیتے ہیں، یہ اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے معاوضہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جب کہ ان کی خدمت کے اوقات بمقابلہ دوسرے لوگوں کے کافی زیادہ ہوتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ بعض دفعہ عصری تعلیمی اداروں میں انگریزی ،حساب اور دیگر عصری مضامین پڑھانے والے ساتھیوں کے مقابلہ ان کی تنخواہ کم رکھی جاتی ہے؛ لیکن پھر بھی وہ حفاظت دین کے جذبہ کے تحت اس پر قناعت کرتے ہیں؛ اگر دین کے یہ خدمت گزار نہ رہیں تو اگلے بیس پچیس سالوں میں مسلمانوں کے لئے اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔ مدارس و مساجد کے نظام کو فعال اور خودمختار رکھنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیاکہ ان کا حق الخدمۃ عام مسلمانوں کے تعاون سے ادا ہو، حالانکہ بعض جگہ حکومت چاہتی ہے کہ مساجد کے ائمہ اور مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں وہ ادا کرے، کئی ریاستوں میں اس کے لئے مدارس کے بورڈ بھی بنائے گئے ہیں، کئی ریاستوں میں وقف بورڈ نے ائمہ کی تنخواہوں کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے، اور افسوس کہ بعض جگہ مساجد و مدارس کے منتظمین اورائمہ ومدرسین نے اسے قبول بھی کرلیا ہے؛ لیکن در حقیقت یہ ایک میٹھا زہر ہے، آج اس کی مٹھاس اپنی طرف کھینچ رہی ہے؛ لیکن یہ چیز آہستہ آہستہ ان مقاصد کے لئے جان لیوا ثابت ہو گی، جن کے لیے یہ دینی مراکز قائم ہوئے تھے، پھر مساجد میں خطباء تو ہوں گے؛ لیکن ان کے منہ میں حکومت کی زبان ہوگی، مدارس میں علماء تو ہوں گے؛ لیکن ان کو حکومت کے چشم و ابرو کے اشاروں پر چلنا پڑے گا، دینی تعلیم سے آراستہ مصنفین تو ہوں گے؛لیکن ان سے اسلام کی حمایت کے بجائے اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کا م لیا جائے گا؛ اس لئے اگر ہمیں ان مراکز کو اپنے اصل مقاصد پر قائم رکھنا ہے تو صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسلمان خود ان کی ضروریات پوری کریں۔”(شمع فروزاں – ١٦/١٠/٢٠٢٠)

21/10/2020

You might also like