Baseerat Online News Portal

اگر ایسے حالات میں بھی لاپرواہی برتی گئی!! محمد صابر حسین ندوی

اگر ایسے حالات میں بھی لاپرواہی برتی گئی!!

 

محمد صابر حسین ندوی

[email protected]

7987972043

 

اس امت کی خاصیت یہ بھی ہے کہ خود سے زیادہ دوسروں کی اعانت و مدد کو اہمیت دیتی ہے، قرآن و احادیث میں ایسی روایات و فرمودات کی کمی نہیں جس سے اس امت کو دوسروں کی مدد، ایثار؛ بلکہ بہت زیادہ مدد پر ابھارا گیا ہے، اس پر اللہ تعالی نے بھی اپنی اعانت کی یقین دہانی کروائی ہے، لیکن ان میں بھی مزید وہ لوگ جو دینی کاموں میں خرچ کرتے ہیں اور ان پر خرچ کرتے ہیں جو ان کاموں میں خود کو لگائے رکھتے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر ایک امتی کارآمد ہے، اور اپنے اپنے دائرہ و استطاعت کے بقدر دینی فریضہ انجام دینے میں مصروف ہے؛ مگر اس طبقہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا جس نے اپنی زندگی اسی در پر کھپا دی، انہوں نے شب و روز قرآن و سنت اور اسلامی علوم و اعمال کی اشاعت پر صرف کیا ہے، نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی؛ بلکہ صرف امت کی ضرورت، اس کی تربیت ،علمی پرواز، اندرونی ستھرائی اور تزکیہ نفس کا خیال رکھا، یہی وجہ ہے کہ ان پر خرچ کرنے والوں کا خصوصی تذکرہ بھی پایا جاتا ہے، خود قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ ۫ یَحْسَبُہُمُ الْجَاہِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعْرِفُہُمْ بِسِیْمٰہُمْ ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ – (بقرۃ:٢٧٣)- “اصل حق ان ضرورت مندوں کا ہے جو اﷲ کے راستہ میں گھرے ہوئے ہیں، وہ زمین میں چل پھر نہیں سکتے، دستِ سوال نہ پھیلانے کی وجہ سے ناواقف لوگ ان کو مالدار سمجھتے ہیں، تم ان کو ان کے چہرہ سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے نرمی کے ساتھ مانگا نہیں کرتے، تم جو بھی مال خرچ کروگے، اﷲ اس سے واقف ہیں”. اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ کا بہترین مصرف وہ لوگ ہیں جو دین اور علم دین کی خدمت میں مشغول ہوں ، جیسے علماء ، طلبہ اوردعوتِ دین کا کام کرنے والے ، دوسرے :کھلے عام مانگنے والوں کے مقابلہ ایسے لوگوں کو دینا بہتر ہے، جن میں خودداری ہو اوروہ سوال کرنے سے بچتے ہوں ۔ چنانچہ جو محتاج اور ضرورت مند حضرات دین کے کام کی وجہ سے کسب معاش میں مستقل طور پر لگنے کے موقف میں نہ ہوں، وہ اعانتوں کے زیادہ مستحق ہیں؛ اسی لیے اکابر مفسرین کا رجحان یہی ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت اس سے اصحاب صفہ یعنی صفہ میں مقیم طالبانِ علوم نبوت کی طرف اشارہ تھا، (دیکھئے: تفسیر کبیر: 3/ 636، تفسیر قرطبی:3/ 349- آسان تفسير قرآن مجید) بلکہ خود رسول اللہ کے زمانہ سے یہ طریقہ مروج تھا کہ اہل ثروت صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھجور اصحاب صفہ کے لئے پیش کیا کرتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کو اس کی ہدایت ہوتی تھی؛ اس لئے یوں تو تمام محتاج و ضرورت مند مسلمانوں کی مدد کرنی چاہئے؛ لیکن اس طبقہ کا خصوصی استحقاق قرآن سے بھی ثابت ہے، حدیث سے بھی، سلف صالحین کے عمل سے بھی، اور یہ زیادہ مکمل طریقے پر انفاق کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔

استاذ گرامی فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ نے آیات و تفاسیر اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے استناد کرتے ہوئے حالیہ صورتحال پر ایک دردمندانہ تحریر رقم فرمائی ہے، جس کا ایک اقتباس خون جگر سے لکھا گیا ہے، اس امت کو جھنجھوڑا گیا اور سوتے ہوئے لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، آپ بھی اسے پڑھئے اور دوسروں کو بھی سنائے اور بتائے کہ زندگی کی اس دشواری میں روحانیت کا دھاگہ ٹوٹ جائے تو سب بکھر جائے گا، رہی سہی دولت بھی لٹ جائے گی، جن سروں کی برکت سے وہ روزی کماتے آرہے ہیں اس سے بھی محروم ہوجائیں گے، آپ رقمطراز ہیں: “اگرایسے دشوار حالات میں اس طبقہ کا لحاظ نہیں کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ جو مختصر سی تعداد خدمت دین کے میدان میں آتی ہے، وہ بھی آئندہ اس خار زار میں قدم رکھنے سے اجتناب کرنے لگے گی اور امت کو مخلص خدامِ دین کو چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے گا،بعض لوگوں کے ذہن میں ہے کہ چونکہ اس وقت مدارس میں طلبہ ہی نہیں ہیں؛ اس لئے مدارس کو پیسے دینے کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہ غلط فہمی پر مبنی ہے، مدارس میں طلباء کے رہائش پذیر نہ ہونے کی وجہ سے صرف مطبخ کے اخراجات میں کمی واقع ہوتی ہے، اساتذہ و عملہ کی تنخواہوں میں کوئی کمی نہیں ہوتی، کیا یہ بات مبنی بر انصاف ہوسکتی ہے کہ جو لوگ ہر سرد و گرم میں ملت کی خدمت کرتے ہیں اور ملت کے کاز کے لئے ہر تکلیف برداشت کرتے ہیں، ان کو اِن حالات میں تنہا چھوڑ دیا جائے، حالات کے بھنور کے حوالہ کردیا جائے؟ مطبخ کے علاوہ مدارس میں اور بھی ڈھیر سارے اخراجات ہوتے ہیں، جیسے: لائٹ، پانی، عمارتوں کی دیکھ ریکھ، اس کی حفاظت اور مرمت وغیرہ، یہ سارے اخراجات تو اب بھی قریب قریب حسب معمول قائم ہیں؛ اس لئے یہ سمجھنا درست نہیں کہ مدارس بند ہیں؛ لہذا انہیں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے، میرا خیال ہے کہ طلبہ کے نہ ہونے کی وجہ سے مدارس کے معمول کے اخراجات میں پچیس تیس فیصد ہی کی کمی ہوتی ہے؛ اس لئے ہر مسلمان کا فریضہ ہے کہ وہ دین متین کے ان محافظین کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھائیں اور اپنے عمل سے ان کو بتائیں کہ وہ تنہا نہیں ہیں، پوری امت ان کی پشت پر ہے!” (شمع فروزاں – ١٦/١٠/٢٠٢٠)

20/10/2020

You might also like