Baseerat Online News Portal

اردوغان کے بیان “فرانسیسی صدر کو دماغی علاج کی ضرورت” بھڑکا فرانس، طیش میں ترکی سے بلا لیا اپنا سفیر

پیرس25/اکتوبر، خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کو اپنا دماغی علاج کروانے کی ضرورت ہے۔ اردوغان نے یہ بیان میکرون کے مسلمانوں اور اسلام سے متعلق رویے کے پس منظر میں دیا تھا۔ فرانسیسی صدر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘صدر اردوغان کا بیان قابل قبول نہیں ہے،غصہ و توہین کوئی طریقہ کار نہیں۔‘ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک فرانس اور ترکی کے درمیان شام، لیبیا اور ناگورنو قرہ باخ میں آرمینیا اور آذربائیجان سمیت کئی مسائل پر تناؤ موجود ہے۔

گذشتہ اتوار کو فرانس میں ایک استاد نے طلبہ کو پیغمبرِ اسلام سے متعلق خاکے دکھائے تھے جس کے بعد انھیں قتل کر دیا گیاتھا۔اس کے بعد فرانس حکومت نے وہاں کے مسلمانوں پر کریک ڈاؤن کر رکھاہے،عوامی سطح پر بھی مسلمانوں کو شدید نفرت و مخالفت کا سامنا ہے۔ اردوغان نے اس معاملے پر ایک خطاب کے دوران کہا کہ ‘میں ایسے رہنما کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں سے ایسا برتاؤ کرتا ہے۔ وہ پہلے دماغی علاج کروائیں۔’ انھوں نے سوال کیا کہ ‘میکرون نامی اس شخص کو اسلام اور مسلمانوں سے مسئلہ کیا ہے؟’

اردوغان نے مزید کہا کہ ‘میکرون کو دماغی علاج کی ضرورت ہے۔’ انھوں نے عندیہ دیا کہ انھیں امید نہیں کہ فرانسیسی رہنما سنہ 2022 کے انتخابات میں جیت سکیں گے۔ایک فرانسیسی حکومتی اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے ایف پی سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور انقرہ میں فرانسیسی اشیا کے بائیکاٹ کے مطالبات تشویش ناک ہیں۔ رواں ماہ میکرون نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسلام پوری دنیا میں ‘بحران کا مذہب’ بن گیا ہے اور ان کی حکومت دسمبر میں مذہب اور ریاست کو الگ کرنے والے 1905 کے قوانین کو مزید مضبوط کرے گی۔ انھوں نے سکولوں اور مساجد کی بیرون ملکوں کی سخت نگرانی کا اعلان کیا ہے۔

You might also like