Baseerat Online News Portal

کٹھمنڈو نیپال کی مدنی مسجد کی شہادت سےمسلمانوں میں غم کاماحول

انوارالحق قاسمی
ڈائریکٹر :نیپال اسلامک اکیڈمی

انتہائی دکھ اور تکلیف کے ساتھ آپ حضرات کو یہ اندوہ ناک اور جان کاہ خبر دے رہاہوں کہ آج بروز سنیچر،بتاریخ 24/اکتوبر 2020ء کودن کےاجالے اور سورج کی تپش میں فرقہ پرست عناصر نے نیپال کی راجدھانی کاٹھمانڈو کی ایک قدیم” مدنی مسجد”شہیدکردیاہے،یہ حادثہ یقینا مسلمانوں کےلیےانتہائی افسوس ناک اورغم ناک ہے۔
مدنی مسجد شہادت معاملہ کو لےکر مسلمانوں میں کافی غم وغصہ کاماحول دیکھاجارہاہے،ہربڑے چھوٹے اس سانحہ کی خوب خوب مذمت کررہےہیں۔
فقیہ زماں،متکلم اسلام حضرت مولانا مفتی محمد خالد صدیقی صاحب جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے نیپال نے کہا:کہ شرپسندوں نے مدنی مسجد کومحض توڑنے کی کوشش ہی نہیں کیا؛بل کہ اس کےبعض حصہ کوتوڑ بھی دیا،آج میں اس حادثہ کی مذمت کرتا ہوں، اس حادثہ سے ہم مسلمان ناراض اورمغموم ہیں، اور یہ بہت ہی افسوس کن معاملہ ہے ۔
حضرت نےمزید کہا :کہ ہم نیپال سرکار سے التماس کرتے ہیں، کہ وہ اس معاملے کی اچھی طرح تحقیق کرکےاس کےمجرموں کومثالی سزادے،تاکہ پھر آئندہ کسی کو اس کی جرأت بھی نہ ہوسکے۔
جمعیت علمائے نیپال کےمرکزی ممبر حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نے اس حادثے کےتناظرمیں کہا:کہ شرپسندوں کویہ کیسے جرأت ہوئی کہ وہ دن کےاجالے میں اور عوام کی نظروں کےسامنےایک قدیم اور تاریخی مسجدکوشہید کردیا۔
حضرت نے مزید کہا :کہ چند فتنہ انگیز انسان اب نیپال میں بھی ہندوستان کی طرح ہندومسلم کےمابین نفرت کی آگ لگاناچاہ رہے ہیں ،یہاں ایک زمانے سے ہندو مسلم کےمابین گرم اختلاطی رہی ہے ،اب تک یہاں ہندو ومسلم باہمی اخوت وہمدردی کے ساتھ زندگی بسرکئے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی باہمی اتحاد واتفاق ہی کےساتھ زندگی بسرکریں گے ،اور فتنہ انگیزوں کے فتنہ کوناکام کردیں گے ۔یقینایہ حادثہ ہم مسلمانوں کےلیےانتہائی افسوس ناک ہے،اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے بہت ہی کم ہے ۔
ہفت روزہ اردو اخبار صدائے عام نیپال کے نائب مدیراورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کےمتعلم حضرت مولانا محمد انعام عظیم تیمی صاحب نے کہا:کہ یہ حادثہ یقیناقابل مذمت ہے ،اب تک ہم نیپال میں ہندو اور مسلم ،سب ساتھ مل کر اور بھائی بھائی بن کررہےہیں ،یہاں اس طرح کے مذہبی اورتفرقہ بازی کوفروغ دینا،بہت ہی غلط بات ہے ۔
حضرت نے مزید کہا:کہ حکومت کوچاہیے کہ اس پر جلد سےجلد ایکشن لےاوربغیر کسی ہندو اور مسلم کاخیال کئے ہوئے اصل مجرم کوسزادے ،اور نیپال میں ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ہمیں ایک ساتھ مل کر اور اتحادویکجہتی کےساتھ رہنےکاموقع دے۔
حضرت مولانا مفتی محمد ابوبکر صدیق صاحب قاسمی نےکہا:کہ ہرمذہب کی اپنی عبادت گاہ ہوتی ہے اور مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد ہے،جسے مذہب اسلام میں شعائر اللہ کہاگیاہے،مسجد سے مسلمانوں کودلی محبت ہوتی ہے،مسجد اسلام کی پہچان اورعلامت ہے،مسلمان مسجد کی شہادت اور اس کی بےحرمتی قطعابرداشت نہیں کرسکتاہے۔
اس حادثہ سے ہم تمام مسلمانوں کوبےحدتکلیف پہنچی ہے ،ہم مسلمان مسجد کی حفاظت کے لیے اپنی جان بھی دےسکتےہیں۔
ناچیز :انوار الحق قاسمی ڈائریکٹر :نیپال اسلامک اکیڈمی بھی اس حادثے کی سخت مذمت کرتاہے ،اور حکومت نیپال سےہندومسلم کےمابین امن وامان کی فضا بحال کرنے کی درخواست کرتاہے،نیزحکومت نیپال سے یہ بھی اپیل کرتاہےکہ بہت ہی جلد مجرموں کےخلاف کاروائی کرےاور اصل ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔

You might also like