Baseerat Online News Portal

انتخابی وعدوں کے طوفان میں بہتے سرحدی خطے کے بنیادی مسائل ۔۔۔۔۔۔، سیاسی پارٹیوں کی جانب سے انتخابی موسم میں کئے جانے والے وعدوں پر بحث تیز

رکسول۔ 25/ اکتوبر ( محمد سیف اللہ )

ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول اور نرکٹیا کی سیاست کس موڑ پر جاکر رکے گی یہ تو کہا نہیں جا سکتا لیکن اس کا صحیح اندازہ اس بات سے بہت اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت یہاں کی فضاوں میں انتخابی وعدے ہی گونج رہے ہیں،ہر طرف 10 لاکھ اور 19 لاکھ نوکری پر عوام وخواص میں بحث شروع ہے اور اسی میں الجھ کر عوام نے اپنے بنیادی مسائل کو اس طرح منظر نامے سے غائب کر دیا ہے کہ نہ تو اپنے مسائل کو لے عوام میں کوئی جوش ہے اور نہ سیاسی لیڈران ان سب پر کوئی توجہ دینا یا بات کرنا ضروری سمجھ رہے ہیں،دلچسپ بات تو یہ ہے کہ انتخابی موسم میں عوام جن مدعوں پر اپنے ووٹ ڈالنے کی تیاریاں کر رہی تھی ان سب پر وعدوں کی برسات نے گہن لگا دیا ہے اور اب سارا سیاسی کھیل اسی میں الجھ کر رہ گیا ہے کہ کون اپنا وعدہ کس طرح پورا کر پائے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عظیم اتحاد کا یہ وعدہ سمجھ سے باہر ہے کہ وہ حکومت بننے کے بعد دس لاکھ نوکریاں کیسے دے گی،تو پھر این ڈے اپنے 19 لاکھ روزگار والے وعدے پر کس طرح عمل کر پائے گی کہیں یہ وعدہ پندہ لاکھ والے وعدے کی طرح جملہ تو نہیں بن جائے گا اس کے علاوہ ووٹ کے بدلے مفت ویکسین دیئے جانے کی بات پر بھی سرحدی خطے میں خوب سیاست ہو رہی ہے اور اس بات کو لے کر تمام ہی سیاسی پارٹیوں کے کارکنان میں جواب والزامی جواب کا سلسہ شروع ہے اور عوام کو یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ جس سرکار کے پاس لاک ڈاون کے موقع پر بہار کے لوگوں کو بہار لانے کے پیسے نہیں تھے،جو حکومت اپنے بہار کی عوام کو مصیبت کے دنوں میں معقول سہولیات مہیا نہ کراسکی وہ اپنے اس وعدے پر کیسے پورا اترے گی شاید یہی وجہ ہے کہ عوام کے دل میں پیدا ہونے والے سوالوں نے رکسول ونرکٹیا کے سیاسی ماحول کو پوری طرح دوحصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور عوام کی اکثریت کا رخ صاف بتا رہا ہے کہ وہ این ڈی کے وعدوں سے کسی بھی طرح مطمئن نہیں ہیں اس لئے وہ اقتدار کی تبدیلی کے لئے خود کو پوری طرح تیار کرنے میں مصروف ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر اس بار بھی انہوں نے کوئی غلطی کی اور بہار کے مفاد کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا تو ان کے مستقبل پر سیاہ چادر تن جائے گی اب سیاست کے اس کھیل کی کڑی میں آنے والے دنوں کے اندر کس کس طرح کے جوڑ توڑ ہوں گے یہ تو آنے والا وقت بتا ئے گا تاہم سر دست مجموعی طور پر یہ سمجھ لیا جائے کہ ابھی تک یہاں کا منظر نامہ پوری طرح صاف نہیں ہے اور اپنے اپنے وقار کی حفاظت کے لئے سارے ہی امیدواروں کو کڑی محنت کرنی پڑ رہی ہے،غور کیجئے تو صاف دکھائی دے گا کہ یہاں لال پیلے وعدوں کے سہارے عوام کا دل جیت لینے کا ایسا کھیل جاری ہے جو عام طور ماضی کے دنوں میں بہت کم دیکھا گیا ہوگا،ادھر ایک رپورٹ کے مطابق نرکٹیا سے عظیم اتحاد کے امیدوار ڈاکٹر شمیم احمد کی رابطہ مہم پورے زور وشور سے جاری ہے اور وہ اپنے کاموں کے حوالے دے کر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے اسمبلی حلقہ کی عوام کے لئے ماضی کے دنوں میں جو کام کیئے ہیں وہ چھپے ہوئے نہیں ہیں اس لئے مجھے امید ہے کہ فیصلے کہ گھڑی میں عوام انہیں نظر انداز نہیں کرے گی،اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ رکسول ونرکٹیا کی سیاست کا بازی گر کون بن پاتا ہے؟

You might also like