Baseerat Online News Portal

’دھرم کی راجنیتی‘ کافلسفہ

خبردرخبر:محمدشارب ضیاء رحمانی
بی جے پی اورآر ایس ایس لیڈروں کی طرف سے بارہاسناگیاہوگاکہ ہم’ دھرم کی راجنیتی‘ پریقین نہیں رکھتے ۔وزیراعظم سے لے کرمختارعباس نقوی تک یہ کہتے رہے ہیں کہ دھرم کی راجنیتی نے اقلیتوں کااستحصال کیاہے ۔ مرکزی وزیرمختارعباس نقوی نے کہاہے کہ سیکولرازم کو معاشرے سے جوڑنے کی بجائے ہمارے سیکولر ازم کے کچھ سیاسی سورماؤں نے اسے سیاسی استحصال کاہتھیاربنا لیا ہے جس کی وجہ سے سیکولرزم کی اصل آئینی روح مجروح ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیکولر ازم کا سیاسی استحصال اورسیاسی شگوفہ بندہوناچاہئے ، ہمیں ملک کے ثقافتی ورثے اورآئینی اقدار کی مضبوط راہ پرچلناچاہئے تاکہ ملک کے سیکولراورآئینی شکل کو محفوظ رکھاجاسکے۔نقوی نے کہاکہ ہندوستان کو دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم سیکولر ملک ہونے کااعزازحاصل ہے۔مختلف مذاہب،زبان،ملبوسات اورعلاقائی تنوع کے باوجود ہمارا ملک اورلوگ مذہبی فتووں،پیغامات سے نہیں،آئینی اقداراوراصولوں سے چلتاہے۔مرکزی وزیرکیایہ بتائیں گے کہ مذہبی احکام کیاآئینی اقداراورجمہوری روح کاحصہ نہیں ہیں مطلب یہ کہ آپ سیکولرزم کی کوئی بات نہ کریں،ہندتواکی کریں توٹھیک ہے،آئین میں درج لفظ سیکولرتک سے انہیں پریشانی ہے۔تویہ کس سیکولرزم کومعاشرہ سے جوڑنے کی بات کررہے ہیں؟۔ممکن ہے کہ ان کے کہنے کامطلب یہ ہوکہ مختلف مذاہب اورعلاقائی تنوع توہمارے ملک میں کہلانے بھرتوہولیکن ان مذاہب کے پیروکاروں کوان راستوں پرچلناہوگاجن پرسنگھ پریوارچلاناچاہتاہے۔یعنی اپنے مذہبی تشخص،عقائداورمذہبی آزادی کوبالائے طاق رکھ کر،ان چیزوں سے لاتعلق ہوکرہندتواکے ایجنڈے کوتسلیم کرناہوگا۔حالانکہ مذہبی خودمختاری اورشہری آزادی کے جمہوری حقوق کامطالبہ توملک کے ثقافتی ورثے اورآئینی اقدارسے ہم آہنگ ہے۔جبکہ جس ہندوتواکی راہ پرسنگھ پریوارچل رہاہے ،اس سے آئین کی اصل روح مجروح ہورہی ہے۔
یہ خوبی ’’جملہ بازوں‘‘ کی رہی ہے کہ وہ جوکچھ کہتے ہیں ،آسانی کے ساتھ اس کوسمجھنامشکل ہوتاہے ۔ان کے من کی بات وہ نہیں ہوتی جوکہی جاتی ہے ۔اگردھرم کی راجنیتی پروشواس نہ رکھنے کی بات کا مطلب ’’ سب کاساتھ سب کاوکاس‘‘ہوتاتوعلی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے ’مسلم ‘نام سے انہیںپریشانی نہیں ہوتی،جامعہ ملیہ کے اقلیتی کردارپرہاتھ نہ ڈالے جاتے،اقلیتی اداروں پرنظربدنہ ڈالی جاتی حالانکہ آئین نے بتایاہے کہ کسی بھی اقلیتی ادارہ کی سرکاری امداداس کے اقلیتی کردارکی وجہ سے نہیں روکی جاسکتی۔سیکولرزم اورہندتوادونوں ایک دوسرے کی ضدہیںتوپھرجس پارٹی کے ایجنڈے میں ہندتواکے منصوبے ہوں،وہ سب کے ساتھ کے بارے میں توسوچ سکتی ہے سب کے وکاس کے بارے میں نہیں سوچ سکتی،یااگرسوچے گی بھی توان کے ہندتوایجنڈے کوتسلیم کرلیجئے توپھرسب کے وکاس کے دائرئہ کارمیں آپ شامل ہوسکتے ہیں۔
سنگھی لیڈران کے اس لفظ کاآسان ترجمہ یہ ہے کہ کسی اقلیتی طبقہ کے مفادکی کوئی بات نہ کی جائے،ان کی پسماندگی کے حوالہ سے کوئی قدم ووٹ بینک اوران کے حقوق کی وکالت دھرم کی راجنیتی ہے۔ آئین کے ذریعہ اقلیتوں کودی گئی مذہبی خودمختاری ان کیلئے ناقابل برداشت ہورہی ہے،آئین کی دفعہ 30سے چھیڑچھاڑکاارادہ اسی کاعکاس ہے۔وہ مذہب کے نام پرفوج کی تشکیل کرلیں،مذہب اورعلاقیت کی بنیاد پردہشت گردوں کادفاع کریں،ہندتواکے ایجنڈے کوملک پرتھوپ دیں،یوگا،سوریہ نمسکار،گیتا،رام مندر،گئوکشی جیسے شوشے چھوڑکرایک خاص دھرم کوملک پر،اس کے تمام طبقات پرلاد دیاجائے اورکوئی کچھ نہ کہے تویہ کہلائے گا’’سب کاساتھ سب کاوکاس‘‘۔ایس سی ،ایس ٹی میں مذہبی بنیادپرمسلمانوں کوشامل نہ کرکے انہیں ریزرویشن سے محروم کردیاجائے اورجب مسلمانوں کے ریزرویشن کی بات آئے تودلیل یہ ہوتی ہے کہ ’مذہب کی بنیادپرریزرویشن نہیں دیاجاسکتا ‘اسی طرح اگرکوئی دلت مسلمان ہوجاتاہے تووہ ریزرویشن سے محروم ہوجائے گا،تومذہب کی بنیادپرحقوق سے محرومی کیوں نہیں ہے؟۔مطلب یہ کہ مذہب کی بنیادپر ریزرویشن نہیں دیاجاسکتالیکن مذہب کی بنیادپرریزرویشن سے محروم کیاجاسکتاہے ،یہ دھرم کی راجنیتی نہیں ہے؟۔
(بصیرت فیچرس)
*مضمون نگاربصیرت میڈیاگروپ کے فیچرایڈیٹرہیں۔

You might also like