Baseerat Online News Portal

دنیا ایک بار پھر کرونا وائرس کی دوسری لہر کے لیے تیار ہو جائے ،نئے لاک ڈاؤن متوقع

لندن: دنیا بھر میں کرونا وائرس کی نئی لہر کے شدت اختیار کر جانے کے بعد مختلف ملکوں میں پابندیاں دوبارہ سخت کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ وائرس کو پھیلاؤ سے روکا جا سکے۔برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے جمعہ کے روز بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوے کہا ہے کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں عائد کرنا غیر یقینی ہو گا اور اس کی بجائے مقامی سطح پر اقدامات زیادہ اہم ہوں گے بشرطیکہ لوگ ہدایات پر پابندی کے ساتھ عمل کریں۔برطانوی وزیر خارجہ کے اس بیان سے قبل فرانس اور جرمنی کے سربراہوں نے نئی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔فرانس کے صدر ایمینوئل میخوان نے ایک ماہ کے لیے ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریستوران، شراب خانے، کیفے اور دیگر غیر ضروری کاروبار مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے اور لوگ صرف کام کے لیے یا خریداری اور ڈاکٹروں کے ساتھ ملاقات اور تشخیص کے لئے باہر نکل سکیں گے۔جرمن چانسلر اینگلا مرکل کا کہنا تھا کہ ایسی ہی پابندیاں ان کے ملک میں بھی پیر کے روز سے ایک ماہ کے لئے نافذ کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریستوران اور شراب خانوں کے علاوہ ورزش گاہیں، سنیما گھر اور اوپرا ہاؤسز بھی بند کیے جا رہے ہیں جب کہ متعدد کارباروں، دکانوں اور ہیئر سیلونز کو کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔ تاہم ان دونوں یورپی ممالک میں سکول کھلے رہیں گے۔فرانس اور جرمنی بھی دیگر یورپی اقوام میں شامل ہو گئے ہیں جنہیں کرونا وائرس کی دوسری شدت پکڑتی لہر سے نمٹنے کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنا پڑ رہی ہیں۔ یورپ میں موسمِ سرما کا آغاز ہو چکا ہے۔یوکرین میں جمعہ کے روز پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 8,312 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس ملک میں کرونا وائرس کے متاثرین کی کل تعداد تین لاکھ 78 ہزار 729 تک پہنچ گئی ہے جب کہ اس سے ہونے والی اموات بھی سات ہزار 41 ہو گئی ہے اور پچھلے 24 گھنٹوں میں ایک دن میں 173 کی ریکارڈ تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔جاپان میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملک میں جنوری میں کرونا کے پہلے مریض کی اطلاع ملنے کے بعد کووڈ۔19کے مریضوں کی کل تعداد ایک لاکھ اور اموات کی تعداد 1,700 سے تجاوز کر گئی ہے۔ دنیا بھر میں جمعے کی صبح تک کوووڈ-19 کے مریضوں کی کل تعداد 45 ملین سے تجاوز کر گئی تھی اور ایک اعشاریہ 18 ملین افراد ہلاک ہوے تھے۔ بھارت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد آٹھ ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ تاہم امریکہ آج بھی آٹھ اعشاریہ 94 ملین کیسز کے ساتھ دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔ایسے میں جب کہ کرونا وائرس کے خلاف ایک محفوظ اور موثر ویکسین کی تیاریاں جاری ہیں، صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ امریکہ میں ہر کسی کو یہ ویکسین دستیاب ہو۔

You might also like