Baseerat Online News Portal

راجستھان حکومت نے زرعی قانون کو ختم کرنے کے لیے بل پیش کیا

جے پور: راجستھان کی کانگریس حکومت نے ہفتہ کوجے پورمیںاسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا۔ اس سیشن کو مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خاتمے کے لیے بلایاگیاتھا۔ اس کے تحت 6 بل ایوان میں رکھے گئے ۔ اسمبلی امورکے وزیرشانتی دھاری وال نے ایوان کے پٹل پرکچھ بڑے بل متعارف کروائے ، جو مندرجہ ذیل ہیں: زرعی پیداوار تجارت اور تجارتی فروغ راجستھان ترمیمی بل 2020 ، کسانوں کی بااختیاری اور تحفظ سے متعلق معاہدہ ، قیمت کی ضمانت اور زرعی خدمات راجستھان ترمیمی بل 2020 ، خصوصی دفعات اور راجستھان ترمیمی بل 2020 اور کوڈ آف سول پروسیزرراجستھان ترمیمی بل 2020۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسمبلی اجلاس کے پہلے دن ضابطہ اخلاق (راجستھان ترمیمی) بل 2020 کو بھی پیش کیا۔ اس کے بعد ایوان میں سابق صدر پرنب مکھرجی اور دیگر مرحوم قائدین کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اظہار تعزیت کے بعد اسمبلی 2 نومبر یعنی پیر تک ملتوی کردی گئی ہے۔اسی دوران حزب اختلاف کے لیڈرراجیندرسنگھ راٹھور نے کہاہے کہ جب مرکزی حکومت نے قانون بنایا ہے ، تب ریاستی حکومت کے ذریعہ بل لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بی جے پی لیڈر اور ایم ایل اے مدن دلاور نے کہاہے کہ کانگریس مرکزکے زرعی قوانین کے خلاف ایک بل لاچکی ہے تاکہ اس کے دھندلاہٹ کو دور کیا جاسکے۔ یہ سب راہل گاندھی کے کہنے پرکیاجارہاہے۔دوسری طرف راجستھان کے سینئر کابینہ کے وزیر پرتاپ سنگھ کھچاریواس نے کہاہے کہ بی جے پی بہت ہی انا پرست ہوگئی ہے۔ انہیں قانون لانے سے پہلے کسان تنظیم سے بات کرنی چاہیے تھی۔ ریاست کو مرکزی حکومت کے قانون کے خلاف بل لانے کا حق ہے۔ اس قانون کا مقصد کسانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ تاکہ انہیں ایم ایس پی مل سکے۔ بل میں سزاکابھی بندوبست ہے۔

You might also like