Baseerat Online News Portal

جالے کے لوگ سیکولرزم کے استحکام کے لئے مشکور عثمانی کو ووٹ کریں ۔۔۔۔ بہار کی سر گرم تنظیم پیام انسانیت ٹرسٹ کے صدر مولانا فیضی کی پرزور اپیل

جالے۔ یکم نومبر (پریس ریلیز )  

ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور سیکو لر کردار کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتا ہے، اگر اسے فرقہ پرستی کی چادر میں لپیٹ کر اس کی شاندار تاریخ کو مٹانے یا اس کے کردار کو مسخ کر نے کی سازش رچی گئی تو پھر اس ملک کو ٹوٹنے سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا اس لئے میں جالے اسمبلی حلقہ کی عوام سے کہوں گا کہ آپ ملک کے سیکولرزم کی بقا کے لئے پوری قوت کے ساتھ عظیم اتحاد کے امیدوار کو ووٹ کریں تاکہ فرقہ پرستی کے سہارے جالے میں جیت حاصل کرنے والے لوگوں کے منصوبے ناکام ہو سکیں یہ باتیں پیام انسانیت ایجو کیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے صدر اور اسلامک مشن اسکول جالے کے ڈائریکٹر مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی نے آج جالے ہاٹ پر عظیم اتحاد کے امیدوار مشکور عثمانی کی انتخابی مہم کو منظم رکھنے کے لئے قائم آفس میں حاضری کے موقع پر آفس انچارج شریف الرحمن عرف شاداب کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کے دوران اپنے اخباری بیان میں کہیں،انہوں نے کہا کہ جالے کی سیاسی جنگ کو جیتنے کے لئے جس طرح پورے اسمبلی حلقہ میں فرقہ پرستی کاکھیل جاری ہے اور جس خاموشی کے ساتھ سیکولر ووٹوں میں سیند ماری کی کوشش ہو رہی ہے اس میں یہاں کے سیکولر طبقہ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ سماج کو بانٹنے کی سازش اگر کامیاب ہو گئی اور ہم آنکھ بند کرکے سارا منظر دیکھتے رہے تو ہمارے سارے سپنے دم توڑ دیں گے،بتادیں کہ اس ملاقات کے دوران محمد شاداب نے تمام پیش رفتوں پر تفصیل سے گفتگو کی اور کہا کہ جالے میں عظیم اتحاد کے لئے جو ہنگامی مہم جاری ہے اس سے ان کی کامیابی کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملک کے جمہوری منظر نامے میں جس ڈھٹائی کے ساتھ سیاست کے نام پر خالص مذہبی نظریہ کو پنپنے کا موقع دیا جا رہا ہے اگر اس کو روکنے کی مشترکہ جد و جہد نہ کی گئی اور سماج کے سنجیدہ طبقہ نے حالات کی سنگینی کو قریب سے محسوس نہ کیا تو آنے والے دنوں میں اس کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے ،انہوں نے کہا کہ اس ملک کو گاندھی کی نگری کہا جاتا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ گاندھی جی کے نظریہ عدم تشددکے راستے پر چل کر ملک کے لئے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کی جائے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کے اشارے عظیم اتحاد کے حق میں ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہاں کے لوگ پہلے کی طرح کسی عجلت سے کام نہیں لیں گے اس موقع پر مولانا فیضی نے کہا کہ مایوسی اور افسردگی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی بلکہ بڑی کامیابی کے لئے جالے کے لوگوں کو پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ جرآت مندانہ  فیصلے کا مظاہرہ کر نا ہوگا تب ہی جالے کے اندر کسی پر امن سیاسی انقلاب کی آمد کا امکان پیدا ہو سکتا ہے،انہوں نے کہا میں جانتاہوں کہ اس وقت بہار کی عوام کے ایک بڑے طبقہ کا مزاج تخریبی ہو چکا ہے اور وہ اقتدار کے لئے فرقہ پرستی کی بھٹی پر اپنے انا کی روٹی سینکنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن میں بار بار آپ کو یاد دلاونگا کہ بہار کے سیاسی استحکام کے لئے فرقہ پرستی کا جواب فرقہ پرستی سے دینے کی بجائےمسلمانوں کو مضبوط سیاسی حکمت عملی تیار کر نی ہو گی تاکہ بہار کو سیاسی بحران کا شکار ہو نے سے بچا یا جا سکے،انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول میں جالے کی عوام کا فرض ہے کہ وہ عظیم اتحاد کو ووٹ دے کر قابل رشک سیاسی انقلاب کو یقینی بنانے کا عزم کریں ،پیام انسانیت کے صدر نے کہا کہ بہار کا الیکشن اس وقت جس موڑ پر کھڑا ہے اس میں ہماری تھوڑی سی غلطی کسی بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اس لئے ووٹنگ کے معاملے میں ہمیں بہت ہی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ووٹوں کے انتشار سے خود بچائے رکھنے کی عملی جد وجہد بھی کرنی ہوگی،انہوں نے کہا کہ آج بھلے ہی بہار کی پر امن فضا کو فرقہ پرستی کے زہر سے آلودہ کر نے کی سازش چل رہی ہو مگر میں کہونگا کہ موجودہ وقت میں سیکولر ووٹوں کا اتحاد ہی فرقہ پرستی کا سب سے موثر جواب بن سکتا ہے اس لئے میں ہر سیکولر مزاج رکھنے والے افراد سے کہوں گا کہ بہار کو فرقہ پرستی کی لعنت سے بچانے کے لئے جالے میں عظیم اتحاد کے امیدوار ڈاکٹر مشکور عثمانی کو ووٹ دیں،انہوں نے کہا کہ اس وقت جالے کے اندر چمکدار وعدوں کے سہارے کئی پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹ کی طرف للچائی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں جس سے جالے کے موجودہ سیاسی پس منظر میں سیکولر ووٹوں کے انتشار کی بنیاد کھڑی ہے ظاہر ہے کہ اگر مسلمانوں کے انتشار سے جالے کی سیاست پر فرقہ پرستی غالب آگئی تو اس کی وجہ سے جالے کی عوام کو بڑی بھاری قیمت چکانی پڑے گی ،اس لئے میں یہاں کے سنجیدہ و دور اندیش مسلمانوں سے کہونگا کہ وہ عظیم سیکولر اتحاد کو ہر ممکن تعاون دے کر فرقہ پرستوں کے خلاف لڑی جارہی جنگ کو انجام تک پہو نچا نے کا فرض پورا کریں ،انہوں نے کہاکہ بہار کی سر زمین ہمیشہ سے فرقہ پرستوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں پیش پیش رہی ہے لیکن آج ہمارے سامنے حالات بڑے تشویشناک ہیں جو ہم سے بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ،اگر ایسی صورت حال میں بھی مسلم قوم نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو اس کے بھیانک نتائج یہاں کی فضا کو مکدر بنا دیں گے ۔

You might also like