Baseerat Online News Portal

سرحدی خطے کے تمام ہی امیدواروں نے جیت کے لئے جھونکی طاقت ۔۔۔۔۔۔ ایک سروے کے مطابق مسلم ووٹوں کا رخ ہی طے کرے گا نیتاؤں کا مقدر

رکسول۔ یکم نومبر ( محمد سیف اللہ)

ہند نیپال کی سرحد پر واقع رکسول،نرکٹیا اور سگولی اسمبلی حلقہ میں آج پورے دن سیاسی ماحول گرم رہا اور تمام امیدواروں کے علاوہ کارکنان نے بھی عوامی رابطہ مہم میں اپنی طاقت جھونکی،چونکہ ان تینوں حلقوں میں مقابلہ سخت ہے؛ اس لئے یہاں کے مختلف علاقوں سے آنے والی اطلاعات کے مطابق تمام ہی امیدواروں کو سخت محنت کرنے کے ساتھ عوام کے چبھتے سوالوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے پرانے امیدوار جہاں اپنے کام کی تفصیلات بتاکر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی فراق میں ہیں، وہیں نئے امیدواروں نے وعدوں کی جھڑی لگا رکھی ہے، اب عوام کس پر اعتبار کریں گے یہ تو وقت بتائے گا؛ لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس مرتبہ کے انتخاب میں عوام کا جو غیر واضح رخ ابھی تک رہا ہے اس سے کوئی بھی اپنی جیت کا دعوی کرنے کی ہمت نہیں جٹا رہا ہے یہاں تک سیاسی ماہرین بھی ابھی تک عوامی مزاج کا صحیح رخ سمجھنے میں ناکام ہیں خاص طور پر مسلمان طبقہ نے جو خاموشی اختیار کر رکھی ہے اس سے سب کے پسینے چھوٹے ہوئے ہیں اس کی صاف وجہ ہے کہ ایک طبقہ کو جہاں بہار کے نتیش کا چہرہ قابل اطمینان دکھائی دے رہا اور وہ ایک بار انہیں ایک موقع دینے کی کوشش میں ہیں، وہیں دوسرا طبقہ بہار میں سیاسی بدلاو کی امید کے نام پر عظیم اتحاد کے ساتھ کھڑا ہے ان کا کہنا ہے کہ بھلے ہی بہار میں نتیش کمار نے اپنے پندرہ سالوں کے ابتدائی دور میں اچھے کام کے سہارے عوام کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی رہی ہو؛ مگر پچھلے پانچ سالوں میں انہوں نے بہار کو ترقی وخوشحالی کے میدان میں جتنا پیچھے کر دیا ہے وہ ہمارے لئے مایوس کن ہے؛ اس لئے بدلاو کے بغیر بہار ترقی کی پٹری پر نہیں آسکتا،عوام کا ایک بڑا طبقہ لاک ڈاون اور سیلاب کے دنوں میں سرکار کی اندیکھی سے بھی کافی ناخوش ہے اور جب  سے ووٹنگ کے بارے میں کوئی سوال ہوتا ہے تو بس یہی جواب دیتا ہے کہ جو لوگ مصیبت کے دنوں میں ہمارے ساتھ کھڑے نہیں تھے ان پر اعتبار کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ آج جب اس نمائندہ نے رکسول اور نرکٹیا کے کئی دیہی علاقوں میں پہنچ کر لوگوں سے ان کے ارادوں کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو زیادہ تر لوگ اگر چہ جواب دینے اور اپنا موقف بتانے سے کتراتے رہے؛ مگر بعض لوگ وہ تھے جنہوں نے کھل کر اپنی بات رکھی اور کہا کہ اب وقت بدلاو کا ہے اس لئے ہم اسی امید پر اپنا ووٹ ڈالیں گے جب ان سے سیاسی لیڈران کے وعدوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے پرانے وعدے پورا نہ کر سکے ان کو نئے وعدوں کے سہارے ہمارے بیچ آنے کا کوئی حق نہیں،انہوں نے کہا کہ رکسول سمیت پورا سرحدی خطہ جب پندرہ سالہ جے ڈی یو کے دور اقتدار میں نہیں بدلا تو اب ان سے امید کرنا سوائے نادانی کے اور کچھ نہیں،بتادیں کہ اپنے سروے کے لئے جاری سفر میں میری ملاقات رکسول سے عظیم اتحاد کے امیدوار رام بابو یادو سے ہوئی انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی آواز رکسول کی عوام تک پہونچا دیا ہے اب فیصلہ ان کے ہاتھوں میں ہے؛ تاہم میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہاں کی عوام نے مجھ پر اعتماد کر کے اپنی خدمت کے لائق سمجھا تو ہم یہاں کے لوگوں کو بناوٹی وعدوں میں الجھا کر مایوس نہیں کریں گے،انہوں نے کہا میرا تعلق جس پارٹی سے ہے اس نے کبھی بھی اپنے مفادات کے لئے جھوٹے وعدے نہیں کئے، میں یہاں کا بیٹا ہوں اور رکسول کی بامعنی ترقی کے لئے کام کرنا میرا بنیادی فرض ہے انہوں نے کہا کہ جو لیڈر برسوں سے رکسول کی عوام کو دھوکہ دیتا رہا اسے بتانا چاہئے کہ آخر رکسول اتنی پستی کا شکار کیوں ہے اور آخر کیا وجہ ہے کہ آج تک اسے منفرد شناخت نہیں مل سکی۔

You might also like