Baseerat Online News Portal

ایجو کیشن پالیسی 2020ء اورعربی مدارس ومکا تب

از:(مفتی)محمد اشرف قاسمی ۔
مہد پور،اجین ایم پی۔

مدارس کاحقیرخا کروب اورعلماء اسلام کا ادنی کفش بردار ہونے کی حیثیت سے ایجوکیشن پالیسی 2020ء کے سلسلے میں ارباب حل وعقد مسلمانوں کی خدمت میں اپنے کچھ خیالات پیش کرنااپنا دینی وملی فریضہ سمجھتا ہوں۔ امید ہے ان پر سنجیدگی سے غور کیاجائے گا۔
(الف)یہ ایجو کیشن پالیسی(لائحہ عمل)ہے.(پالیسی، بل،ایکٹ کے درمیان فرق اور ان سب کی الگ الگ قانونی حیثیت کو سمجھنے کے لیے کسی اچھے لائیرسے مشورہ کرنامناسب ہے)۔
اس پالیسی کے ذریعہ خاص مذہبی فکرورنگ کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ کسی مذہب کانام ذکر کیے بغیر ملک کی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جس میں بڑے بڑے عبادت خانوں،عالیشان محلات وقلعوں کوبیان کرکے ملک کو سونے کی چڑیا بتا یا گیاہے۔اس پالیسی کے تحت اسلام آ نے کے بعد تا ریخ کے دوسرے حصے کی شروعات ہوتی ہے۔ جس میں ان قدیم بڑے محلا ت وقلعوں اور عبا دت خانوں کی تخریب اور انہدام کو اسلامی ناموں والے سیاسی وفوجی کرداروں کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔اس طرح بالواسطہ طور پریہ بتانے کی کو شش کی گئی ہے کہ اسلام آنے سے قبل یہ ملک بہت ترقی یا فتہ تھا۔ اوراسلام آنے کے بعد ملک میں انارکی وفساد کی ابتداء ہوئی۔
ملک کی مجمو عی آ بادی کا ستا ئیس فیصدحصہ”صفر سے لے کر14/ سال تک کی عمر“والے کم سن بچوں پر مشتمل ہے۔ اور اس پالیسی میں درجہ اول سے بھی نیچے کے درجات کانظم کیا گیاہے۔ اس نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے بچے یعنی ملک کا ستائیس فیصد حصہ چند سالوں میں اپنے خا ندانی تہذیب وتمدن اور مذہبی اثرونفوذ سے اُکھڑ کرخاص رنگ میں رنگ جائے گا۔ اس نظام کے تحت ملک کی نئی آ بادی میں اسلام اورمسلمانوں کے تعلق سے عداوت ودشمنی کوفروغ ملے گا اور مسلم بچے احساس کمتری کا شکار ہوں گے(نعوذ باللہ منہ)۔ لیکن مسلمانوں سے کہیں زیادہ اس کا منفی اثراوبی سی، ایس سی، ایس ٹی، آدِواسی، لِنگایت اور دوسری اقلیتوں پر پڑے گا۔جس سے ان کی پہچان ختم ہو جائے گی۔ غلامی کے بجائے آ زاد زندگی جینے کے لیے آدیواسیوں نے ہزاروں سالوں سے خانہ بدوشی اورجفا کشی کی زندگی اختیارکی ہوئی ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں ان کا ذہن بدل جائے گا۔ کیوں کہ اسکولی نظام کے علاوہ ان اقوام کے پاس ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی دوسرا نظام موجودنہیں ہے۔
(ب)جمہوری وبنیادی آ ئین کے خلاف ہونے کے باوجود اِس پالیسی میں مدارس ومکاتب سے تعارض نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ یہ پالیسی محکمۂ تعلیم سے منظور شدہ تعلیمی اداروں کے لیے ہے۔پورے ڈرا فٹ میں دوجگہ مدرسہ کا نام آ یا ہے۔ ان ناموں کے ساتھ مدارس کے وجوداوران کی حیثیت(Validity) کو یہی نہیں کہ تسلیم کیا گیا ہے۔ بلکہ ان کے لیے مواقع بیان ہوئے ہیں۔درج ذیل عبارت کو بغورپڑھا جائے۔
3.6: To make it easier for both governments as well as non-governmental philanthropic organizations to build schools to encourage local variations on account of culture,geography and demographics and to allow alternative models of education,such as gurukulas, paathshaalas, madarsaas, and home schooling, the requirements for schools will be made less restarictive. the focus will be to have less emphasis on input and greater emphasis on output potemtial concerning desired learning outcomes.
اس لیے اربا ب حل وعقد مسلمانوں سے التماس ہے کہ پالیسی کے منافع ومضرات کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے مضر پہلووں کو ختم کرنے وکرانے کی سعی کریں۔ اس پالیسی میں مدارس دفاعی پوزیشن کے بجائے اپنے تشخصا ت وامتیازات کے لیے اقدامی کوششوں کے مجازہیں۔
(ج) مسلمانوں کواس ایجوکیشن پالیسی کی مضرات سے محفوظ رہنے کے سلسلے میں عرض ہے کہ شاید قانونی طور پر ایسا ہے کہ کوئی پالیسی اگرخلافِ قانون ہوتو اسے عدالت میں چیلنج کیاجاسکتا ہے۔ یہ پالیسی ملک کی سیکولرازم اورجمہوری قانون کے خلاف ہونے کے ساتھ ہی ملک کی اکثراقوام کی مذہبی، تہذیبی، خاندانی روایات کو نظرانداز کرتے ہوئے (کسی مذہب کانام ذکر کیے بغیر)ایک ہی نظریہ اور مذہب کو فروغ دینے والی ہے۔اس لیے ملک کے قوانین اوربنیادی آ ئینی حقوق سے فا ئدہ اٹھا کر اس کومسترد کرایاجاسکتاہے۔ عدالتوں کے بعض نامنا سب فیصلوں سے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ عدالتی کاروائی کے لیے کسی مسلم تنظیم یا ادارے کو آ گے نہیں آ نا چاہئے،بلکہ ملک کے کمزور طبقات کوآ گے رکھ کرعدا لتی کاروا ئی کرنی چاہئے۔ اس معاملے میں کمزور طبقات کے بجائے عربی اردوناموں سے موسوم مسلم اداروں کو آ گے رکھنے میں زیادہ نقصانات ہوں گے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کمزور طبقات میں جوپڑھے لکھے لوگ ہیں وہ مسلمانوں کو اپنے لیے حفاظتی دیوار سمجھ کراوربناکرراحت کی زندگی گزارناچاہتے ہیں۔اس موقع پر مسلم یاعربی،اردو ناموں سے موسوم اداروں کو آ گے آ نے سے وہ غفلت کا شکارہوکراپنے اصل دشمن کی شناخت کی کوشش بھی نہیں کر سکیں گے۔ کمزورطبقات کو آ گے رکھنے سے جہاں اس پالیسی کے مسترد کیے جانے کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔وہیں کمزورطبقات کوملک کے تخریب پسندعناصر کی شناخت میں بھی مددملے گی۔
نیز تاریخ کو قدیم وجدید خانوں میں تقسیم کرکے مشرکا نہ فکر وخیال کوفا ئق اوراسلام یا مسلمانوں کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے اس کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔کیوں کہ اسلام آنے کے بعد ہزاروں سال سے ستائے جانے والے مظلوموں کو انسانی حقوق وتحفظات ملے۔ جو شاطر طبقہ باشندگانِ ہند کو جانوروں سے بد تر غلام بنائے ہوئے تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کسی کی غلامی نہیں کرتے اور ساتھ ہی ہزاروں سال سے غلامی کی چکی میں پِسنے والوں کی آ زاد ی میں معاون ومدد گار بنے ہوئے ہیں۔ یعنی اس شاطر طبقہ کو اسلام اور مسلمانوں سے اس لیے بھی چِڑ ہے کہ مسلمان ان کے غلاموں کو آ زادی کا راستہ دِکھا رہے ہیں۔
تاریخ کی تقسیم ودرجہ بندی کے ذریعہ انھوں نے ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم لوگوں کو بتلائیں کہ اسلام آ نے سے قبل کچھ لوگ یہاں کے انسانوں کو گدھا،ڈھور، نگاڑا، ڈھول کی طرح مانتے اورجانوروں سے بدتر سمجھتے تھے۔ انسانوں کو جانوروں سے بدتر سمجھنے والا وہی طبقہ ملک کے تعمیری مدَّعوں کو چھوڑ کرمسلمانوں کے در پہ آ زار ہے۔اس سلسلے میں دوکتابوں کا مطالعہ کا فی مفید رہے گا۔
(1) دَلت سمسیا، جڑمیں کون؟ مصنفہ:انتظار نعیم۔ (2) آتنکواد کی جڑ، منوواد۔ مصنفہ:ایم اے چودھری۔
(د) مدارس ومکا تب کے سلسلے میں عرض ہے کہ اس پالیسی میں مدارس ومکا تب محفوظ ہیں۔ اس پالیسی میں درسی کتب اور مواد خاص مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ لیکن”مواد کو کسی بھی زاویہ نظر سے سمجھا نے کے لیے معلم آ زاد ہے“۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کو سامنے رکھ کر ان کی بے وقعتی کو ثابت فرمایا۔ اسی سنتِ ابراہیمی کے مطابق معلم اپنی سمجھداری سے نصاب میں موجود مشرکانہ وغیر اسلامی اثرات وفتنوں سے یہی نہیں کہ بچوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے،بلکہ غیراسلامی فکر کے خلاف بچوں کی اچھی ذہن سازی بھی کرسکتا ہے۔ اس پالیسی میں اسکولوں کی منظوری کے لیے آسانیاں دی گئی ہیں (5.10:)۔ اوراعدادایہ، ابتدائیہ،ثانویہ،وسطانیہ، علیا،وغیرہ تعلیمی مواقیت نئے سرے سے مقرر کیے گیے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ دسویں/بارہویں پاس لڑکیوں اورلڑکوں کو شش ماہی وسالانہ تدریب المعلمین کا سارٹیفکیٹ کورس بھی شروع کرنے کا منصوبہ ہے(3.5:)۔ اوران تدریب المعلمین کی اسناد کی بنیاد پرنیچے درجا ت کے اسکولوں اور کوچنگ سینٹرس کو آ سانی سے منظوری دینے کی بات بھی کہیں گئی ہے۔ نیز شہروں اور آ بادیوں میں رہا ئشی مکانات کے انتظام اور ان رواق(Hostel) میں رہنے والے طلباء کی تعلیم وتربیت کا نظام بھی بتایاگیاہے (6.10:)۔ اسی کے ساتھ اتالیقی اورکو چنگ کلاسز قائم کرنے کا نظام اور خا کہ اس پا لیسی میں پیش کیا گیا(5.10:)۔ ارباب مدارس یہ کرسکتے ہیں کہ:اسکولی طلباء کوشرعی پابندی کے ساتھ مدرسوں میں مفت رہا ئش فرا ہم کریں۔ اور اخراجات پوری کرنے کے لیے قیمتا مدرسہ سے ان کے کھانے کاانتظام کیاجائے۔ اور اسی کے ساتھ ان کی دینی تربیت کے لیے ایک سالہ/دوسالہ کوئی دینی نصاب ایک گھنٹہ یومیہ شروع کیا جائے۔متعینہ نصاب پاس ہونے پر انھیں سارٹیفکیٹ بھی دی جائے۔ اورعالمیت وغیرہ درجات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء وطالبات کے لیے نیشنل انسٹِٹیوٹ آ ف اوپن اسکولنگ (NIOS)کے ذریعہ دسویں اوربارہویں کے امتحانات دلانے کا انتظام کیا جائے۔تا کہ دسوں/بارہویں کی ما رکشیٹ کی بنیاد پر حکومت کی طرف سے شروع ہونے والے ششما ہی یا سالانہ تدریب المعلمین سارٹفکیٹ کورس پاس کرکے وہ چھوٹے چھوٹے اسکو لس یا کوچنگ کلا سز شروع کر سکیں۔ فقط والسلام
کتبہ: محمد اشرف قاسمی
خادم الا فتاء:
شہر مہد پور، اجین ایم پی۔
شب ایک بجے،
18/اکتو بر2020ء
[email protected]

You might also like