Baseerat Online News Portal

لبرل طرز سیاست اور عالم گیریت کا فتنہ! عمر فراھی۔۔۔

لبرل طرز سیاست اور عالم گیریت کا فتنہ

عمر فراھی۔۔۔

مسلمانوں کے علاوہ دنیا کی تمام قوموں میں حرام وحلال کا کوئی تصور ہے بھی تو وہ اب باقی نہیں رہ گیا ہے ۔اسی لئے دنیا کی تمام قوموں نے انسان ساختہ جدید لبرل سرمایہ دارانہ نظام کو پوری طرح اپنی نجات اور مساںُل کا حل تصور کر لیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نظام سیاست کو کرہاً جبراً یا راضی خوشی اور ناواقفیت کی بنیاد پر مسلم امہ نے بھی قبول تو کرلیا ہے لیکن وہ ابھی تک حرام و حلال کے معاملے میں قیاس وگمان اور انتشار کی کیفیت کی شکار ہے -یوں کہا جاےُ کہ لبرل ڈیموکریسی کے جو اصول و آداب ہیں اس ماحول سے دیگر قوموں نے اگر فلاح وبہبود کے مواقع نکال لئے ہیں یا انہوں نے اس نظام کی تمام خرابیوں کے ساتھ اسے قبول کر لیا ہے تو اس لئے کہ وہ اپنے ہر مرض کا علاج حکمت اور حکم الٰہی کی بجائے ٹکنالوجی اور ویکسین میں تلاش کرتے ہیں۔
کچھ سال پہلے جب ہم نے لکھا تھا کہ سیٹلائٹ نیٹ ورکنگ تجارت میں شامل کمپنیاں اور کارپوریٹ نیٹ ورک کسی خفیہ اور انجان طاقتوں کے بچھاےُ ہوےُ جال پر کام کر رہی ہیں اور کروڑوں افراد اپنی دنیا کو خوشنما بنانے کیلئے اس میں قید بھی ہورہے ہیں تو ہمارے ایک قاری نے سوال کر دیا کہ اس کے ثبوت کیا ہیں۔آج اگر میں سوال کروں کہ جس وائرس کے خوف سے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کیا گیا اور سب نے اس خوف سے اپنے منھ پر تالا لگایا ہوا ہے تو اس وائرس کی موجودگی کا ثبوت کیا ہے ۔سب کے پاس ثبوت کے طور پرکچھ میڈیا کے آنکڑے اور WHO کے سچ کے سوا کچھ نہیں ہے !
کیا حقیقت میں WHO کا سچ ہمارے لئے ثبوت اور ایمان کے درجے میں شامل ہے ؟
شامل ہو یا نہ ہو آپ کو اس پر جبرا عمل کروایا جارہا ہے ۔ایک بار جدید جمہوریت کے وکیل غامدی صاحب اور اسرار احمد صاحب کی مشترکہ نشست میں ایک سوال کیا گیا کہ کیا کوئی اسلامی ریاست عورتوں کے پردے کے تعلق سے کوئی قانونی پابندی لگا سکتی ہے جیسا کہ افغانستان میں طالبان نے کیا ۔انہوں نے کہا قرآن میں صرف نماز اور زکواۃ کی وصولی کیلئے اسلامی ریاست قانونی پابندی لگا سکتی ہے باقی اس کے علاوہ نہ کوئی ٹیکس ہے اور نہ ہی اسلام کے کسی ارکان پر کوئی پابندی ۔ہاں اس کیلئے مسجد و محراب سے صرف تلقین کی جاسکتی ہے ۔اگر غامدی صاحب کی اس دلیل کو مان لیا جائے تو اسلامی قانون موجودہ لبرل جمہوریت سے بھی زیادہ لبرل اور آسان ہے جبکہ جمہوریت میں تو عوام کو صرف ٹیکس کے نام پر انکم ٹیکس, پروفیشنل ٹیکس ,صفائی ٹیکس, چھپرا ٹیکس ,جی ایس ٹی اور پتہ نہیں کیا ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔سنا ہے امریکہ میں تو مرنے سے پہلے قبر کیلئے بھی پہلے سے ٹیکس جمع کر دینا پڑتا ہے ورنہ میت کو دفن بھی نہیں ہونے دیا جاتا ۔ اس کے علاوہ بھارت کی جمہوریت میں تو ایک بائیک والے کو اپنے ساتھ ہیلمنٹ سے لیکر لائیسنس انشورنس پی یو سی آرسی بک اور اب ماسک بھی ساتھ میں لیکر چلنا لازمی ہے ۔بس تھوڑے دن کی بات ہے اگر کرونا کی ویکسین آگئی تو ہر شخص کو vaccination کی سرٹیفکٹ بھی ساتھ رکھنا لازمی ہوگا ۔ذرا غور کیجئے کہ عورتوں کے اسلامی حجاب پر سوال اٹھانے والے لبرل معاشرے میں تو سیکڑوں طرح کی پابندیاں ہیں پھر بھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جمہوریت میں فرد کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے ۔ اگر ہم اسے سازش کہتے ہیں تو ہمارے غامدیت زدہ بھائی کہتے ہیں کہ اردو دانشوروں کو تو بس ہر جگہ سازش ہی نظر آتی ہے ۔
ہم کبھی غور سے سوچیں اور اپنا احتساب کریں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ دنیا پوری طرح WHO WTO اور یونیسف ریڈ کراس آئی ایم ایف جیسے بہت سارے پرفریب عالمی اداروں کے سحر میں یوں ہی گرفتار نہیں ہے۔ان کا اپنا ایک وسیع نیٹ ورک ہے اور ان لوگوں نے بہت ہی چالاکی سے صحت و تعلیم انصاف سیاست اور کمیونیکیشن کو ایک عالمی دھارے سے جوڑ دیا ہے اور وہ اس پر باقاعدہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بظاہر یہ ادارے امن و انصاف اور انسانی فلاح بہبود کے نام سےایک تحریک کے ماتحت سرگرم ہیں اور لوگوں کے ذہن کو متوجہ کرتے ہیں لیکن آج تک وہ چاہے فلسطین کا معاملہ ہو یا کشمیر کا یا آرمینیا اور آذربائیجان میں چل رہی خونریز جنگ کا انہوں نے کبھی کہیں امن کی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی ۔ذرا سوچئے کہ جو ادارہ ایک وائیرس کا خوف پیدا کرکے پوری دنیا کے نظام پر مہینوں پابندی لگا سکتا ہے کیا یہ ادارے دنیا کو خطرناک اسلحوں اور ان اسلحوں کے ذریعے تباہ کن معرکہ آرائی کو روک نہیں سکتا ۔مگر یہ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں ۔
لیکن یہ ایسا نہیں کرتے تو کیوں ؟
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ان کا مقصد دنیا کی آبادی پر کنٹرول کرنا ہے ۔ان کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ بیماریوں سے کتنے فوت ہو رہے ہیں یا جنگ کی صورت میں کتنا ہلاک ہو جائیں گے ۔وہ لوگ جو ہتھیار بنا رہے ہیں یاجو فارماسیوٹیکل صنعت سے منافع بخش تجارت کرتے ہیں کہیں نہ کہیں انہیں کے نیٹ ورک کا ہی حصہ ہیں ۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم سب جس لبرل ڈیموکریسی کی کشتی کے مسافر ہیں جس میں سوراخ تو ہے اور وہ ڈوب بھی رہی ہے اور ہم چیخ بھی رہے ہیں پھر بھی ہم اس کشتی کے سوراخ کو دیکھ نہیں پارہے ہیں تو اس لئے کہ اب ہم خود سے دیکھنے سوچنے اور سمجھنے کا سلیقہ بھی کھوتے جارہے ہیں ۔ کویڈ 19 کے فرشتوں نے آپ پر یہ تجربہ بھی کر لیا ہے کہ دنیا کس طرح ایک خفیہ طاقت یعنی secrete society کے ذریعے ایک ضابطے کی پابند ہے اور اسے کس طرح آسانی کے ساتھ اس کا پابند بنایا جاسکتا ہے۔ اور وہی دنیا کو بتا رہی ہیں کہ اس کو کس طرح خود سے نہ سوچ کر وہی سوچنا اور غور کرنا ہے جو سیٹلائٹ یونیورسٹی سے اسے آن لائن پڑھایا جارہا ہے ۔
قرآن نے اسی تناظر میں کہا ہے کہ
شیطان اور اس کے قبیلے تمہیں ایسی جگہ سے دیکھ رہے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔اکنامسٹ کی یہ تصویر میں نے پچھلے مضمون میں بھی لگائی تھی اس مضمون کے تناظر میں بھی دیکھ لیں اور کبھی فرصت ملے تو غور کرنا کہ کوئی خفیہ طاقت ہے جس نے دنیا کی ساری حکومتوں کو اپنے اپنے کام پر لگا دیا ہے اور یہ لوگ دانستہ اور غیر دانستہ طور پر اسی خطوط پر کام کر رہے ہیں جو یہ طاقت چاہتی ہے ۔اکنامسٹ نے یہ تصویر 2019 میں اس وقت جاری کی تھی جب ابھی کرونا کا شور بھی نہیں اٹھا تھا ۔آپ ایک شخص کو دیکھ سکتے ہیں جس کے چار ہاتھ ہیں ۔اس کے ایک ہاتھ میں ترازو یعنی دنیا کی حکومت سیاست اور انصاف ہے ۔دوسرے ہاتھ میں موبائل ہے ۔یعنی میڈیا ہے یا آپ جو کچھ بھی بات کرتے ہیں سیٹالائٹ کے ذریعے وہ کنٹرول کرتا ہے ۔تیسرے ہاتھ میں جڑی بوٹی ہے ۔اسے آپ صحت و حکمت اور ماحولیات سے تشبیہ دے سکتے ہیں جسے اس نے جدید ادویات اور فارماسیوٹیکل ٹکنالوجی میں تبدیل کرکے کنٹرول کر رہا ہے ۔یعنی اب وہی بتائے گا کہ آپ کو کیا بیماری ہے اور اس بیماری کے جانچ کے طریقے کیا ہیں اور کیا ویکسین لینا ہے ۔چوتھے ہاتھ میں گیند ہے ۔اسے آپ کھیل کود تفریح اور کلچر سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں جو اب فلم انڈسٹری کی شکل میں یو ٹیوب سے ہوتے ہوئے فحاشی میں تبدیل ہو چکا ہے ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی خفیہ طاقت ہے جو اس وقت گلوبلائزیشن کے نام سے سیاست معیشت صحت و تفریح اور کمیونیکیشن سب پر کنٹرول کر رہی ہے اور آپ اس کے بنائے گئے ضابطے کے خلاف جانے کے اہل بھی نہیں ہیں ۔پھر بھی آپ سے روز ایک ہزار بار جھوٹ بولا جاتا ہے کہ آپ آزاد ہیں آپ کچھ بھی سوچ سکتے ہیں ۔حقیقت میں ہم سب دھیرے دھیرے جسمانی اور ذہنی طور پر ایک عالمی شیطانی حکومت کی غلامی میں جا چکے ہیں۔یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں ۔کرونا وائیرس کے بعد اسی اکنامسٹ نے اپنی ایک میگزین کے صفحہ اول پر ایک تصویر کے ساتھ اور بھی تبصرہ کیا تھا کہ
Every thing is under control
جو کنٹرول کر رہا ہے وہ ایک خفیہ ہاتھ ہے ۔
اس کے بعد کی ایک میگزین کی تصویر بھی دیکھیں ۔اس پر آگے کی تباہی کا نقشہ بھی پیش کر دیا گیا ہے ۔ابھی تو ہم ایک عام ماسک سے کام چلا رہے ہیں آنے والے حالات میں کیمیکل اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات کی وجہ سے کم سے کم امیر طبقات الیکٹرانک ماسک کا استعمال کرنا شروع کردیں گے ۔کچھ لوگ آنے والے سال 2021 اور 2022 کو war pandemic year بھی کہتے ہیں ۔اللہ بہتر جانتا ہے لیکن آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ آنے والے سالوں میں کچھ اور ممالک کے درمیان آذربائیجان اور آرمینیا کی طرح جنگ کے محاذ کھل جائیں گے ۔کہنا یہ تھا کہ ہمارے لبرل اسلامی اسکالر جس طرز جمہوریت کو مومن کا گمشدہ۔ خزانہ قرار دے رہے ہیں اسے اگر سیٹلائٹ کی نظر سے دیکھیں گے تو یہ ابھی بھی نعمت ہی ہے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو یہ فتنہ ظاہر ہونا شروع ہو چکا ہے ۔

You might also like