Baseerat Online News Portal

جوۓ بائیڈن Joe Biden کی فتح باعث راحت کیوں ؟ كیا الکفر ملة واحدة کے بموجب ہر ایک سے عناد مطلوب ہے ؟ تحریر : مسعود جاوید

جوۓ بائیڈن Joe Biden کی فتح باعث راحت کیوں ؟
كیا الکفر ملة واحدة کے بموجب ہر ایک سے عناد مطلوب ہے ؟

تحریر : مسعود جاوید

دو روز قبل میں نے ایک تحریر پوسٹ کی تھی کہ
١- فرانسیسی صدر کا طوعاً او كرها رجوع نامہ یا اسلام مخالف بیان کی پیوند کاری مرمت کہ چارلی ہیبڈو ادارہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے اور نہ اس کا موقف سرکاری موقف ہے اور یہ کہ ہماری بات کو سیاق و سباق سے الگ کر کے توڑ مڑوڑ کر پیش کیا گیا۔ اس اہانت رسول کے خاکہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوۓ ہیں اس کا مجھے احساس ہے وغیرہ وغیرہ۔
٢- امریکہ میں صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابل جوۓ بائیڈن کی فتح اور
٣- بہار اسمبلی انتخابات میں مذہبی کارڈ کارگر ثابت نہیں ہونا اور مہا گٹھبندھن کی جیت کے قوی امکانات یہ تینوں واقعات انصاف پسند عوام بالخصوص مسلمانوں کے لیے باعث راحت و سکون ہو سکتےہیں اور مذہبی کشیدگی کی وجہ سے مکدر فضا کی کثافت میں کمی کے لئے نیک فال ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ ایک عمومی بات میں نے لکھی تھی لیکن بعض لوگ اس پر معترض تھے۔ ضروری نہیں ہر شخص میری رائے سے متفق ہو ۔ تحریر پر ہر قسم کے تبصروں کا استقبال ہونا چاہیے خواہ وہ آپ کی رائے کے موافق ہو یا مخالف۔ تاہم وہ تبصرے ذاتیات پر حملے اور دریدہ دہنی پر مشتمل نہیں ہونا چاہئے۔
لیکن اس ضمن میں بعض لوگوں کی رائے/ تبصروں سے میں بھی اتفاق نہیں رکھتا اس لئے ان کی باتوں کا جواب تو نہیں عمومی طور پر اپنا موقف واضح کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
میری متعدد تحریروں پر بعض لوگوں کا ردعمل ہوتا ہے : “الكفر ملة واحدة” … یہ کہہ کر بعض لوگ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ٹرمپ اور بائیڈن ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں ! میں اس نظریہ کے لوگوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دنیا کافروں سے بھری پڑی ہے تو کیا آپ ان سے معاملات نہیں کریں گے ؟ کیا ان میں اچھے اور برے متعصب اور معتدل نہیں ہوتے ہیں؟ کیا ان میں ایسے بے شمار لوگ نہیں تھے اور ہیں جو انسانیت اور اخلاقی اقدار کی شدت سے اتباع کرتے ہیں اور بلا تفریق مذہب ذات جنس علاقہ حق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں ؟ کیا ضروری ہے کہ وہ آپ کی طرح سوچیں آپ کی ہر بات سے اتفاق کریں آپ کی غلطیوں اور تجاوزات کا دفاع کریں ؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کلمہ پڑھ لے تب ہی وہ آپ کا حلیف اور ہمدرد ہو گا ؟
ڈونالڈ ٹرمپ نے ٢٠١٦ میں اپنے انتخابی مہم میں اسلاموفوبیا کا سہارا لیا تھا ۔ ذاتی زندگی میں اخلاقی بے راہ روی کے لئے بدنام اس دریدہ دہن نے صدر کے عہدے پر فائز ہونے بعد بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بے تکی باتیں کرتا رہا ہے۔ اس کے پر عکس ٨ بار سینیٹر رہ چکے جوۓ بائیڈن ایک ماہر قانون باراک اوباما کے دور اقتدار 2009 سے 2017 تک نائب صدر اور طویل عرصے تک خارجہ پالیسی اور امور کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کی باتوں میں اسلاموفوبیا کی جھلک نظر نہیں آتی۔ اور یہ کہ انہوں نے وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ نہ صرف امریکا میں مقیم مسلمانوں کو اپنی انتظامیہ میں شامل کریں گے بلکہ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں پر غیر اعلانیہ پابندیوں کا بھی خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ منصب صدارت پر فائز ہوتے ہیں تو اسلام کے ساتھ جیسا معاملہ ہونا چاہیے ویسا ہی معاملہ ہوگا یعنی جیسا معاملہ دیگر بڑے مذاہب و عقائد کے ساتھ ہوتا ہے۔
“Islam is going to be treated as it should be, like every other major confessional faiths”. Joe Biden, newly elected president of the United States of America.

You might also like