Baseerat Online News Portal

مولاناحسن الہاشمی ایک عہد ساز شخصیت شاہنوازبدرقاسمی

مولاناحسن الہاشمی ایک عہد ساز شخصیت

شاہنوازبدرقاسمی

ملکی سطح پر اپنی نمایاں شناخت اور پہچان رکھنے والی عظیم علمی،ادبی اورروحانی شخصیت مولاناحسن الہاشمی کی وفات سے میں ذاتی طورپر صدمے میں ہوں۔دیوبند قیام کے دوران طویل عرصے تک مولاناہاشمی صاحب سے خصوصی تعلق رہا،وہ ملت کے ان بیباک شخصیات میں سے ایک تھے جنہیں حق بات کہنے کی عادت اور جرت تھی، وہ ہمیشہ ملی و ملکی مسائل پر گہری نگاہ رکھتے تھے،سچی بات کہنے اورلکھنے کی وجہ سے کئی مرتبہ انہیں بڑے نقصانات کابھی سامنا کرناپڑا،جس کامیں خود گواہ ہوں،وہ ذاتی مفادات سے بالاترہوکر اپنی بات کہتے تھے۔ماہنامہ طلسماتی دنیا اور روحانی علاج کے حوالے سے ان کی جو شناخت اور پہچان ہے وہ اپنی جگہ لیکن ذاتی طورپر انتہائی فکر مند شخصیت کے مالک تھے۔

مولاناحسن الہاشمی دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ ایک معتبرعالم دین اور ایک بہترین صاحب قلم تھے،اپنے فن میں مہارت رکھتے تھے،انہوں نے اپنے خسرمشہورشاعر عامرعثمانی کی علمی وراثت کو بچانے کیلئے جو محنت کی وہ نہ صرف قابل تعریف بلکہ ایک تاریخی کارنامہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔مولاناہاشمی نے اپنی زندگی میں کئی مشکلات کاسامنابھی کیالیکن کبھی ہمت اور حوصلہ نہیں ہارا،وہ ایک دوراندیش اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے،جو لوگ انہیں ذاتی طورپر جانتے ہیں انہیں اس بات کے اعتراف کرنے میں کوئی دشواری نہیں کہ وہ ایک بے لوث انسان تھے،ضرورت مندوں کی مدد کامسئلہ ہو یا پھر کسی بے سہارا کو سہارا دینے کاوہ کبھی مایوس نہیں کرتے،ہم نے خود دیکھا کہ دارالعلوم دیوبندیا دیگر مدارس میں پڑھنے والے طلباء جن کے کھانے کامسئلہ ہوتاتھا اگر وہ کسی طرح ہاشمی صاحب تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے تو ان کی پریشانی ضروردورہوجاتی تھی ان کے یہاں ملنے جلنے کا خاص بندوبست تھا،بڑی تعداد میں علماء اور طلباء بھی ان سے استفادہ کرتے،عوامی سطح پر ملک بھر سے لوگوں کے آنے کاسلسلہ رہتا۔

دیوبند میں مساجد کے ائمہ کو تنخواہ دینے کارواج نہیں ہے لیکن وہ اس بات کے سخت مخالف تھے اگر انہیں پتہ چل جاتاکہ کسی مسجد کے امام یا موذن پریشان ہیں تو انہیں خاموشی کے ساتھ ضرور مدد کرتے تھے،ہر سال رمضان کامہینہ ہو یا پھر سردی کاموسم پابندی سے ضرورت مندوں کی مدد کرتے،معاملات میں بہت صاف ستھرے تھے،زبان کے پکے اور وقت کے بہت پابندتھے،اکثر اساتذہ دارالعلوم اور ملازمین سے ان کاخاص تعلق تھا۔

جب کسی سے علمی و نظریاتی اختلاف ہوتاوہ پریشان ہوجاتے لیکن اپنے موقف اور نظرئے سے سمجھوتہ نہیں کرتے،اکابرین دیوبند کے اکثر بڑے علماء سے اختلافات کے باوجود خصوصی تعلق رہا،وہ تعلقات نبھانے میں کبھی بھی بخالت سے کام نہیں لیتے،مولاناحسن الہاشمی حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحب کے عاشوں میں سے تھے،اکثر مجلسوں اور محفلوں میں حضرت حکیم الاسلام کاحوالہ دیتے،وہ نہ صرف بند کمروں میں بیباکی سے اپنی بات کہتے بلکہ بڑے بڑے اسٹیج اور اپنے اخباری مضامین میں بھی وہی انداز اپناتے،وہ اپنے اخباری بیانات کیلئے اس لئے مشہور تھے کہ وہ حق بات کہتے اور پوری ایمانداری و جرت سے حقائق کو پیش کرتے۔

مولاناایک طویل عرصہ تک جدوجہد کی زندگی بتایا،دیوبند میں علماء اور بڑے اکابرین کی کمی نہیں ہے لیکن ان سب میں اپنی انفرادیت کے ساتھ رہے،وہ اکثر کاموں میں اپنے بڑوں کے مشوروں کے ساتھ اپنے چھوٹوں سے بھی مشورہ لیتے تھے،اگر مخلصانہ مشورہ ہوتا توضرور عمل کرتے اسے نظر انداز نہیں کرتے،مولاناہاشمی کی لکھی ہوئی اکثر تحریروں میں بھی جادوئی اثرتھا،آج بھی ان کی اکثر کتابیں اور طلسماتی دنیا کے خصوصی نمبرات آسانی سے نہیں ملتے ہیں اکثر جگہ تو بلیک سے ہی لیناپڑتاہے۔ہم نے اپنی زندگی میں بہتوں کو بہت قریب سے دیکھالیکن مولاناہاشمی جیسے عوامی عالم دین کو نہیں دیکھا،کوئی ایسا منٹ نہیں ہوتاتھاجب ان کے فون کی گھنٹی نہیں بجتی ہوئی دیکھائی دے،ملک وبیرون ممالک میں لاکھوں ان کے چاہنے اور ماننے والے ہیں جو ان کی اصل طاقت اور عملی کارنامہ ہے۔

اس لوک ڈاؤں نے جہاں بہت سے اداروں کا نظام درہم برہم کردیا لیکن ہاشمی صاحب نے اپنے کسی بھی ملازم کونہ نوکری سے نکالااور نہ تنخواہ روکا،وہ نہ صرف اپنے ملازمین بلکہ مقامی صحافیوں کاخاص خیال رکھتے تھے،آج کے دور میں جب اردو صحافیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے انہوں نے پانچ سال قبل دیوبند میں نیوز پوائنٹ کے نام سے ایک دفتر قائم کرکے مقامی صحافیوں کیلئے کمپیوٹر سمیت تمام طرح کی ضروریات کا بندوبست کیا ساتھ ہی وہاں ایک آپریٹر کو بھی مستقل تنخواہ دے کر اردو صحافت کی بقاء کیلئے انہوں نے جو عملی خدمات کا ثبوت پیش کیا وہ تاریخی کارنامہ ہے۔

مولاناہاشمی نے مشہور اردو رسالہ تجلی اور طلسماتی دنیا کو تن تنہا تقریبا تیس سال نہ صرف چلایا بلکہ پوری میگزین مضامین سے لیکر تصحیح تک خود کرتے تھے، انہوں نے صرف رسالہ نہیں بلکہ درجنوں کتابین بھی تصنیف کئے،ان کے معتمد بھائی راشد قیصر نے جس اپنائیت پن اور وفاداری کاثبوت پیش کیاہے وہ بھی شکریہ کے مستحق ہیں،مولانایقینا اب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی یادیں اور باتیں ہمیشہ یادرہے گی اللہ پاک مولانامرحوم کی مغفرت کاملہ اور پسماندگان خاص طورپر ان کے صاحبزادے برادرم مولاناوقاص ہاشمی کو صبر جمیل عطافرمائے،ہاشمی روحانی مرکز کو ان کانعم البدل عطافرمائے۔

You might also like