Baseerat Online News Portal

بہار الیکشن اور مودی کی جادوئی شخصیت-!! محمد صابر حسین ندوی

بہار الیکشن اور مودی کی جادوئی شخصیت-!!

 

محمد صابر حسین ندوی

[email protected]

7987972043

 

 

بہار الیکشن کے ابتدائی دور میں لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ NDA کامیاب ہوجائے گی، مگر تیجسوی یادو نے اپنی تشہیری تحریک میں نوکریوں کی بات کیا ڈالی کہ رخ ہی بدل گیا، بےروزگاری کے بحران میں نوکری کا وعدہ ایک ماسٹر اسٹروک ثابت ہوا، چنانچہ ایک ہوا چلی جس میں یہی بات گردش کرتی تھی کہ مہاگٹھ بندھن نے جیت حاصل کرلی ہے، ایگزٹ پولس بھی یہی دعوی کر رہے تھے؛ بلکہ وہ تو یہاں تک دکھاتے تھے کہ بی جے پی ایک بڑی شکست کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر پھر نتائج نے سب کو حیران کردیا، NDA کی قیادت کرنے والی بی جے پی ایک بڑی پارٹی بن کر ابھری، اس نے خود اپنے معاون نتیش کمار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اور کانگریس تو دم واپسیں میں چلی گئی، بہت سے ایگزٹ پولس بتانے والوں نے یہ قبول کیا ہے؛ کہ دراصل انہوں نے اپنی پیشن گوئیوں میں خواتین کو شمار نہیں کیا تھا، یا انہیں کم سمجھا تھا، جبکہ بہار میں خواتین کی ایک بڑی تعداد خموش ووٹر کے طور پر ابھری اور انہوں نے بی جے پی کو سپورٹ کیا، اس پورے کیمپین میں عموماً ایک بات کہی جاتی تھی کہ اگر بہار میں فتح پائی تو وہ مودی جی کی وجہ سے ہوگی اور اگر شکست ہوئی تو وہ نتیش کمار کی بنا پر ہوگی، یہی وجہ ہے کہ تشہیر کے دوران صرف مودی کا چہرہ ہی سامنے تھا، حتی کہ نتیش کمار کو بھی الگ کردیا گیا تھا، ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ مودی کی شخصیت ہمیں کیا بتاتی ہے؟ تجزیہ نگار اس سلسلہ میں دو باتیں نقل کرتے ہیں: پہلی بات یہ کہ مودی کی شہرت اب کسی علاقہ، ذات پات اور صنف تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ ہشت پہل ہوچکی ہے. دوسری بات یہ کہ اس شہرت پر ملک میں معاشی بحران سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا؛ خواہ نوٹ بندی ہو یا کرونا وائرس اور چار گھنٹے کی نوٹس پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہی کیوں نہ ہو…. ماہرین اس کے وجوہات پر بہت سی تحقیقات پیش کر چکے ہیں، متعدد انگلش مضامین شائع ہوتے رہے ہیں، یونیورسٹیز میں اسے موضوع بحث بنایا گیا ہے، اکثر اسے ہندوازم، میڈیا پر قبضہ یا پھر پیسے کی کثرت بتاتے ہیں، اس وقت ملک میں سب سے زیادہ مالدار پارٹی بی جے پی ہی ہے، اس کے فنڈز پر کسی کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ناہی کسی تحقیق کے دائرے میں آتے ہیں، جو بھی ہے وہ سب کچھ قانونی لبادے میں لپیٹ کر جائز کر لیا گیا ہے، مگر اس سے دو اہم باتوں پر روشنی پڑتی ہے، جو مودی کی شخصیت کو صحیح معنوں میں بیان کرتی ہے:

پہلی اہم بات- ملک میں کئی لوگ ایک ایسے سیاست دان کی خواہش رکھتے ہیں جو بہت زیادہ طاقتور ہو اور وہ ہندو مسلم سے بڑھ کر ہو. دوسری اہم بات- ہم ایک ایسی سرکار چاہتے ہیں جو زیادہ دخل اندازی نہ کرے؛ عموماً لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ سرکار بنیادی ضروریات پر تو خرچ کرے؛ لیکن سبسیڈیز پر رقم نہ لگائے. یہی سوچ سرکار کی اسکیموں میں بھی نظر آتی ہے جیسے آتم نربھر یوجنا ہے، یہ ملک کے باشندوں میں اسی فکر کو فروغ دینے کیلئے ایجاد کی گئی ہے، یہ جان کر بڑی حیرانی ہوگی کہ ہندوستان میں زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں؛ کہ لوگ اس لئے غریب ہیں کیونکہ وہ کام نہیں کرتے، اس لئے نہیں کہ وہ سرکاری مدد نہیں پاتے؛ ایک رپورٹ کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف امیروں کی سوچ ہے؛ بلکہ جو لوگ ماہانہ دس ہزار سے کم کماتے ہیں وہ بھی یہی سمجھتے ہیں. حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ دونوں محاذ کسی بھی حکومت یا حکمران کیلئے زبردست فائدہ مند ہیں، ایک سروے کے مطابق بی جے پی کے سپورٹرس زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ انہیں سرکار سے زیادہ ذمہ داری لینا چاہئے؛ جبکہ کانگریس کو ماننے والوں میں ایسے لوگ صرف ٢٦/ فیصد ہی ہیں، دراصل آتم نربھر اور ایک مضبوط نیتا کی خواہش یہ دونوں ہی اتنے اعلی پیمانے پر مؤثر ہیں کہ لوگ اس جانب مقناطیس کی طرح کھنچے چلے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ The print کے مطابق مہاجر مزدور بھی ٧٤/ فیصد سرکار کے اقدام سے مطمئن تھے؛ جبکہ حقیقت عیاں ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد اندرون ملک میں دنیا کی سب سے بڑی ہجرت دیکھنے کو ملی تھی اور سرکاری بے ایمانی و بدانتظامی کوئی ڈھکی ہوئی بات نہ تھی، تب بھی پونم دیوی جو چودہ لوگوں کے ساتھ لاک ڈاؤن کے دوران چودہ سو کلو میٹر سفر کر کے گڑگاؤں سے بیگو سرائے تک پیدل سفر کر کے پہونچی تھیں، جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ مودی نے ہمیں گیس، بیت الخلاء اور دوسری آسائشیں مہیا کروائی ہیں؛ لیکن وہ آفیسرز ایسے ہیں جو درمیان میں ہی گھپلا کر جاتے ہیں اور ہم تک وہ سہولتیں نہیں پہونچ پاتیں، ظاہر سی بات ہے کہ خواہ انہیں کوئی سہولت ملے یا نہ ملے وہ مودی کو ہی ووٹ کریں گی۔

اس معاملہ میں مودی جی پوری دنیا میں ہی ایک انوکھے سیاست دان ہیں، اس کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے معروف ترین سیاست دانوں کی شخصیت بھی مجروح ہوئی، امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کرسی نے گنوادی؛ لیکن مودی کی شخصیت پر ایک کھروچ تک نہیں آئی، گاہے بگاہے تنقیدیں ہوتی رہیں؛ مگر کچھ نہ بگڑا، یہ کوئی عام بات نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں ہے کہ انہوں نے یہ مرتبت ایک دم سے حاصل کر لیا ہے، بلکہ ماہرین نے پوری محنت کی ہے، حقیقی معنوں میں ٢٠١٤ سے انہوں نے اپنی پہچان بدلنے کی کوشش کی ہے، جس وقت وہ گجرات ماڈل اور پرائیویٹ سیکٹر کے انقلاب کی داستان لیکر دہلی آئے تھے، مگر بہار اور دہلی کے الیکشن میں شکست کے بعد ان کا سلوگن ہی بدل گیا، پھر وکاس پرش سے غریبوں کا نیتا، اور پرائیویٹ سیکٹر کے بجائے ویلفیئر سوسائٹی کی باتیں کرنے لگے تھے، سب کا ساتھ سب کا وکاس کے ساتھ سب کا وشواس بھی جوڑ دیا گیا تھا، اس کیلئے انہوں نے ساری طاقت اور اتھارٹی کو اپنی حد تک محدود کرنا شروع کردیا، اور سارے PMO سے لئے جانے لگے، مگر یہی کافی نہ تھا؛ بلکہ ضرورت تھی کہ لوگوں کو ان فیصلوں سے جوڑا جائے، اس کیلئے انہوں نے تین کام کئے- اولا: اسکیموں کے نام دلچسپ رکھے گئے، جو بلا واسطہ لوگوں کو متاثر کرتے تھے، حالانکہ یہ کام پچھلی حکومتوں نے بھی کیا تھا، دوم: ٹکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جو گزشتہ حکمرانوں نے اس پیمانے پر نہیں کیا تھا، بلکہ خود وزیراعظم کانفرنس کے ذریعہ عوام سے جڑتے ہیں اور اسکیم پر بات کرتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ سب کچھ اسکرپٹیڈ ہوتا ہے، سوم: بی جے پی کے افراد گھر گھر جا کر اسکیموں کے فوائد شمار کرواتے ہیں، اس کام میں سینیئر جونیئر کی کوئی قید نہیں ہے، وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان سب کاموں کے ذمہ دار صرف اور صرف مودی جی ہیں، جنہیں اس کا فائدہ ملا ہو انہیں یہی احساس کرواتے ہیں اور جنہیں نہ ملا ہو انہیں وشواس دلاتے ہیں کہ مودی جی سب کچھ کر دیں گے، یہ سارے فیکٹر ملکر مودی کو ایک Teflon شخصیت عطا کرتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی تنقید ہوجائے ان کی ذات مجروح نہ ہوگی؛ ایسا بھی نہیں ہے کہ انہوں نے کسی الیکشن میں شکست نہ کھائی ہو اور ان کی شخصیت کو گردآلود نہ کیا گیا ہو؛ لیکن ان سب سے ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا،بلکہ وہ مزید ایک مسیحا بن کر لوگوں کے سامنے ایک نئے چیلینج کے ساتھ حاضر ہوجاتے ہیں.(تحقیق ماخوذ از- Soch Utube)

 

You might also like