Baseerat Online News Portal

مسلمانوں کی نئی سیاسی کروٹ توقعات اور اندیشے

از : محمد اللہ قیصر قاسمی
نام نہاد سیکولر طاقتوں کو نہ جانے مسلم لیڈر شپ سے کیا بیر ہے، اویسی جب میدان میں تھے تو بس ناراضگی کے اظہار تک محدود تھے، کہہ رہے تھے کہ ایک بھی سیٹ نہیں آئے گی، لیکن 5 سیٹیں ملیں تو ان کی نیندیں حرام ہوگئیں، جب انہوں نے دیکھا کہ مسلم سیاست نئی کروٹ لے رہی ہے، اور مسلمان جو اب تک نام نہاد سیکولر سیاست کا بندھوا مزدور بنا پھر رہا تھا، وہ اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی فکر کر رہا ہے، یہ سونچ کر ہی ان کا کلیجہ منہ کو آگیا ہے ، آقاؤں سے زیادہ غلاموں کی چیخیں نکل رہی ہیں، 5 سیٹیں بہت اہمیت نہیں رکھتیں، لیکن سیاست کو گہرائی سے جاننے والے، مسلم لیڈر شپ سے بدکنے والے، حالیہ سیاسی بیداری اور اس کے اثرات کو خوب سمجھتے ہیں، جو مسلمان اویسی سے یہ کہہ کر کٹ رہے تھے کہ “ہم 15 ,فیصد ہیں، آٹے میں نمک کے برابر ہماری تعداد ہے، کیا کرسکتے ہیں” وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے، کہ اگر صرف ان سیٹوں پر توجہ دی جائے، جن پر مسلمان فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں، تو اپنی قیادت کے جھنڈے تلے ایک بڑی تعداد کو پارلیمنٹ یا اسمبلیوں میں بھیج سکتے ہیں، گویا پہلے نااُمیدی کے اندھرے میں تھے اب اس چھوٹی کامیابی نے امید کا چراغ روشن کیا ہے، مسلم ووٹ کے سوداگروں کو اندیشہ ہے کہ ابھی تک خوف میں جینے والے مسلمانوں میں بھی سگبگاہٹ ہوگی، ان کا حوصلہ بیدار ہوگا، اور خود اعتمادی پیدا ہوگی، کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں، اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے، اپنی قیادت اپنی طاقت کا حصول ممکن ہے،”ایک ہو جائیں تو یقینا خورشید مبیں بن سکتے ہیں، اب تک بکھرے ہوئے تارے تھے، کوئی کام نہیں بنا”
اب تک مسلمان سونچ رہا تھا کہ مجموعی سیٹوں میں نصف لانا پڑے گا، جو یقینا محال ہے، نامکن ہے، کیونکہ ہم اقلیت میں ہیں، ہدف محال ہو تو انسان اکثرو بیشتر کوشش سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتا ہے، یہی حال مسلمانوں کا رہا، لیکن اب وہ سونچ رہے ہیں کہ زمانہ ریجنل پارٹیوں کا آگیا ہے، اس میں بھی کوئی ایک پارٹی تنہا سرکار بنانے سے رہی، یقینا دوسری چھوٹی پارٹیوں کا سہارا لینا پڑیگا، جو دو چار پانچ سیٹیں لے آتی ہیں، اور اپنی ذات برادری کی نمائندگی کرتی ہیں، جیسے سہنی، مانجھی وغیرہ، تو ہم مسلمان اسی طرح کیوں نہیں کر سکتے، 122 سیٹوں کے بجائے اتنی سیٹوں کا ہدف مقرر کریں جن سے سرکار بنانے والوں کے ساتھ سودا کر سکیں، ہو سکتا ہے، کنگ میکر بن جائیں، حکومت میں شراکت داری مل جائے، اور یہ ممکن یے، تقریبا 40 سیٹیں ایسی ہیں، جہاں اپنی پسند کے امیدوار کو کامیاب کرنے کی پوزیشن میں ہم ہیں، اور ان میں سے 20/25 یا اس سے کم بھی لے آئیں تو سرکار میں شراکت بعید نہیں، اور یقینا مسلمانوں میں یہ فکر پیدا ہوئی ہے، گرچہ مسلم جماعتیں اب بھی ڈرا دھمکا رہی ہیں کہ اگر ہم نے مسلم سیاست کی بات کی تو “ہندوتو سیاست کا بھوت کھا جائے گا” لیکن سیمانچل میں 5 سیٹوں کی کامیابی اور بقیہ سیٹوں پر بھر پور امید نے مسلم سونچ کو ایک نئی جہت دی ہے، اپنا ہدف پانے کیلئے کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں، صرف سیمانچل سے ایک نئی قوت پیدا کی جا سکتی ہے،
مسلمانوں کی اسی فکر نے کانگریسیوں کے ساتھ تمام سیکولر پارٹیوں کی نیندیں حرام کردی ہیں، لہذا وہ اویسی کی کردار کشی میں لگ گئے ہیں، جن کا ساتھ دے رہے ہیں کانگریس اور راجد کے سیاسی غلام مسلمان۔
جہاں تک اندیشوں کا تعلق ہے تو اس کی گونج دوسروں کی بجائے اپنوں کے نقار خانے سے زیادہ آرہی ہے، مسلم تنظیم، لیڈر، صحافی، یہ زیادہ چیخ چلا رہے ہیں، ہم الگ تھلگ رہ جائیں گے، ہم تنہا پڑ جائیں گے، سیکولر طاقت کمزور ہوجائیگی، 80 فیصد متحد ہو جائیں گے تو ہمارا وجود ختم ہو جائے گا، یہ ساری دور کی کوڑیاں لا رہے ہیں، مفروضے پیش کئے جا رہے ہیں، جبکہ حقیقت ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا، اگر ہمیں 15/20 سیٹیں حاصل ہوتی ہیں، تو یہی پارٹیاں تعاون لینے کیلئے لائن میں کھڑی ہوں گی، یا اگر آپ کا ووٹ شیئر 10/12 فیصد تک چلا جاتا ہے، تو بڑی پارٹیاں اتحاد کیلئے خود چل کے آپ کے پاس آئیں گی، لیکن شرط یہ ہے کہ کامیابی سے پہلے قوم کے مخلص “سرپھروں” کی کوشش کو خدارا اپنے اندیشوں اور مفروضوں کی نظر نہ کریں، ساتھ نہیں دے سکتے تو خاموشی اختیار کرلیں، بس نتائج کا انتظار کریں، 70 سال دوسروں کا آزمایا اب کچھ دن تو اپنی قیادت کو آزمائیں، آپ خود سوچیں کامیابی کی صورت میں یقینا فرقہ پرستوں کے علاوہ جو بھی ہمارا کام کرے گا اسی کو سپورٹ ملے گا، نیز مخصوص حلقوں کے علاوہ پورے بہار میں آپ آزاد ہیں، جن کو سیکولر سمجھتے ہیں انہیں کامیاب کریں،
میں آپ کے اندیشوں کو مفروضہ اسلئے کہہ رہا ہوں کہ ہندستان کی صد فیصد پارٹیاں علاقائی پارٹیوں کے ساتھ بی جے پی اور کانگریس سمیت ایک پلیٹ فارم پر نہیں آسکتیں، اور ظاہر ہے 80 فیصد کے یکجا ہونے کی ایک یہی صورت ہے، جو ناممکن ہے کیوں کہ ان پارٹیوں کو اپنا وجود باقی رکھنے کیلئے کم از کم دو دھڑوں میں بٹ کر انتخاب لڑنا ہوگا، ایسی صورت میں آپ کیلئے بھرپور مواقع ہیں، نیز مجلس اپنے امید وار مکمل سیٹ پر اتار بھی نہیں رہی ہے، ایسی بقیہ سیٹوں پر سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کیلئے دروازہ پہلے کی  طرح کھلا ہے، آپ بھی وہاں ان کو سپورٹ کریں۔
دوسری بات جو مسلمان سونچ رہا ہے، اور خود سے سوال بھی کر رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ان پارٹیوں کو ہماری ضرورت ہے یا ہمیں ان کی؟
مسلمان اب تک یہی سونچ رہا تھا کہ بی جے پی سے بچانے کیلئے ہمیں ان کی ضرورت ہے، اسلئے فری میں ووٹ دے دینا چاہئے، کچھ ملے نہ ملے، بی جے پی کے شر سے حفاظت تو مل رہی ہے نا، لیکن اب جبکہ بی جے پی 6 / 7 سال حکومت کر چکی ہے، اس نے تجربہ کیا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں انہیں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے، جان، مال، عزت و آبرو ،اور سب سے بڑی دولت ایمان پر حملے بھی خوب ہوئے، لیکن ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، مسلمانوں کے خلاف ظلم پر انہوں نے رسما کوئی بیان دے دیا، ٹھیک ہے ، لیکن اس کو ایشو نہیں بنایا، انہوں نے یہ تکلیف بھی محسوس نہیں کی کہ انسانیت کے نام پر ہی سہی ظلم کے خلاف کھڑے ہو جائیں، کانگریس نرم ہندوتوا کے چکرویو میں پھنس چکی ہے، ادھر یادووں کی پارٹی “راجد” اور “سپا”، دلتوں کی پارٹیاں “بسپا” اور “لوجپا” یہ بھی مسلمانوں کے خلاف ہورہے ظلم پر اس ڈر سے نہیں بولتیں، کہ کہیں ہندو ووٹر ناراض نہ ہوجائے، یعنی یہ پارٹیاں اب صرف ووٹ لینے تک کی ذمہ دار رہ گئی ہیں، بدلہ میں مسلمانوں کو کچھ دینے کیلئے تیار نہیں، وہ ان پر ہورہے ظلم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بول سکتی ہیں ، تو فطری طور پر مسلمانوں میں یہ فکر بیدار ہوئی ہے کہ جس ضروت کے تحت ہم ان کے بندھوا مزدور بنے تھے وہ ضرورت بھی اب پوری ہونے سے رہی، تو کیوں نہ “اپنی حفاظت خود کرنے کی کوشش کی جائے”
انسان کی فطرت ہے کہ جب تک کہیں اور سے ضرورت پوری ہوتی رہتی ہے، وہ خود کوشش نہیں کرتا، خطرات کو دیکھتا ہے تو اولا کسی سہارے کی تلاش کرتا ہے،
لیکن جب ہر جگہ سے امید ختم ہو جاتی ہے تب وہ خود اٹھتا ہے، جب کوئی سہارا نہیں ملتا تو خود کو بچانے کی فکر کرتا ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر مقابلہ کرتا ہے، مسلمانوں کو احساس ہو گیا ہے کہ خوف کی سیاست ہمیں پستی کے گڑھے میں ڈھکیل دے گی، وجود بچے گا نہ ایمان محفوظ رہ پائے گا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں “دلتوں سے رپلیس کرنے کی کوشش کی جائے” لہذا ماضی میں جن سماجی نا انصافی کی مصیبتوں میں ان کو جکڑ کے رکھا گیا اس کے شکار ہم ہو جائیں۔
واضح رہے کہ مسلمان ہندستان میں ضرورت کی سیاست کرتا ہے، برہمنوں کی طرح نظریات کی سیاست وہ نہیں کرسکتا، اور ضرورت کی سیاست میں ہوتا یہ ہے کہ جس سے ضرورت پوری ہو اس کے پیچھے کھڑے ہوجائیں، کبھی کانگریس، راجد، بسپا، سپا، لوجپا، عام آدمی پارٹی، اس طرح دوسرے صوبوں میں مختلف نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے پیچھے پیچھے چلتے رہیں، لیکن اب ان
سیکولر پارٹیوں سے ضرورت بھی پوری نہیں ہورہی ہے، اور بی جے پی کے خطرات سے بچنے کیلئے ان کا سہارا بھی نہیں مل رہا ہے۔ تو کیوں نہ ہم خود اٹھیں، اپنی ضرورت خود پوری کریں؛ جبکہ ان پارٹیوں کو کل بھی ہماری اور ہمارے ووٹ کی ضرورت تھی آج بھی ہے، اور مستقبل میں بھی رہے گی، یہ پارٹیاں اپنی ضرورت مسلم تنظیموں اور مقامی علماء کے ذریعہ پوری کرتی آئی ہیں، ان کے ذریعہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرتی آئی ہیں، اور ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ صد فیصد ہندو ووٹ صرف ایک پارٹی کو مل جائے، کیوں کہ یادو بھی قیادت چاہتا ہے، دلت کو بھی چاہئے، برہمن گدی چھوڑ نہیں سکتا، ایسی صورت میں یادو اور دلت پارٹیاں سرکار کی کرسی تک پہنچنے کیلئے جس زینہ کا استعمال کرتی آئی ہیں، اسی زینہ کیلئے ہمارے پاس آئیں گی؛ لیکن اب وہ کسی مسلم تنظیم کے ذریعہ نہیں؛ بلکہ ہم ڈائریکٹ اپنی سیاسی قوت کے ذریعہ فراہم کریں گے، اور جس طرح سہنی، دلت وغیرہ ” لین دین” کے بغیر تعاون نہیں کرتے ، اور جو ان کی برادری کو “کچھ دینے” کی بات کرتے ہیں انہیں ہی تعاون ملتا ہے، اسی طرح ہم بھی “آمنے سامنے بات کرکے” ہی تعاون کریں گے، مسلمانوں کی بیداری کا یہی احساس ان نام نہاد سیکولر سیاسی پارٹیوں کو کھائے جا رہا ہے، اس کو بے اثر کرنے کا بس ایک طریقہ بچا ہے کہ اویسی کی کردار کشی کی جائے، مسلمانوں کو با بار احساس دلایا جائے کہ ان کی تعداد کم ہے اور ان کے مقابلہ اگر 80 فیصد ووٹ متحد ہوگیا تو کیا ہوگا، سرکار نہیں بنا سکتے وغیرہ وغیرہ، ان سب کا جواب یہی ہے کہ ہم تنہا سرکار نہ بنا سکتے ہیں اور نہ بنانا چاہتے ہیں، پہلے بھی سیکولر سیاست کے معاون تھے اب بھی رہیں گے، بس تعاون کا طریقہ الگ ہوگا، محض ووٹر بن کر نہیں شریک بن کر ساتھ رہنا چاہتے ہیں، جو ممکن ہے،
آج تمام سیاسی پارٹیاں اپنے تمام اختلافات بھلاکر، کندھے سے کندھا ملا کر، اویسی کی کردار کشی میں لگی ہیں، ہمیں ان کا کوئی افسوس نہیں، ان کی مخالفت کا کوئی خوف نہیں، البتہ افسوس یہ ہے کہ ہماری اپنی قوم کے میر و جعفر بھی مخالفین کی سر میں سر ملا رہے ہیں، بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ مالکوں سے زیادہ غلاموں کی چیخیں نکل رہی ہیں، لگتا ہے اویسی کی مخالفت میں خود کو ہلاک کر لیں گے،
ذرا سوچیں
ہم فری میں ووٹ بھی دیتے ہیں۔
پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں۔
ان کیلئے اپنوں کی مخالفت مول لیتے ہیں،
ان کے ہارنے پر ایسے روتے ہیں جیسے ہمارے گھر میں موت ہوگئی،
ان سب کے بدلے ہمیں ملتا کیا ہے
، نام کا تحفظ، جھوٹی تسلی، کھوٹی ہمدردی، نوکری، تعلیم، عدالت سے لیکر چھوٹی چھوٹی آفس میں کب انصاف ملے گا۔
اگر آپ شریک حکومت ہوں گے، تبھی کچھ امید ہے، ورنہ خواب دیکھتے رہیں، خواب پر کوئی پابندی نہیں۔
اور یہ بھی جان لیں کہ اگر آپ نے ذرا سی ہوش مندی سے کام لیا تو حکومت میں شرکت ممکن ہے، لیکن اس کیلئے ڈر، خوف اور ضرورت کی پالیسی کو جھٹک کر آگے بڑھنا ہوگا، عزم اور حوصلے کے ساتھ کام کرنا ہوگا، یاد رکھئے کامیاب وہی ہوتے ہیں جو مسلسل امکانات کی تلاش میں صحراؤں کی خاک چھانتے ہیں، اپنے کمفرٹ زون سے نکلنے کو موت تصور کرنے والے دھیمی موت مر جاتے ہیں، ان کو کوئی پوچھتا تک نہیں، خوشی کی بات ہے کہ مسلم نوجوان اب امکانات کی تلاش میں نکل پڑا ہے، وہ خوف کے بجائے امید کی سیاست کرنا چاہتا ہے، حوصلہ ایسا مضبوط نظر آرہا ہے جیسے
ٹوٹی ہوئی منڈیر پہ چھوٹا سا اک دیا​
موسم سے کہہ رہا ہے آندھی چلا کے دیکھ۔​
وہ اپنے مخالفین کی دھمکیوں، اور اپنوں کے اندیشوں اور وسوسوں کو پاؤں تلے روند کر آگے بڑھنا چاہتا ہے،
اب نوجوان ملاحوں کا چکر چھوڑ کر تیر کے دریا پار کرنے کو بیقرار ہے، اس کی چال بتارہی ہے کہ وہ سفر پر نکل پڑا ہے، “یقین توشہ سفر ہے، حوصلہ ان کا رفیق اور عزم ان کی ہم جولی ہے۔
جو یقیں کی راہ پر چل پڑے
انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرادیا
وہ قدم قدم پر بہک گئے
امید ہے کہ کسی کے بہکاوے کا شکار ہوئے بغیر یہ سفر جاری رہے گا۔
آج جو مخالفت کر رہے ہیں ان سے بس اتنی گزارش ہے کہ اس نئی بیداری میں ہم قدم نہیں ہوسکتے تو کم ازکم مخالفت نہ کریں۔ کہ وقت کا تقاضا ہے یہی ہے۔

You might also like