Baseerat Online News Portal

صحافی صدیق کوہاتھرس میں تشدد کو بھڑکانے کا ملزم مان رہی ہے یوپی حکومت

نئی دہلی، 20 نومبر (بی این ایس )
کیا ہاتھرس معاملے کی آڑ میں بڑے پیمانے پر تشدد کی سازش کی جارہی تھی؟۔ اتر پردیش حکومت کا سپریم کورٹ میں حلف نامہ یہی دعویٰ کرتا ہے۔ ریاستی حکومت نے یہ جواب صحافی صدیق کپپن کی رہائی کے مطالبے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے داخل کیا ہے۔5 اکتوبر کو دہلی سے ہاتھرس جانے والے چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے نام ہیں صدیق کپن، عتیق الرحمن، عالم اور مسعود، ان میں سے صدیق کیرالا ویب سائٹ کے لئے کام کرنے والے صحافی ہیں۔ کیرالہ ورکنگ جرنلسٹ یونین کے نام سے ایک ادارہ نے ان کی رہائی کے لئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔16 نومبر کو درخواست گزار کی جانب سے وکیل سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے سپریم کورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ صدیق کو غیر قانونی طور پر نظربند کیا گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ کو گرفتاری سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی،صدیق متھرا جیل میں بند ہیں، انھیں کسی وکیل سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنی ضمانت کے لئے درخواست دائر کرنے کے قابل نہیں ہیں، سپریم کورٹ ان کی رہائی کا حکم دے۔اس درخواست پر عدالت کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے یوپی حکومت نے تمام دلائل کو غلط قرار دیا ہے۔ ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ 5 اکتوبر کو دہلی سے سوئفٹ ڈیزائر گاڑی میں ہاتھرس جانے والے چار افراد کو متھرا پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے پاس بڑی تعداد میں پوسٹرز اور دیگر اشتعال انگیز تشہیراتی مواد برآمد ہونے کابھی دعویٰ کیاگیاتھا، ان لوگوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا،اس لئے یہ دعویٰ غلط ہے کہ ان کی تحویل غیر قانونی ہے۔یوپی سرکار نے حلف نامے میں یہ بھی کہا ہے کہ صدیق در حقیقت متنازعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا کا آفس سیکرٹری ہے۔ انہوں نے صحافی ہونے کی آڑلے رکھی ہے۔ کیرالہ کے جس اخبار تیجس کے شناختی کارڈکو بطور صحافی دکھایا گیا ہے،وہ 2018 میں ہی بند ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ گرفتار دیگر تین افراد پی ایف آئی کی طلبہ تنظیم کیمپس فرنٹ آف انڈیا کے سرگرم ممبر ہیں۔ اب تک کی گئی تفتیش میں اس معاملے میں گہری سازش کے شواہد مل رہے ہیں۔ نسلی تشدد کی آڑ میں پورے علاقے کو جھونکنے کی سازش رچی گئی،اس لئے ان چاروں ملزمان پرتشدد اور غدار کی دفعات کے علاوہ یو اے پی اے کی دفعات کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

You might also like