Baseerat Online News Portal

شادی کیلئے حفظ قرآن کی شرط! عائشہ خانم

شادی کیلئے حفظ قرآن کی شرط!

 

عائشہ خانم

قديح 27 سال کا خوبرو نوجوان ہے۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے قدیح نے فیس بک پر ایک ٹرینڈ چلایا

الزواج المجاني لمن يحفظ كتاب الله

یعنی جو قرآن حفظ کرے اس کی شادی مفت کرا دی جائے گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ٹرینڈ بے حد مقبول ہوگیا۔ درجنوں حفاظ کرام کی قدیح اب تک شادی کرا چکا ہے۔ اس حوالے سے کئی رفاہی ادارے بھی اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ برسوں سے اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار غزہ کے بدحال نوجوانوں کیلئے یہ ایک نعمت بن گیا۔ جہاں 41.2 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے مجبور ہیں۔ اس ٹرینڈ سے متاثر ہوکر لڑکیاں بھی مہر وغیرہ کے بجائے کتاب الٰہی کے حفظ کی شرط پر نکاح کیلٸے راضی ہو جاتی ہیں۔ گویا حفظ قرآن ہی مہر ٹھہرتا ہے۔ تاہم شادی کے خواہش مند حفاظ کرام کے لئے 26 برس عمر ہونا شرط ہے۔ اب تک سینکڑوں نوجوانوں کی شادیاں کرائی جا چکی ہیں۔ ان کیلٸے اجتماعی شادی کی خوبصورت تقاریب بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ دنیا میں سب سے جلدی غزہ کے باسی کلام الٰہی حفظ کرتے ہیں۔ یہاں صرف گرمیوں کی دو ماہ کی چھٹیوں میں پورا قرآن کریم حفظ کرنا عام بات ہے۔ بلکہ اس سال تو رمضان میں دو بچوں نے ستائیس دن میں حفظ مکمل کرکے ریکارڈ قائم کرلیا۔ کاش کہ ہمارے یہاں بھی ایسا کوئی ٹرینڈ شروع ہوجائے تاکہ بہت سوں کا بھلا ہو جائے۔

You might also like