Baseerat Online News Portal

ہاتھرس کے بعد  ویشالی کا دلخراش معاملہ  جمہوری ہندوستان کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے ، جرم کا ساتھ دینا بھی ارتکاب جرم ، امجد علی گلناز کے مجرموں کو پھانسی ملنے پر ہی اس کی روح کو تسکین ملے گی

ہاتھرس کے بعد  ویشالی کا دلخراش معاملہ  جمہوری ہندوستان کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے ،

 

جرم کا ساتھ دینا بھی ارتکاب جرم ، امجد علی

 

گلناز کے مجرموں کو پھانسی ملنے پر ہی اس کی روح کو تسکین ملے گی۔

رفیع ساگر /بی این ایس

 

جالے ۔ ملک میں جب مجرم اور جرم کو لوگ ذات و مذہب کی عینک سے دیکھنا شروع کردینگے تو  نہ صرف ملک میں جرائم کو فروغ ملے گا بلکہ دنیا سے انسانیت کا جنازہ بھی نکل جائےگا کیونکہ جرم کا ساتھ دینا اتنا ہی بڑا گناہ ہے جتنا ارتکاب جرم اس لئے جرم کو جرم کہنا اور اس کی مزاحمت کرنا ہی انسان اور انسانیت کا تقاضہ ہے لہذا جب تک مذہب و ذات سے بالاتر ہوکر مجرم کو مجرم سمجھ کر سزا نہیں دی جائے گی تب تک ملک کی بیٹیاں اسی طرح درندوں کے پنجہ آہنی سے بچ نہیں سکے گی۔مذکورہ باتیں امجد کلاسیز کے ڈائریکٹر امجد علی نے بے قصور یتیم گلناز خاتون کی المناک موت پر ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب مقتولہ معصوم فرشتہ کے جسم کو ظالم درندوں نے اپنے ہوس کا شکار بنانا چاہا اور ان کی مزاحمت کرنے پر شرپسندوں نے جسم کو کروسن تیل سے نہلا کر نذر آتش کردیا ایسے اندوہناک واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ جس حکومت میں بیٹیاں اپنی دامن عفت کو بچانے کی خاطر موت کو گلے لگانے پر مجبور ہو جائے اس حکمراں کے اوپر ہزاروں سوالیہ نشان کھڑے ہوجاتے ہیں کیونکہ واقعہ کے بعد تقریبا 15 دنوں تک معصوم موت و حیات سے نبرد آزما ہوتی رہی اور پولیس انتظامیہ سمیت حکومت کے اعلی قائدین خاموش تماشائی بنی رہے اس سے ایک بات صاف طور پر واضح ہوجاتی ہیکہ اب انسان کی شکل میں صرف آدمی زندہ ہے لیکن اس کے اندر سے آدمیت شائستگی اور شعور ختم ہوتی جارہی ہے ورنہ روح فرسا سانحہ کو انجام دینے کے بعد بھی ملزمین آوارہ سڑک پر کیوں گھومتے۔ مسٹر امجد علی نے کہا کہ ابھی ہاتھرس کی آگ سرد بھی نہیں ہوئی تھی کہ بہار کے ویشالی سے شرمناک اور دلخراش معاملہ سننے کو ملا جو ہندوستان جیسے جمہوی ملک کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے کیونکہ موجودہ حکومت صرف بیٹی بچاو کی تشہیر کرنا جانتی ہے لیکن بیٹیوں کی عصمت کو محفوظ کرنا نہیں جانتی ہے ورنہ آج اس طرح کے دلدوز واقعات سننے کو نہیں ملتے۔انہوں نے کہا کہ حد تو تب ہوئی جب برسر قتدار پارٹی کے ساتھ حزب مخالف پارٹیاں بھی انتخابی مہم اور حکومت سازی میں سرگرم رہے اور ایک معصوم اسپتال میں درندوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی۔مسٹر امجد علی نے کہا کہ حکومت کی ملی بھگت سے پولیس انتظامیہ نے جو ہنوز غفلت سے کام لیکر امتیازی سلوک برتنے کا کام کیا ہے وہ ایک افسوسناک پہلو ہے کیونکہ اب تک صرف 1 ہی مجرم پولیس کی گرفت میں ہے اور پورے معاملے کا کلیدی ملزم ابھی تک قانون کے شکنجے سے فرار چل رہا ہے لہذا حکومت کو چاہئے کہ اس معاملہ میں غیر جانبدارانہ پہل کرتے ہوئے تمام ملزمین کو کیفر کردار تک پہونچائے تاکہ آئندہ کسی بھی ظالم کو ایسی بد حرکت کرنے کی جرآت نہ ہو۔انہوں تمام ملی ، سماجی و فلاحی بالخصوص خواتین کی تحفظ کے تعلق سے جو بھی تنظیمیں سرگرم ہیں ان سے التماس کرتے ہوئے کہا کہ گلناز خاتون کو انصاف دلانے کیلئے پہل کریں تاکہ ہماری بیٹیاں ملک میں باعزت زندگی بسر کر سکے۔

 

 

 

You might also like