Baseerat Online News Portal

یہ ترقیاں اتفاق نہیں ہیں!! محمد صابر حسین ندوی

یہ ترقیاں اتفاق نہیں ہیں!!

محمد صابر حسین ندوی
[email protected]
7987972043

اکثر و بیشتر یہ خیال آتا ہے کہ اگر دنیا ہزاروں سال پرانی ہے، تو پھر ترقی و تعمیر کا یہ سنہرا دور اب کیوں آیا؟ کیا اس سے قبل لوگوں کے پاس وہ صلاحیتیں اور دانشوری نہ تھی؟ ایسی بات نہیں ہے، قدیم زمانوں میں بھی ہر زمانہ اپنے اعتبار سے ترقی یافتہ تھا؛ البتہ جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کا یہ دور اسی زمانے کے حصے میں لکھا ہوا تھا، دراصل سمجھنے کی بات یہی بات ہے کہ انسان اپنی عقل و سمجھ اور فکر کے اعتبار سے اتنا بھی طاقتور اور مختار نہیں کہ وہ من مانی کر لے، دنیا کے خزانے میں جو وہ چاہے اسے پالے، اگر ایسا ہوتا تو آج ہی دنیا اپنے عروج کو پہونچ چکی ہوتی ہے، اور اس کا خاتمہ بھی ہوچکا ہوتا؛ لیکن اصل میں ہر زمانہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، جسے انسان اپنی سوجھ بوجھ اور جد و جہد کے ذریعہ اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالی کی مرضی و منشا کے اعتبار سے پالیتا ہے، ابھی دس بیس سال پہلے کی بات ہے کہ کمیونیکیشن کیلئے وہ وسائل نہ تھے جو آج ہیں؛ بلکہ آج تو دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ قصہ کون نہیں جانتا ہے؛ کہ ملکہ سبا کا تخت و تاج لانے کیلئے ہوڑ لگی تو ایک غیر مرئی مخلوق نے اسے پلک جھپکتے ہی حاضر کردیا، یہ اس وقت کا معجزہ تھا؛ لیکن آج یہ ورچوئلی عام بات ہے، سواری کیلئے دنیا سینکڑوں مراحل طے کرنے کے بعد آج اس مقام پر ہے کہ ہوا کے دوش پر سفر کرے، سمندر کے سینے کو چیرے، اس کی طغیانی اور سرکش موجوں میں بھی دیو ہیکل نما کشتیاں و جہاز اتارے، پہاڑوں، غاروں اور محلوں سے ہوتے ہوئے انجینئرنگ کے اعلی ترین نمونے کے گھروں میں مقیم پذیر ہو، اور دنیا کی وہ آسائشیں پالے جس کے متعلق کبھی قصے بنائے جاتے تھے، اور انسانی تمناؤں کا مرکز سمجھا جاتا تھا، ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ کوئی انتہا ہو؛ بلکہ عالم یہ ہے کہ ہر دوسرے دن ترقی کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے، چاند تک پہونچ جانے والے انسان نے وہاں اب آبادی کی تیاری کررہے ہیں، حالانکہ خواب تو سورج کی تپش پر قابو پانے اور اس تک پہنچ کر ریسرچ کرنے کا بھی ہے، اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ آئندہ پچاس سالوں میں دنیا کی تصویر کچھ اور ہی ہوگی، ان سب کو دیکھ کر اکثر ایک سوال ذہن میں گردش کرتا ہے کہ یہ آج ہی کیوں؟ پچھلی سینکڑوں صدیاں کیوں اس سے خالی رہیں؟
اس کا بہترین جواب مولانا وحیدالدین خان کی اس تحریر میں موجود ہے، جس کا عنوان ہے “انسان کا دماغ” -آپ رقمطراز ہیں: “انسان نے پانی کے بارے میں بوائنسی (buoyancy) کے قانون کو دریافت کیا، اور پھر اس کے مطابق، کشتیاں بنائیں، اور سمندروں میں بآسانی وہ بڑے بڑے سفر کرنے لگا۔ اسی طرح انسان نے اپنے دماغ کو استعمال کرکے یہ دریافت کیا کہ الیکٹرسٹی کا مطلب ہے الیکٹران کا بہاؤ: Electricity means flow of electrons اس دریافت کے بعد انسان نے ڈائنمو (dynamo) بنایا، اور پھر اس میں میگنیٹک فیلڈ (magnetic field) پیدا کرکے یہ انتظام کیا کہ بجلی پیدا ہو، اور بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ممکن ہوجائے۔ اسی طرح انسان نے مزید یہ کیا کہ ڈائنمو کے اندر میگنیٹک فیلڈ پیدا ہو، اور وہاں بجلی کی کرنٹ پہنچائی جائے تو وہاں مادے میں حرکت پیدا ہوجائے گی۔ انسان نے کامیابی کے ساتھ ایسا کیا ، اور اس کے ذریعے بے شمار بڑے بڑے فائدے حاصل کیے، وغیرہ، وغیرہ۔ یہ واقعات امکانی طور پر ہمیشہ سے موجود تھے، لیکن عملاً وہ پچھلے پانچ سو سال سے پہلے لامعلوم مدت تک واقعہ (actual)نہ بن سکے۔ ایسا کیوں کر ہوا۔ سائنس کے مورخین یہ کہتے ہیں کہ ایسا اتفاقات (accident) کے ذریعے ہوا۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ یہ ویسا ہی تھا، جیسے قدیم زمانے میں کشتی کا بننا۔ پیغمبر نوح کی کشتی کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِأَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا (11:37)۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی واقعہ پوری تہذیب کے بارے میں درست ہے۔ اللہ نے فرشتوں کو انسان کا معلم بنا دیا، اور پھر انسان سے کہا :اصنع الحضارۃ باعیننا، و وحینا۔ سائنسی تحقیقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اکسیڈنٹ کے ذریعے ہوا، صحیح یہ ہے کہ یہ واقعات فرشتوں کی مدد سے انجام پائے۔ ورنہ انسان خود اپنی آزادانہ عقل سے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ جیسا کہ پچھلے لاکھوں سال تک وہ اس معاملے میں کچھ نہ کرسکا۔ یہی وہ واقعہ ہے، جس کو اتفاق کا نتیجہ قرار دے کر serendipity کی اصطلاح وضع کی گئی ہے.” (الرسالہ ستمبر2019)
21/11/2020

You might also like