Baseerat Online News Portal

المنصور ٹرسٹ کے زیر اہتمام سید محمود احمد کریمی کی کتاب “Iqbal and His Mission” کا رسم اجراء

المنصور ٹرسٹ کے زیر اہتمام سید محمود احمد کریمی کی کتاب “Iqbal and His Mission” کا رسم اجراء

رفیع ساگر /بصیرت آن لائن

جالے ۔۔ المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام اتوار محلہ پرانی منصفی واقع شوکت علی ہاﺅس میں ایک تقریب کے دوران سید محمود احمد کریمی کی کتاب “Iqbal and His Mission”کا رسم اجراء ہوا ۔اس پروگرام کی صدارت پروفیسر محمد آفتاب اشرف (صدر شعبہ اردو، ایل ۔ این۔ ایم۔ یو ، دربھنگہ نے کی۔ رسم اجراءکی تقریب میں سید محمود احمدکریمی،ڈاکٹر عالمگیر شبنم، انور آفاق، ڈاکٹر احسان عالم، ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر مجیر احمد آزاد، ڈاکٹر منظر سلیمان، جنید عام آروی اور مستفیض احد عارفی شامل ہوئے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے محمود احمد کریمی نے کہا یہ میری اس وقت کی تحریر ہے جب میں بی اے آنرز اردو کا طالب علم ہوا کرتا تھا۔ تعجب ہے موصوف کی عمر اب اس حال میں ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ اس وقت کی تحریر ہوگی۔ اپنے صدارتی خطبہ میں پروفیسر محمد آفتاب اشرف نے کہا کہ واقعی اقبالیات سے متعلق ابھی بھی کام ہونا ہے۔ ڈاکٹر منصور خوشتر کی ادب نوازی کا یہ صلہ ہے کہ متھلانچل اور دوسری جگہوں سے بھی اردو ادب سے متعلق کتابوں کا برمحل مذاکرہ کرواتے ہیں۔ انہوں نے سید محمود احمد کریمی کی صحت و سلامتی کی دعائیں کیں۔ علامہ قبال کے فن پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اقبال محب وطن ، محب ملت اور محب انسانیت ہمیشہ اور ہر دور میں رہے۔ ان کی شاعری میں تضاد نہیں ہے۔ ان کی شاعری کل بھی تر و تازہ تھی اس کے ساتھ ہی حیات بخش بھی تھی۔ اس میں تازگی و توانائی موجود ہے۔ نئی نسل کو چاہئے کہ ان کے کلام کا مطالعہ محنت اور شوق سے کرے اور اس میں پائی جانے والی پوشیدہ اعلیٰ تعلیمات کو اپنی زندگی میں اپنائے اور اسے عام کرنے کی کوشش کرے۔ اس طرح علامہ اقبال نے اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعہ کئی پیغامات کے ساتھ وطن پرستی کا پیغام بھی دیا ہے۔ ڈاکٹر عالمگیر شبنم نے کتاب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ اقبال کے مشن کے بارے میں چند اہم باتیں کہیں۔ سید محمود احمد کریمی کی بھی تعریف انہوں نے کی۔ ڈاکٹر احسان عالم نے علامہ اقبال کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اقبال کی شاعری کے ذریعہ ان کے فکر و فن کو ایسی شہرت ملی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ افراد اور اداروں نے ان کی زندگی ہی میں ان کی شاعری اور فکر سے متعلق گراں قدر خیالات کا اظہار کرنا شروع کردیا تھا۔انور آفاقی نے علامہ اقبال کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اقبال کو علم اور اہل علم سے کافی محبت تھی۔ وہ ایک مثالی طالب علم تھے۔ علم کی تڑپ انہیں انگلستان لے گئی۔ 1950 میں وہ انگلستان کے سفر پر روانہ ہوئے۔ وہ لاہور سے دہلی آئے۔دہلی سے ممبئی پہنچے اور پھر 24ستمبر 1950 کو لندن کی سرزمین پر پہنچے۔ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے کہا اقبال کی نظموں میں جو حسن و فنکاری ہے اس میں تلمیحات کے استعمال کو بھی خاص دخل ہے۔ اقبالاسلامی تاریخ کے واقعات، شخصیات اور قرآنی تصورات کے حوالے اس کثرت سے استعمال کرتے ہیں کہ ان کا کلام مرکب، مرتب فکر کے حامل اسلامی شاعری کا کلام معلوم پڑتا ہے۔ ڈاکٹر منظر سلیمان نے کہا اپنی نظموں کے ذریعہ اقبال نے ساری انسانیت کو پیغام دیا ہے خاص کر نوجوانوں کو بھی اپنے مخصوص لہجے میں بہت سارے پیغامات دیئے ہیں۔ ان کا پیغام جو سب کے لئے ہے وہی نوجوانوں کے لئے بھی ہے۔جنید عالم آروی نے کہا اقبالکی نظمیں تاثراتی اور فلسفیانہ انداز کی ہوا کرتی ہیں۔ ان میں کہیں بیانیہ انداز پایا جاتا ہے تو کہیں ڈرامائی اور مکالماتی انداز ، کہیں خطابت کا انداز تو کہیں تمثیل اور مکالمہ کا استعمال پایا جاتا ہے۔نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سکریٹری منصور خوشتر نے انجام دیئے۔ اپنی نظامت کے دوران انہوں نے کہا اقبال کی شاعری جلوہ صدرنگ کی حامل ہے۔ ان کی شاعری میں فطرت کی خوبصورت منظر نگاری کے ساتھ ساتھ خالص تاثراتی نوعیت کی مختصر نظمیں بھی ملتی ہیں۔انور آفاقی کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔

You might also like