Baseerat Online News Portal

نتیش کابینہ میںسلمان راغب کی شمولیت ممکن

پٹنہ22نومبر(بی این ایس )
بہارکی نئی حکومت کی پہلی کابینہ کے قیام کے بعد ، لوگ اب اس انتظار میں ہیں کہ دوسری کابینہ میں توسیع کب ہوگی۔ اس سلسلے میںمیں نے قبل ہی قارئین کو مطلع کردیا تھا کہ27نومبر کو بہار اسمبلی کا اجلاس اختتام پذیر ہوگااس کے بعد کسی بھی دن15دسمبر سے قبل نتیش وزارت کی توسیع ہوسکتی ہے چونکہ 16نومبر کو جب نتیش کمار کی قیادت میں بہار میں این ڈی اے کی حلف برداری تقریب ہوئی تھی اس میں محض 14وزراء کی ہی شمولیت ہوسکی تھی۔اسی وقت قیاس لگایا جارہا تھا کہ جلد ہی کابینہ کی توسیع ہوسکتی ہے۔بی جے پی چونکہ اس بار این ڈی اے میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اس لئے اس کے قد آور لیڈران بھی وزارت میں شمولیت چاہتے ہیں لیکن جلد بازی میں محض 14وزراء کی ہی حلف برداری ہوسکی تھی اس لئے بی جے پی کی طرف سے بھی دبائو ہے کہ جلد وزارت کی توسیع کی جائے اور دونوں پارٹی کے لیڈران کو وزارت کی کرسی سونپی جائے۔معتبر ذرائع سے خبر موصول ہوئی ہے کہ آئندہ29 نومبر کو نتیش کمار اپنی کابینہ میں توسیع کرسکتے ہیں۔چونکہ 27تاریخ کو قانون سازی کی کارروائی ختم ہوجائے گی اس لئے قوی امکان ہے کہ جلد از جلد وزارت کی توسیع کردی جائے۔قابل ذکر ہے کہ نتیش کی قیادت میں این ڈی اے کی جو حکومت گذشتہ 16نومبر کو تشکیل ہوئی تھی اس میں محض وزیراعلی سمیت15وزراء نے ہی وزارت کا حلف لیا تھا۔جے ڈی یو کوٹہ سے محکمہ تعلیم کی وزارت سنبھالنے والے میوالال چودھری کے استعفی کے بعد اور سیاسی کش مکش کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔محکمہ تعلیم کی وزارت کا اضافی چارج اشوک کمار چودھری کو دیا گیا ہے جنہیں قبل ہی بہت اہم محکمے کی وزارت سونپی گئی تھی۔ اسی طرح وجئے کمار چودھری کو بھی تقریباً نصف درجن وزارت کی ذمہ داری ملی ہوئی ہے۔ بی جے پی کوٹہ سے منگل پانڈے کے پاس بھی نصف درجن سے زائد وزارت کی ذمہ داری ملی ہوئی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نتیش وزارت کی اگلی توسیع میں اقلیتی فرقے کے بھی کسی ایک لیڈر کو وزارت کی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ چونکہ اس بار جے ڈی یو کے تمام مسلم امیدوار الیکشن ہار گئے ہیں اس لیے قانون ساز کونسل سے حکمراں جماعت کے کوٹے سے کسی ایک مسلم کو وزارت کی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہیں اس میں سب سے اہم نام ایوان بالابہار قانون ساز کونسل کے چار بار رکن رہے نوادہ بلدیاتی انتخاب سے منتخب سلمان راغب کا نام سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ غلام رسول بلیاوی ،غلام غوث،تنویر اختر ،ڈاکٹر خالد انور بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔زیادہ امکان ہے کہ اسمبلی اجلاس کے اختتام کے ایک ہفتہ کے اندر وزارت کی توسیع ہوسکتی ہے۔ اگر اس ماہ وزارت کی توسیع نہیں ہوئی تو 14دسمبر سے قبل تک یقینی طورپروزارت کی توسیع ہوسکتی ہے۔ چونکہ پھر اس کے بعد کھرماس شروع ہوجائے گا جس میں ہندو ریتی رواج کے مطابق کوئی شبھ کام 14جنوری سے قبل نہیں ہوسکتا اس لیے قوی امکان ہے کہ جلد ہی وزارت کی توسیع کردی جائے۔

You might also like