Baseerat Online News Portal

یوپی الیکشن : اکھلیش یادو 5 چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ نئے اتحادکی تیاری میں

لکھنؤ22نومبر(بی این ایس )
بہارکے اسمبلی انتخابات 2020 میں بڑی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد میں چھوٹی جماعتوں کی کامیابی کے بعداترپردیش میں دلتوں اور پسماندہ ذاتوں کی نمائندگی کرنے والی چھوٹی جماعتیں مضبوط ہیں۔ بہارکے نتائج کے بعد ملک کی سب سے بڑی ریاست میں بڑی سیاسی جماعتوں نے بھی ان چھوٹی پارٹیوں کو مرکز میں رکھتے ہوئے اپنی انتخابی حکمت عملی کا خاکہ تیارکرناشروع کردیا ہے۔ ریاست میں 2022 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں لیکن حالیہ ضمنی انتخابات میں ووٹ تقسیم ہونے کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے یکطرفہ ووٹرزنے چھوٹی جماعتوں کی طرف دیکھنے پرمجبورکردیاہے۔ اترپردیش میں مرکزی حزب اختلاف سماج وادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے پچھلے ہفتے اس کا واضح اشارہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ان کی پارٹی اب چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں الیکشن لڑے گی۔ اکھلیش نے اپنے چچا شیوپال سنگھ یادو سے بھی کہا ہے۔ اس کا مثبت جواب شیو پال یادو نے بھی دیا ہے۔گذشتہ اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو کانگریس سے سمجھوتہ کرنے کے بعد انتخابی میدان میں داخل ہوئے تھے اور اپنا اقتدار کھو بیٹھے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ اتحاد میں 2019 کے لوک سبھاانتخابات لڑا، لیکن ایس پی کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ ایس پی صرف پانچ سیٹوں کے ساتھ رہ گئی تھی لیکن بہوجن سماج پارٹی کو10 نشستیں ملی ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے گذشتہ ضمنی انتخابات میں راشٹریہ لوک دل کے لیے ایک نشست چھوڑی تھی اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ آر ایل ڈی کے ساتھ بھی مزید صف بندی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی اتر پردیش میں اثر و رسوخ رکھنے والے لیڈرکیشیو دیو اکھلیش یادو کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ لوک سبھاانتخابات میں سنجے چوہان ایس پی کے نشان پر چنڈولی میں الیکشن ہار گئے ہیں اور وہ اکھلیش یادو کے ساتھ بھی سرگرم ہیں۔سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں اپنی طاقت کو ثابت کرنے کے لیے اترپردیش کی تمام موثرجماعتوں نے بھی اتحادکی ضرورت محسوس کی ہے اور چونکہ اس ریاست میں ذات پات کی بنیاد پر بہت سی چھوٹی جماعتیں وجودمیں آئی ہیں لہٰذاان کی حمایت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ اترپردیش میں چھوٹی جماعتوں نے 2002 سے اتحادی سیاست شروع کرکے ذات پات کو بچانے کی کوشش کی ہے ، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر2017 کے اسمبلی انتخابات میں دیکھنے میں آیاجب قومی اور ریاستی پارٹیوں کے علاوہ 290 کے قریب رجسٹرڈجماعتوں نے اپنے امیدوارکھڑے کیے۔

You might also like