Baseerat Online News Portal

آیورویدکے ڈاکٹروں کو سرجری کا حق ملنے سے چراغ پاآئی ایم اے

کہامیڈیکل اداروں میں داخلے کیلئے کھولا جارہاہے چور دروازہ،فیصلہ واپس لینے کامطالبہ
نئی دہلی، 22 نومبر (بی این ایس )
انڈین میڈیکل سینٹرل کونسل نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے کہ آیور وید کے ڈاکٹربھی کل 58 طریقوں کی سرجری کریں گے۔ انہیں جنرل سرجری (عام چیر پھاڑ)،ای این ٹی (ناک، کان،گلا)،آپتھل مال جی (آنکھ)، آرتھو (ہڈی) اور ڈینٹل (دانتوں) سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لئے ضروری سرجری کر سکیں گے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے آیور ویدک ڈاکٹروں کو دئے گئے اس حق کی سختی سے مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو میڈیکل اداروں میں چور دروازوں سے داخل ہونے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ ایسی صورتحال میں این ای ای ٹی( نیٹ) جیسے امتحان کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی ادارے نے اس نوٹیفکیشن کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے سی سی آئی ایم کے اس فیصلے کو یک طرفہ اور غیر مہذبانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے سی سی آئی ایم پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے آیورویدک ڈاکٹروں کو سرجری سے قاصر قرار دیا ہے۔ ادارے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم اے نے لکشمن ریکھا کھینچا ہے جس کے پار ہوجانے پر اس کے مہلک نتائج برآمد ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھاکہ آئی ایم اے کونسل کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ قدیم علم پر مبنی سرجری کا اپنا طریقہ وضع کرے اور جدید طبی سائنس پر مبنی طریقہ کار سے دور رہے۔اس کے علاوہ آئی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی میڈیکل کالجوں میں ایسے جدید میڈیکل سائنس ڈاکٹروں کی تعیناتی نہ کی جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس طرح کے چوردروازوں کو قبول کرلیا گیا تو پھر نیٹ کی اہمیت کیا ہوگی؟، حکومت سے اپیل کرنے کے ساتھ آئی ایم اے نے اپنے ممبران اور برادرانہ ممبران کو بھی متنبہ کیا کہ وہ طلبہ کو جدید ادویات کے کسی اور سسٹم کی تعلیم نہ دیں۔ آئی ایم اے نے کہاکہ یہ مختلف نظاموں کے اختلاط کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر ایک نظام کو خود ہی ترقی کرنے دو۔

You might also like