Baseerat Online News Portal

ایس ڈی پی آئی نیشنل ورکنگ کمیٹی اجلاس میں انتخابی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ سمیت بارہ قرارداد یں منظور

نئی دہلی:۲۲؍نومبر(پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ 14 اور15نومبر2020کو بنگلور میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کی۔ نائب صدور اڈوکیٹ شرف الدین احمد،پروفیسر نازنین نیگم، دہلان باقوی، جنرل سکریٹریان الیاس محمد تمبے، عبدالمجید میسور، محمد شفیع، قومی خازن اڈوکیٹ ساجد صدیقی، قومی سکریٹریان ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی، سیتارام کھوئیوال، ڈاکٹر محبو ب شریف عواد، اور نیشنل ورکنگ کمیٹی کے دیگر ممبران اور ریاستی صدور اجلاس میں شریک تھے۔ ا جلاس میں ملک کے موجودہ سماجی و معاشی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مندرجہ ذیل 12قرار داد یں منظور کی گئیں۔ 1)۔ انتخابی نظا م میں اصلاحات۔ ہمارے ملک کے انتخابی نظا م میں اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ ہر طرف سے شکایات اور شکوک و شبہات سننے کو مل رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال بہارکی حالیہ اسمبلی انتخابات ہیں جس میں متعدد انتخابی حلقوں میں پولنگ افسران نے مہا گٹھ بندھن کے امیدواروں کا جیت کا اعلان کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے جیت کے سرٹیفکیٹ دینے سے انکارکردیا کہ این ڈی اے امیدواروں نے ووٹوں کے بہت کم فرق سے الیکشن جیت لیا۔ ہزاروں پوسٹل ووٹوں پر بھی شکو ک وشبہات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ نتائج میں ہیرا پھیری کا امکان ہے۔ 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ اور 347انتخابی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی کے درمیان تضاد پایا گیا تھا اور الیکشن کمیشن کئی مہینوں تک اپنی ویب سائٹ میں درست اعداد و شمار ظاہر نہیں کرسکا تھا۔ ای وی ایم (EVM) میں خرابی کی متعدد مثالیں ہیں جہاں ڈسپلے میں کسی بھی بٹن کو دبانے سے بی جے پی کے انتخابی نشان کے سامنے والا لائٹ جلتا ہے۔ پیپر بیلٹ سسٹم کی زبردست مانگ کے باوجود، مرکزی حکومت ای وی ایم سسٹم کا انتخاب کررہی ہے جو مکمل طور پر غیر جمہوری ہے۔ امریکہ جو تکنیکی طور پر ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے، اس نے ای وی ایم سے پولنگ کے نتائج میں ہیرا پھیری کے دلیل کو قبول کرتے ہوئے پیپر بیلٹ سسٹم کو اپنایا ہے۔ایس ڈی پی آئی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ای وی ایم(EVM) کے استعمال کو ترک کردے اور مکمل شفافیت اور درستگی کیلئے ہندوستانی انتخابی نظام میں اصلاح لائیں۔ 2)۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی اور آئینی حقوق سے انکار۔ جموں کشمیر میں غیر انسانی پابندیاں عائد کرنے اور فوج تعینات کرنے کی وجہ سے عوام پریشانی میں ہیں۔ آرٹیکل 370کو منسوخ کرنا اور ریاست کو دو یونین پردیشوں میں تقسیم کرنا جموں وکشمیر کے لوگوں کو آئینی حقوق سے انکار ہے۔مرکزی بی جے پی حکومت کی طرف سے طاقتور فوجی طاقت کے ذریعہ اس اقدام کو مسلط کرنے سے انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق سے انکار کے مترادف ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ جموں کشمیر میں آئین میں شامل آرٹیکل 370کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے اور کشمیری عوام کو اپنے بنیادی اور آئینی حقوق استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ 3۔ متھورا مسجد۔ ملک کی سا لمیت کو ختم کرنے کی کوشش۔ ہندوتوا کی ایک انتہا پسند تنظیم فرقہ وارانہ زہر اگل رہی ہے متھورا مسجد کو تباہ کرنے کا دعوی کررہی ہے جو ملک کی سا لمیت کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔ ایس ڈی پی آئی انتباہ کرتی ہے کہ ایسی کوششیں نہ صرف ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ ہمارے ملک کا امیج بھی خراب کردیں گی۔ ایس ڈی پی آئی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اور یاد دلاتی ہے کہ وہ عبادت گاہ خصوصی ایکٹ1991کے نفاذکو یقینی بنائیں۔ 4)۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے معیشت بحران کا شکار۔ امسال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 23.9کی منفی شرح نمو کی رپورٹ کے تحت ہندوستان میں معاشی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ ایس ڈی پی آئی مطالبہ ہے کہ حکومت کو ملک کی معیشت کو ترقی دینے اور مایوس نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے ریلیف اور بحالی کے منصوبوں اور اسکیموں کے ساتھ سنجیدگی سے آگے آنا چاہئے۔ 5)۔زراعت قوانین منسوخ کیا جائے۔ مرکزی بی جے پی حکومت کے ذریعے نافذ کردہ فارم ایکٹ 2020کسان مخالف ہیں اور ہمارے ملک کے زرعی شعبے کی ترقی کے منافی ہیں۔ ایس ڈی پی آئی نے حکومت کو زراعت ایکٹ کو منسوخ کرنے یا ملک بھر میں زبردست مظاہروں کا سامنا کرنے کا انتباہ کیا ہے۔ 6)۔ سی اے اے، این آر سی، این پی آر منوواد راشٹرا بنانے کیلئے ایک فرقہ وارانہ سازش ہے۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر ہندوستان کو منوواد ملک بنانے کیلئے بی جے پی۔ آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ کے مذموم ایجنڈے کی پیداوارہے۔ بی جے پی حکومت گولوالکر کے ان تصورات پر عمل درآمد کررہی ہے جو ان کی کتاب ‘وی آر۔ اور نیشن ہوڈ ڈیفائنڈ’میں لکھی ہوئی ہیں۔ جس کے مطابق اس ملک سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو بے دخل کرکے یہ دوسری درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گذارنے پر مجبور کرکے اس ملک کو ہندوراشٹر بنانا ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے اپنے اس قرارداد میں مرکزی بی جے پی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگروہ سی اے اے /این آر سی /این پی آرکو نافذ کرنے کاانتخاب کرتی ہے تو، اس ملک کے عوام’دوسری آزادی کی تحریک ‘جاری رکھتے ہوئے متحد ہوکر اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ 7)۔NEP۔ قومی تعلیمی پالیسی فطری طور پر نسل پرست ہے۔ ملک بھر میں قومی تعلیمی پالیسی 2020کی سخت مخالفت کی جارہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قومی تعلیمی پالیسی 2020کو واپس لے اورایک ایسی کونسل کا تقرر کرے جس میں ماہرین تعلیم، دانشوران شامل ہوں جو NEPپر نظر ثانی کریں گے۔ 8)۔ملک کا فیڈرل سسٹم خطرے میں۔ مرکزی بی جے پی حکومت کی پالیسیاں ملک کے وقافی ڈھانچے کے بہت نقصاندہ ہے۔ ریاستوں کو جی ایس ٹی فراہم کرنے میں ناکامی، ریاستی سیاست میں مرکز کی غیر ضروری مداخلت، قدرتی آفات کے دوران ریاستوں کو امدادی فنڈ فراہم کرنے میں ناکامی، آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنا، پلاننگ کمشین کی منسوخی وغیرہ سے وفاقی نظام پر فرق پڑا ہے اور مرکزاور ریاستوں کے مابین تعلقات نازگ ہوگئے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی نے انتباہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت کو ملک کی وفاقیت کے تحفظ اور ہندوستانی آئین اور جمہوریت کی اقدار کی حفاطت کے ذریعہ ملک پر حکومت کرنا ہوگا۔ 9)۔ تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال۔ ملک بھر میں ایسے متعدد واقعات کی رپورٹنگ ہورہی ہے کہ حکومت این آئی اے، ای ڈی، سی بی آئی وغیرہ جیسے تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرکے مخالفین کو دبانے اور دھمکانے کا کام کررہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے بی جے پی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کو ہراسان کرنے کے اس گھناؤنے خیال سے رک جائے اور تفتیشی ایجنسیوں کے وقار اور ساکھ کو بچائے۔ 10۔ جابرانہ قوانین کو منسوخ کریں۔ دانشوروں، اختلاف رائے رکھنے والے کارکنان، طلباء اور یہاں تک کہ عام لوگوں کوبھی یو اے پی اے، پی ایم ایل اے، این ایس اے، ایف ای آر اے کے تحت سیاسی وجوہات کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایس ڈی پی آئی اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ آرٹیکل 22میں شامل کی گئی تمام ترامیم کو ہٹایا جائے۔ 11)۔ معاشی بنیادوں پر ریزرویشن غیر آئینی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ ہے کہ قانون سازی کے ذریعے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کو ریزرویشن کا بنیادی حق بنایا جائے۔ 12)۔ایس ڈی پی آئی اعلی عدلیہ میں کامپوزیشن اور نمائندگی میں مثالی بدلاؤ کی خواہاں ہے۔

You might also like