Baseerat Online News Portal

400 کروڑ کا مسلم لیڈر ۔۔۔۔  ایم ودود ساجد

400 کروڑ کا مسلم لیڈر ۔۔۔۔

ایم ودود ساجد

 

یہ تو آپ کو معلوم ہوگا ہی کہ گزشتہ روز کرناٹک کے سابق وزیر روشن بیگ کو سی بی آئی نے گرفتار کرلیا تھا۔۔ ان کی گرفتاری کیوں ہوئی اس سلسلہ میں شاید ہمارے اخبارات میں کوئی تشفی بخش تفصیلات نہیں آسکیں۔۔۔

 

روشن بیگ سات مرتبہ کرناٹک اسمبلی کا الیکشن جیتے ہیں۔۔۔ اس اعتبار سے وہ قومی سطح پر نہ سہی لیکن کرناٹک میں ایک مسلم لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔ گو کہ وہ خود کو قومی سطح کا ہی مسلم لیڈر گردانتے رہے۔۔ پچھلے دنوں جب کرناٹک کے کچھ کانگریسی ممبران اسمبلی نے پارٹی سے بغاوت اور اپنے ووٹروں سے غداری کرکے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور بی جے پی کی حکومت بنوادی تو روشن بیگ بھی بی جے پی میں چلے گئے تھے۔۔۔ بعد میں ضمنی الیکشن کے دوران ان کی کچھ تصاویر ایسی بھی آئیں جن میں وہ مندروں میں باقاعدہ آرتی اتارتے ہوئے اور مورتی کے آگے ہاتھ جوڑ کر اور سر جھکاکر پوجا کرتے ہوئے نظر آئے۔۔لیکن بی جے پی انہیں بچا نہیں سکی اور سی بی آئی نے انہیں گرفتار کرلیا۔ان کی گرفتاری 2018میں ہی ہوجاتی لیکن کانگریس اور جنتادل کی سرکار نے انہیں بچائے رکھا۔۔۔

 

اب مختصراً یہ جاننا ضروری ہے کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا۔۔ ان پر ” I Monetary Advisory “کے بانی محمد منصور خان سے 400 کروڑ روپیہ (جبراً) وصولی کا الزام ہے۔۔۔ خود منصور خان پر کرناٹک کے چار لاکھ سے زائد مسلمانوں کا 4000 کروڑ روپیہ ہضم کرجانے کا الزام ہے۔منصور خان دراصل ایک اسکیم چلاتے تھے جس کے تحت وہ لوگوں سے ان کے اسلامی طرز کے کاروبار میں پیسہ لگانے کو کہتے تھے اور اس پر وہ انہیں ہر مہینے بڑا بھاری منافع بھی دیتے تھے۔۔۔۔ منصور خان بھی جیل میں ہے۔۔۔

 

سرکاری اصطلاح میں اس اسکیم کو پونزی اسکیم کہا جاتا ہے۔۔۔ یہ پونزی اسکیم کیا ہے؟ یہ دراصل ایک بہت بڑا دھوکہ ہے اور اس کا انجام لازمی طور پر یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کی رقم ڈوب جاتی ہے۔۔۔پیسہ لگانے والوں کو اس کے بارے میں نہیں بتایا جاتا لیکن آر بی آئی‘وزارت خزانہ‘وزارت داخلہ‘پولیس اور انتظامیہ کے بہت سارے محکموں سے اس کی اجازت لینی پڑتی ہے۔۔۔ چونکہ حکومت سے بھی جوڑ توڑ کرکے اس کی اجازت لی جاتی ہے اس لئے بہت سے افسران یہ کام رشوت لے کر کرتے ہیں اور اصل حقیقت کو چھپاکر رکھتے ہیں۔۔

 

اس اسکیم کے تحت یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کے پیسے سے دوسرے شخص کو منافع دے دیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔۔ ظاہر ہے کہ اس میں لگاتار پونجی لگانے والے ممبروں کا اضافہ کرتے رہنا ہوتا ہے اس لئے کمیونٹی کے بااثر لوگوں کا اعتماد بھی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔ اسکیم چلانے والے لوگ ایسے افراد کو خوب پیسہ دیتے ہیں اور وہ اس کے عوض ان کے لئے اپیلیں جاری کرتے ہیں۔۔۔

 

منصور خان نے کرناٹک کے مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ خالص اسلامی طریقہ پر کاروبار کرتے ہیں اور یہ اسکیم بھی خالص اسلامی اصولوں پر چلائی جارہی ہے۔۔ جو لوگ سود سے بچنا چاہتے ہیں اور اسلامی طریقہ پر منافع کمانا چاہتے ہیں ان کے لئے اس اسکیم میں دلکشی ہوتی ہے کیونکہ ان سے کہا جاتا ہے کہ ہم آپ کو سود نہیں بلکہ منافع دیں گے۔۔۔ظاہری طور پر یہ بھی کہاجاتا ہے کہ آپ نفع اور نقصان دونوں میں برابر کے شریک رہیں گے لیکن کسی کو نقصان نہیں دکھایا جاتا بلکہ ہر مہینہ کبھی کم اور کبھی زیادہ نفع دیاجاتا رہتا ہے۔۔

 

مثال کے طور پر آپ نے ایک لاکھ روپیہ جمع کیا تو آپ کو اگلے ہی مہینے سے پانچ ہزار سے سات ہزار روپیہ تک ملنے شروع ہوجاتے ہیں۔۔ایک لاکھ کی رقم جوں کی توں رہتی ہے۔۔۔آپ سمجھتے ہیں کہ ایک سال میں 70-75ہزار روپیہ نفع کا آجائے گا اور ایک لاکھ کی اصل رقم جوں کی توں رہے گی۔۔۔

 

اس ضمن میں بہت سے غریب لوگ حج پر جانے اور اپنی بیٹی کی شادی کے لئے بھی یہ پیسہ لگادیتے ہیں۔ بہت سے دینی مدارس بھی خاصی رقم لگادیتے ہیں۔۔ منصور خان کی اسکیم میں بھی سنا ہے کہ بڑے بڑے مدارس‘علما‘ ائمہ اور عام مسلمانوں کے پیسے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔ ایسی بہت سی اسکیمیں ملک بھر میں چل رہی ہیں ‘ بہت سی چل کر بند ہوگئی ہیں ۔۔۔ ان میں حیدرآباد کی مشہور خاتون نوہیرا شیخ کی ہیرا گولڈ اسکیم بھی شامل ہے۔۔۔ وہ بھی سنا ہے کہ عرصہ سے جیل میں ہیں ۔۔۔ حالانکہ انہوں نے بھی کوئی خاتون سیاسی پارٹی بناکر وزیر اعظم کی ستائش میں ملک بھر کے اخبارات میں “قد آدم” اشتہارات چھپوائے تھے ۔۔۔ ان اشتہارات میں انہوں نے پہلی بار اپنے چہرے سے نقاب ہٹاکر اپنی تصویر بھی چھپوائی تھی۔۔۔

 

اوپر بتایا گیا تھا کہ اس اسکیم کو پونزی اسکیم کہا جاتا ہے۔۔۔ یہ پونزی کیا ہے؟ 3مارچ 1882 کو اٹلی میں ایک شخص چارلس پونزی پیدا ہوا تھا۔وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا اور اس نے دھوکہ سے لوگوں کو لوٹنا شروع کردیا۔۔۔ بعد میں وہ ایک بہت بڑے ٹھگ کے طور پر مشہور ہوا۔جب وہ 38 سال کا تھا تو اس نے 1920میں ایک اسکیم شروع کی۔اس کے تحت وہ لوگوں سے پیسہ لے کر دوسرے لوگوں کے پیسے سے انہیں منافع دے دیا کرتا تھا۔۔لوگوں کو آپس میں کبھی اس کا علم نہیں ہوتا تھا کہ وہ اس پیسے سے کوئی کاروبار نہیں کرتا بلکہ ممبر سازی کا عمل مسلسل جاری رکھتا ہے اور لوگوں سے بڑی رقم لے کر لوگوں کو نفع کی چھوٹی رقم دیتا رہتا ہے۔آخر کار اس کا انجام برا ہوا اور ہزاروں لوگوں کا پیسہ ڈوب گیا۔۔۔

 

یہی کرناٹک میں بھی ہوا۔۔لیکن یہاں جیسا کہ میں نے بتایا کہ منصور خان کی اس فریب دہی میں وزیروں سے لے کر افسروں تک سب شریک تھے۔۔۔ منصور خان پر الزام ہے کہ اسے کرناٹک کے اور خاص طور پر بنگلور کے چار لاکھ سے زائد مسلمانوں نے چار ہزار کروڑ روپیہ دے دیا تھا۔۔ وہ اسلامی طرز پر کاروبار کا لالچ دے کر انہیں ممبر بناتا تھا۔۔ادھر دوسری جانب اس سے وزیر اور افسر بھی خوب موٹی رقمیں بطور رشوت وصول کرتے تھے۔۔۔اسی ضمن میں سی بی آئی کے مطابق روشن بیگ نے بھی چار سو کروڑ روپیہ لئے تھے۔۔۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ کچھ صاحبان جبہ ودستار کو بھی اس نے موٹی رقمیں دی تھیں تاکہ وہ مسلمانوں کو اس کی طرف راغب کرسکیں یا ان کی وابستگی دیکھ کر مسلمان اس پر شک نہ کریں ۔۔۔

 

منصور خان بچ کر دوبئی بھاگ گیا تھا لیکن بنگلور کی کرائم برانچ اسے واپس لے آئی تھی۔۔۔بعد میں بی جے پی کی حکومت نے یہ کیس سی بی آئی کو سونپ دیا تھا۔ سی بی آئی نے منصورخان کی کمپنی کے ملازمین اور اس کے معتمد کارندوں سے جو دستاویزات ضبط کی تھیں ان میں کہاجاتا ہے کہ رشوت کے طور پر دی جانے والی رقوم کا ثبوت ملتا ہے۔۔۔ رشوت لینے والوں میں بہت سے سیاستداں’ پولیس افسران اور کمیونٹی لیڈروں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔۔۔

 

یہ حال ہے ہمارے نمائندوں کا۔۔۔ ہم مسلم قیادت کے فقدان اور سیاسی حصہ داری میں مسلمانوں کی عدم نمائندگی کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن ہمارے نام پر جو لوگ سیاست میں آتے ہیں وہ (بعض استثنا کے ساتھ) اقتدار ملتے ہی پیسہ بنانے میں لگ جاتے ہیں۔۔۔ انہیں حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں ہوتی اور ہم یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ ہماری قیادت کر رہے ہیں۔۔۔ روشن بیگ نے صرف یہی نہیں کہ حرام کا پیسہ کمایا بلکہ دوسری جانب مسلمانوں کو بھی دھوکہ دیا۔۔ مسلمان یہی سمجھتے رہے کہ منصور خان کی IMA اسکیم ایک خالص اسلامی کاروباری اسکیم ہے جسے روشن بیگ کی تائید حاصل ہے۔۔۔اور روشن بیگ جانتے ہوئے بھی مسلمانوں سے چھپاتے رہے کہ یہ سراسر دھوکہ ہے اور اس کی وہ قیمت بھی وصول کرتے رہے۔۔۔

You might also like