طب وسائنسمضامین ومقالات

حسن نباتات کا أثر انسان کی جسمانی وروحانی زندگی پر

محمد جمیل احمد صدیقی
قدرت اور رحمت کا سب بڑا تعارف درخت ہے ۔ درخت بلاشبہ زمین کا زیور ہے۔ اور درختوں کا زیوراور ان کا لباس پتے ہو تے ہیں ۔ یہ برہنہ شاخوںاکو عریانیت کے عیب سے بچا تے ہیں۔اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو یہ حکم دیا ہی کہ اگر تم مجھے پہچاننا چاہتے ہیں تو میری مخلوق کے بارے میں اچھی طرح معلومات حاصل کرو! مجھے پہچاننے کی علامتیں نشانیاں ( آیات ) تم کو میری مخلوقات میںملیں گی ۔ درخت بھی اللہ کی شاہکار مخلوق ہے ۔نباتات کے ذریعہ اللہ کو پہچاننے والوں سے اللہ تعالی کیا کہتا ہے آئیے ذراغور سے سنتے ہیں۔ ( کیا تم نہیں جانتے ؟ ) اس ذات کو جس نے آسمان سے پانی نازل فرمایا (اللہ تعالی فرماتا ہے ) ہم ہی نے پانی کے ذریعہ ہر چیز کی پیداوار کو نکالااہے۔ پھر ہم نے ہی تو اس سے ہرے بھرے ( درخت ، پودے ) اگائے ہیں۔ جس کے دانے بالکل ترتیب سے جڑے ہو ئے ہیں کھجور کے درخت کو ہی لے لیجیئے کہ اس کی ڈالیاں زمین سے کس قدر قریب ہو تی ہیں انگور زیتون ،انار کے باغات کو دیکھئے !ایک جیسے بھی اور علیحدہ علیحدہ بھی ہیں ۔اور پھر پھلوں میں کچے پکے پھلوں کو دیکھئے!( یقینا تم کو معلوم ہو جا ئیگا کہ اس نباتات میں اللہ تعالی کو پہچاننے اور اسکی معرفت حاصل کر نے کے لئے بڑی بڑی) علامتیں ( نشانیاں ) یعنی آٰیات ہیں ۔ جس سے اللہ تعالی کی قدرت کو اور اسکی کاریگری کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں ۔ مگر یہ وہی لوگوں کے لیئے ممکن ہے ۔جو ان نباتات کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہوں ۔ ( انعام : 100) زمین سے نباتات اگنے کے لیئے کچھ چیزیں ضروری ہو تی ہیں جیسے پانی ، روشنی کھاد ، اور کیمیکل اشیاء وغیرہ، ان میں سب سے زیادہ ضروری چیز نائٹروجن ہے ۔ ان ضروری چیزوں کے اللہ نے کس طرح فراہمی فرمائی ہے ہیں یہ وہی لوگ جان سکتے ہیں جواس نباتات کے عمل process کو ازاول تا آخر جان سکتے ہیں۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لآیَاتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (القرآن) اور اس کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہوں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لآیَاتٌ لِّقَوْم یَّعْقِلُوْنَ(القرآن)
نباتات کو پانی پہنچانے کا قدرتی انتظام :روئے زمین کا 69%علاقہ سمندری پانی سے بھرا ہے ۔ لیکن یہ پانی نہ قابل کاشت ہے ۔اور رہا پینے کے قابل اور قابل کاشت پانی جو ندی ،نالوں ، تالابوں ،آبشاروں اور جھرنوں سے دستیاب ہو تا ہے۔ وہ سمندرکے پانی کے مقابل ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ جو بہت ناکافی ہے ۔اور بہت ہی محدود علاقوں میں پا یا جا تا ہے ۔ تمام خشک علاقوں میں پیداوار کے لیئے یہ پانی کی سیرابی کسی بھی انسان کیلئے ممکن نہیں ۔ انسان کی اس بے بسی کی تلافی کیلئے اِس نظام کاشت کاری میں اللہ تعالی خود مداخلت فرماکر پانی سیرابی کا انتظام کس طرح فرماتا ہے؟ اس کا اجمال ذکر قرآن مجید کی اس آیت میں کیا گیا ہے۔ واللہ الذی أرسل الریاح فتثیرسحابا فسقنہ الی بلد میت ( الفاطر :09) ترجمہ: اللہ تعالی کی وہ ذات مقدس ہے ،جو ہواؤں کو روانہ فرماتا ہے اور پھر وہ ہوائیں بادلوں کو زمین کے ہر طرف پھیلا تے ہیں ۔اور پھر انہی بادلوںسے ہم مردہ زمین کو سیراب کرتے ہیں ۔ اس نظام قدرت کی تفصیل یہ ہیکہ سورج کی گرمی سے سمندر کا پانی بھاپ بن کر فضامیں برف کی مانند جم جا تا ہے ،جس کو ہم اور آپ بادل کہتے ہیں ۔اور ہواؤں کے ذریعہ یہ بادل خشک علاقوں کی طرف پھیلا ئے جا تے ہیں ۔اور بجلیوں کے ذریعہ اس بادل کی کٹنگ ہو تی ہے ۔تا کہ ہواؤں کے ذریعہ بادل چو طرف پھیل جائیں ۔اور پھر یہی بادل بارش کی صورت میں ہر طرف نازل ہوتے ہیں ۔ بارش کے اس عمل کا فائدہ یہ ہو تا ہیکہ سمندری پانی کا نمک پانی سے علیحدہ ہو جا تا ہے ،جس کی وجہ سے سمندری پانی جو اب تک پینے اور کاشت کے قابل نہیںتھا ، اب نمک علیحدہ ہو جا نے کی وجہ سے وہی پانی قابل کاشت ہو جا تا ہے۔ اس طرح خدا کے اس عمل کو قرآن مجید کی زبانی بغور سماعت رمائیے انا أرسلنا الریاح بشرا بین یدی رحمتہ ۔۔۔۔ایک اور مقام پر اللہ نے ارشاد فرمایا : وتری الارض ھامدۃ فاذا أنزلنا علیھا المآء اھتزت وربت وأنبتت من کل زوج بھیج ( حج : 05)( خدائے تعالی اسی انتظام کی وجہہ سے ) آپ دیکھتے ہیں کہ زمین ، جو بالکل پتھریلی اور بنجر تھی ، جیسے ہی ہم او پرپانی نازل کرتے ہیں تو ( اچانک ) پھٹ پڑتی ہے اور نشو نما پاتی ہے ۔اور پھر ہر طرح کے دلکش پیداوار نکل آتے ہیں ۔ یہ سب کو ن کر تا ہے یقینا وہی ذات جو یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی ترجمہ : جو مردہ سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتاہے ۔ یہ تو رہا پانی کی فراہمی میں قدرتی انتظام۔ اب آئیے کھاد کی فراہمی کا قدرتی انتظام جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ نباتات کی پیداوار اور اس کی نشونمامیں کھاد کے طور پر جو چیزیں فائدہ مند ہو تی ہیں وہ یہ ہیں ۔ جانوروں کی لید ، گوبر ، انسانی فضلہ ،چونا ، پوٹا شیم ، خون ،درختوں کے جھڑے ہو ئے پتوں کی بھونسی اوردرختوں کی چھال وغیرہ ۔ اس سلسلہ میں موسم خزاں ( پت جھڑ کا موسم ) بھی انسان کیلئے بہت زیادہ فائدہ منداور باعث رحمت ثابت ہو تا ہے ،جب کہ انسان اسی موسم کو موسم بہارکے مقابل بہت زیادہ حقیر سمجھتا ہے ۔ پت جھڑ کے موسم میں درختوں کے سارے پتے جھڑ کر بظاہر انسانوں کے لئے بے فائدہ ہو تے ہیں۔ لیکن اللہ تعالی ان جھڑے ہو ئے پتوں سے ایک بہت بڑا کام یہ لیتا ہے۔ کہ یہ پتوں کے ذرات مٹی میں مل کر کھاد کا کام دیتے ہیں ۔ اس طرح ایک کسان جب اپنی زمین پر کھیتی کر تاہے ،تو کسان کی محنت قدرت کے کارندوں کے مقابل بالکل نہ کے برابر ہوتی ہے ،خدائی کاریگری ،اُس کسان کے ساتھ تقریبا ہم آہنگ ہو کر تقریباً 12 گنا زیادہ محنت ،فطرت کا عمل Process ہو تا رہتا ہے۔ گو یا ایک ایکر زمین میں ایک کسان کام کرتا ہو، تو ایک نہیں بلکہ تیرہ کسان کا م کر رہے ہو تے ہیں ۔کیوں کہ جس قدر کھیت کو پانی کی ضرورت ہو تی ہے ۔وہ ایک کسان نہیں کر پاتا ۔اس لیئے اللہ تعالی بقیہ سیرابی کاکام بادلوں سے لے لیتا ہے۔ سورج کی روشنی توخالص قدرت کی جانب بغیر چارج کے فراہم کیا جا تا ہے ۔ تھوڑی سی کسان کی خریدی ہو ئی کھا د اُس کھیت کو کافی نہیں ہو تی تھی ۔ اِس لیئے اُن پتوں کو اللہ تعالی کھاد بنا دیتا ہے ،جو پت جھڑکے موسم میں جھڑتے ہیں ۔اور نباتات کی بڑھنے اور ثمر آور ہو نے تک حفاظت کر نے کیلئے کسان کی تدابیر بھی کافی نہیں ہو سکتی تھیں ۔ اس لیئے اللہ تعالی کروڑوں کی تعداد پیڑپودوں کی جڑوں میں اطراف سے بیکٹریا پیدا فرماتا ہے، جو کہ مھلک جراثیم کو دفع کرتے رہتے ہیں ۔ کسان کی محنت کے ساتھ قدرت کی اس ہم آہنگی کی طرف توجہ دلاتے ہو ئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:أأنتم تزرعونہ ام نحن الزارعون ( الواقعۃ) اب آئیے اس بات کو غور سے سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں کہ زمینی پیداوار میں کیمیائی اشیاء کی فراہمی میں قدرت کس طرح سرگرم عمل رہتی ہے ۔
درخت ہمیں کیا سکھاتا ہے: درخت خدا کی نعمت عظمی ہے ۔ خدائی نشانی ہے بیج زمین میں ڈالتے ہی وہ کائنا ت کی بے شمار چیزوں کا مرکز عمل بن جا تا ہے ۔سورج اپنی شعائیں ڈالتا ہے ، ہوا اس کوکاربن ڈائی آکسائیڈ فراہم کر تی ہے۔ بیکٹریاکروڑوں کی تعداد میں جمع ہو کراس کو فضا سے نائٹروجن الگ کر کے اس سے غذافراہم کر تی ہے۔ لیکن درخت بھی صرف لینے والوں کی فہرست میں نہیں بلکہ وہ بھی دوسروں کے لیے بیحد فائدہ مند ہے۔ اگر وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے ،تو مفید چیز آکسیجن کی صورت میں لو ٹادیتا ہے ۔ سایہ تلاش کر نے والوں کو سایہ فراہم کرتا ہے ۔گزرنے والوں مہک،خوشبو اور سرسبز منظر کا تحفہ پیش کر تا ہے ۔بھوکوں کو کھلا تا ہے ۔اس قدر فائدہ مند رہنے کے لیے اس کو تقریبا اپنا نصف وجود زمین میں گاڑھے رکھنا پڑتا ہے۔ درخت رسو ل کریم ﷺ کی حدیث شریف ’’ اس کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو جو تمہار ساتھ براسلوک کر و أحسن من أسآء الیک پر پوری طرح عمل کر تاہے۔ یعنی جو اسے پتھر مارے، تووہ اسے پھل دیتا ہے ۔جو اسکو آرے سے کاٹے وہ اسے لکڑی مہیا کرتا ہے ۔جس کو جلانے کے علاوہ اس سے انسان کی تمدنی ضرورتیں پوری کی جا تی ہیں ۔ درخت زمین سے غذا حاصل کر کے خود نہیں کھا جا تا۔ بلکہ پتو ںاور ڈالیوں کو برابر دیتا ہے ۔درخت ان پتو کی بہت قدر کرتا ہے، جو اس کے لیئے کاربن ڈائی آکسائڈ فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں۔ لیکن جو پتے یہ کام کرنے میں سستی کرتے اور سوکھ جاتے ہیں ۔وہ اُنھیں اپنے سے دور کردیتا ہے۔ تاکہ دوسرے پتے بھی اس کی طرح تن آسان نہ بن جائیں ۔جو درخت اس طرح کائنات سے اپنے لین دین معاملے میں برابر ی اورایمانداری سے کام کرتا ہے، وہی ترقی کرتا ہے۔ یعنی دن بدن بڑھتا رہتاہے۔ ریحان احمد یوسفی کا یہ اقتباس بھی پڑھیئے’’ہر انسان شاخ ہستی پر ایک پتی کی طرح نمودار ہا ہے ۔ بہت جلد وہ وقت آرہاہے کہ جب انسان کا وجود خزاں کی کسی شام میں موت کی پت چھڑکی نذر ہو جا ئے گا ۔ اسکا وجود زمین کی مٹی میں رل مل جا ئے گا ۔ پرودگار ! یہی کچھ بہت جلد میرے ساتھ ہو نے جارہا ہے ۔ میرا وجود بھی خاک سے اٹا ہے۔ اور بہت جلد موت کی ہوا ،اُسے شاخ زندگی سے جدا کر کے قبر کی مٹی میں ملادے گی ۔ میں اس حقیقت کو یادرکھوں یا بھول جاؤں ۔ یہ واقعہ ہو کر رہے گا ۔ اس سے پہلے کہ یہ ہو ۔اے میرے پروردگار تومجھے معاف کر دے ۔ اغفرلی یارب اغفرلی‘‘قرآن مجید میں اللہ تعالی مؤمن کی مثال ایک درخت سے دی ہے۔ مؤمن کو بھی اپنا معاملہ لین دین میں اور دوسروں کی مددمیں اور جذبہ قربانی و ایثار میں درخت کی طرح رہنا چاہیئے ۔(یو این این)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker