Baseerat Online News Portal

گلناز قتل معاملے میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی کی خاموشی کا راز کیا ہے،  سماجی کارکن توقیر احمد منا کا ان پارٹیوں کے بڑے مسلم لیڈروں سے سوال

گلناز قتل معاملے میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن پارٹی آر جے ڈی کی خاموشی کا راز کیا ہے،

 

سماجی کارکن توقیر احمد منا کا ان پارٹیوں کے بڑے مسلم لیڈروں سے سوال،

رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔۔ مقامی بلاک کے لتراہا گاوں کے سماجی کارکن توقیر احمد منا نے جمہوری ہندوستان میں گلناز کے قتل معاملے پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برسراقتدار اور حلیف جماعت آرجے ڈی کے بڑے مسلم لیڈروں پر سخت حملہ آور ہوتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف گلناز کو زندہ جلا کر مار ڈالا گیا ہے بلکہ پوری انسانیت کا قتل ہوا ہے۔ایسے حساس معاملے میں آرجے ڈی کے بڑے مسلم لیڈروں کی جانب سے کوئی ردعمل نہ آنا پارٹی کے منصوبے پر کئی سوال پیدا کرتا ہے۔انہوں نے جمعہ کو جاری اپنے ایک پریس ریلیز کہا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اقتدار کے لوگ گلناز کو انصاف دلانے میں کس کے منتظر ہیں، حکومت ایک طرف بولتی ہے ۔ بیٹی پڑھاؤ ۔ بیٹی بچاؤ ، لیکن جب بیٹیوں کا قتل ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو حکومت کا یہ نعرہ آج کہا چلا جاتا ہے۔ کیا گلناز اس دیش کی بیٹی نہیں تھی جس کے انصاف کے لئے برسراقتدار اور ایم ۔وائی کا نعرہ لگانے والی اپوزیشن پارٹی آرجے ڈی سے کوئی ردعمل نہیں آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انصاف کا گلا گھونٹا نہیں جاسکتا ہے۔متاثرہ کنبہ کو بلا تفریق انصاف دیا جانا چاہئے ۔مسٹر توقیر احمد نے سشاشن بابو بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اور آرجے ڈی لیڈر و سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرم کرنے والا کوئی بھی ہو اسے سخت سے سخت سزا ملے تاکہ یہاں کی بیٹیاں محفوظ رہے۔انہوں نے کہا کہ

 

بہار کے عوام بھی اس معاملے میں تیجسوی یادو کی خاموشی کا راز جاننا چاہتے ہیں۔ جس طرح حالیہ اسمبلی انتخابات میں یہاں کے اقلیتی لوگوں نے آرجے ڈی کو اپنی بے پناہ عوامی حمایت کی ہے ۔اسی طرح یہاں کے لوگ بھی پارٹی سے توقع کرتے ہیں کہ گلناز کے ملزمین کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ گلناز ہے تو ہمارے بڑے قائدین منہ نہیں کھول رہے ہیں ۔اگر یہ منیشا ہوتی یا کویتا ہوتی تو آج تمام بڑے قائدین اپنی سیاست کرنے آئے ہوتے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد سے جلد درست اقدامات کریں اور مجرموں کو جلد سے جلد سزا دی جائے۔

You might also like