Baseerat Online News Portal

جمعیۃ علماء ہند کی طرف سےوکیل شکیل احمدسید،مولاناکلب صادق،احمدپٹیل اورمولاناانظرشاہ کی اہلیہ کی وفات پرتعزیت

نئی دہلی:25/ نومبر(پریس ریلیز)
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے موقر رکن اور سپریم کورٹ کے معروف وکیل شکیل احمد سید کے سانحہ ارتحال پر صدر جمعیۃ علما ء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے گہرے رنج والم کا اظہار کیا ہے۔مرحوم 1982 سے سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ تھے۔ساتھ ہی 1984ء سے جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے مدعو خصوصی اور دسمبر 1999ء سے تادم واپسیں اس کے مستقل رکن رہے۔24/نومبر کی شام چھ بجے گروگرام کے میدانتا ہسپتال میں انھوں نے آخری سانس لی،25/نومبر کو دہلی گیٹ قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔مرحوم کا اصل وطن فیض آباد یوپی کاایک گاؤں سنکھری ہے جہاں وہ یکم اگست 1952ء کو پیدا ہوئے۔ وہ نہایت وضع دار، شریف النفس، غریب پرور، خوش مزاج، نرم گفتار اور اعلی کردار کی حامل شخصیت کے مالک تھے، انھوں نے متعدد ملی و قومی مسائل میں سپریم کورٹ میں جمعیۃ علماء ہند،ریاستی وقف بورڈس اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی نمایندگی کی۔ اس وقت بھی وہ جمعیۃ علما ء ہند کی طرف سے چند اہم مقدمات میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہیں، حضرت فدائے ملت نوراللہ مرقدہ نے ان کو اپنے مشیروں میں ایک معتمد ساتھی کے طور پر شریک کیا اور وہ ہمیشہ جمعیۃ علماء ہند کی مختلف کمیٹیوں اور تحریکوں میں اہم رکن اور مشیر کے طور پر شامل رہے۔ جمعیۃ علماء ہند ایسی لائق فائق شخصیت کی غیر موجودگی کاہمیشہ احساس کرتی رہے گی۔
صدر جمعیۃعلماء ہند و ناظم عمومی نے مرحوم کے جملہ پسماندگان کی خدمت میں دلی ہمدردی و تعزیت مسنونہ پیش کی ہے اوردعاگو ہیں کہ اللہ تعالی مرحوم کو جنات عدن میں مقام اعلی عطا فرمائے اور پسماندگان کو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس موقع پر جماعتی احباب و متعلقین و ائمہ مساجد سے پرخلوص اپیل کی جاتی ہے کہ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت و ایصال ثواب کا اہتمام کریں۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کانگریس پارٹی کے اہم رکن اور خازن جناب احمد پٹیل کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کی مغفرت اور درجات علیا کے لیے خصوصی دعاء کی ہے۔مرحوم کانگریس پارٹی کے پرانے خادم، باشعور سیاست داں اور دیانت دار پالیسی ساز تھے، جنھوں نے ہمیشہ کسی عہدے کی تمنا اور لالچ کیے بغیر ا پنی پارٹی اور اس کی صدر سونیا گاندھی کی خدمت کی۔ان کی ز ندگی کی سب سے ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ وہ اقتدار کی کنجی کے نگہ باں ہونے کے باوجود ہمیشہ لو پروفائل رہے اور سیاست کے مرکز میں رہ کر بھی خود کو نمایاں بننے کی کوشش نہ کی۔
احمد پٹیل مرحوم، جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی ؒ سے خاص تعلق رکھتے تھے اور حضرت فدائے ملت ؒ سے ملاقات کے لیے بارہا دفتر جمعیۃ علماء ہند حاضر ہوتے۔ ان کو جمعیۃ علماء ہند کے اکابر کی افکار و آراء سے بھی یک گونہ تعلق تھا، شروع میں وہ اپنی ریاست گجرات میں مولانا عبدالصمد واکانیریؒ سابق صدر جمعےۃ علماء گجرات کے قریب تھے، مولانا عبدالصمد مرحوم نے ہی حضرت فدائے ملت ؒ سے ان کی ملاقات کرائی تھی۔ان کی وفات کی خبر موصول ہوتے ہی جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد میدانتا ہسپتال گروگرام پہنچا اور ان کے متعلقین کی خدمت میں جمعیۃ علما ء ہند کی طرف سے تعزیت پیش کی، وفد میں مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، مفتی سلیم احمد بنارسی، جمعیۃ یوتھ کلب کے مولانا عبدالہادی، محمد آصف، واعظ امن، شفیع اللہ وغیرہ شامل تھے۔
دوسری طرف صدر جمعیۃ علماء ہند اور ناظم عمومی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صد ر اور معروف شیعہ عالم ڈاکٹر کلب صادق کی وفات حسر ت آیات پر رنج والم کا اظہار کیا ہے، جمعیۃ علماء ہند ان کی مختلف تعلیمی، رفاہی اور ملی کوششوں کو بنگاہ قدر دیکھتی ہے، وہ بلاشبہ اس دور میں ملت کی شیرازہ بندی کے علم بردار تھے، جمعیۃ علماء ہند کی دعوت پر مختلف اجلاسوں اور کانفرنسوں میں شریک ہوتے رہے۔ اس مصیبت اور دکھ کے وقت میں جمعیۃ علماء ہند ان کے اہل خانہ و متوسلین سے تعزیت کا اظہار کرتی اور یک جہتی کا اظہار کرتی ہے۔
اس درمیان دیوبند سے بھی یہ دکھ دینے والی خبر موصول ہوئی کہ حضرت مولانا انظرشاہ صاحب کشمیری ؒ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم وقف دیوبند کی اہلیہ محترمہ کا سانحہ ارتحال ہو گیا۔ جمعیۃ علماء ہند ان کے جملہ پسماندگان بالخصو ص حضرت مولانا احمد خضر شاہ مسعودی دامت برکاتہم کی خدمت میں تعزیت مسنونہ پیش کرتی ہے، اللہ تعالی ان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحومہ کو درجات علیا سے سرفراز فرمائے (آمین)

You might also like