Baseerat Online News Portal

کورونا ویکسین کب اور کیسے ملے گی؟

آن لائن نیوزڈیسک
دواساز کمپنیوں فائزر انک، بائیو این ٹیک ایس ای اور موڈرنا انک نے کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق تجربات کے اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں، جن میں بتایا گیا ہے کہ ویکسین بیماری سے بچانے میں 95 فیصد موثر ہے جبکہ دوا ساز کمپنی آسترا زینکا نے رواں ہفتے کہا تھا کہ اس کی ویکسین 90 فیصد تک موثر ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر آنے والے ہفتوں میں ان میں سے کسی ویکسین کی منظوری دی جاتی ہے تو دواساز کمپنیوں کے مطابق فوراً ہی ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا اور حکومتیں اس کا فیصلہ کریں گی کہ کب کس کو اور کیسے دی جائے گی۔

دواساز کمپنیاں کب ویکسین کی فراہمی شروع کریں گی؟
فائزر، موڈرنا اور آسترا زنکا نے پہلے ہی ویکسین بنانا شروع کر دی ہے۔ فائزر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ 25 ملین افراد کے لیے ویکسین فراہم کرے گی۔
موڈرنا 10 ملین افراد اور آسترا زنکا 100 ملین سے زائد افراد کو ویکسین فراہم کرے گی۔
امریکی محکمہ دفاع اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن ملک میں ویکسین کی فراہمی کا انتظام سنبھالیں گے۔ ممکنہ طور پر دسمبر کے وسط میں 6.4 ملین ویکیسن کی خوراکیں ابتدائی طور پر جاری ہوں گی۔
برطانوی محکمہ صحت کے حکام جلد سے جلد منظور شدہ ویکسین کے لانے کا ارادہ رکھتے ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ دسمبر میں ویکسین متعارف کروائے۔یورپ میں یہ ہر ملک پر منحصر ہے کہ وہ ویکسین کی فراہمی کب شروع کرے گا۔

امریکہ میں ویکسین کن کے لیے دستیاب ہوگی؟
امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کا کہنا ہے کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے اجازت ملنے کے بعد سب سے پہلے ویکسین 2.1 کروڑ طبی کارکنوں اور نرسنگ ہومز کے 30 لاکھ رہائشیوں کو دی جائے گی۔
اس کے بعد ان افراد کو ویکسین دی جائے گی جو گھروں سے کام نہیں کر سکتے، اسی طرح کورونا وائرس کے شدید متاثرہ مریضوں کو بھی ترجیج دی جائے گی۔
امریکی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین تمام شہریوں کے لیے فارمیسیوں اور کلینکس میں اپریل سے دستیاب ہوگی۔
یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کب بچوں کے لیے کورونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہوگی تاہم فائزر اور بائیو این ٹیک نے 12 سال کی عمر کے بچوں میں ویکسین کی ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا ہے۔

دیگر ممالک میں ویکسین کب تک دستیاب ہوگی؟
یورپی یونین، برطانیہ، جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا ویکسین کی منظوری سے متعلق کارروائی کا عمل تیز کر رہے ہیں۔
رواں برس آسترا زینکا کی بہت ساری خوارکیں برطانیہ پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اگر ویکسین منظور ہوتی ہے تو دسمبر میں لوگوں کو ویکسین لگانا شروع کر دیں گے۔
بہت سے ممالک کا کہنا ہے ویکسین پہلے عمر رسیدہ افراد، فرنٹ لائن ورکرز اور شدید متاثرہ افراد کو دی جائے گی۔
اگلے سال کے آغاز میں اٹلی، بلغاریہ اور جرمنی میں فائزر اور بائیو این ٹیک کی جانب سے ویکسین کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

ترقی پذیر ممالک میں ویکسین کی دستیابی کب تک؟
عالمی ادارہ صحت کی سربراہی میں ویکسین کی تیاری کے لیے بنائے گئے پلیٹ فارم کوویکس اور گاوی ویکسین گروپ امیر ممالک اور فلاحی اداروں سے غریب ممالک کے لیے ویکسین خریدنے اور مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے فنڈز اکھٹے کر رہے ہیں دونوں اداروں نے اب تک دو بلین ڈالرز اکھٹے کیے ہیں۔
ان کا پہلا ہدف غریب ممالک کے تین فیصد افراد کو ویکسین دینا ہے جس کے بعد یہ 20 فیصد افراد کو ویکسین دیں گے۔
کوویکس اور گاوی نے آسترا زینکا سے ویکسین خریدنے کا ایک عارضی معاہدہ کیا ہے۔ آسترا زینکا کی ویکسین کے لیے فائزر کی ویکسین جیسا الٹرا کولڈ سٹوریج کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ابھی یہ واضح نہیں لیکن توقع ہے کہ 2021 میں جنوب مشرقی ایشیا اور افریقی ممالک میں یہ ویکسین یا تو مفت یا بہت ہی کم قیمت میں دستیاب ہو جائے گی۔

قیمتوں پر بات چیت
ویکسین سازوں اور حکومتوں نے مختلف قیمتوں پر بات کی ہے، جن میں سے تمام کو عوام کے علم میں نہیں لایا گیا ہے۔
حکومتوں نے کچھ ڈالرز سے لے کر 50 ڈالر تک دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کی ایک خوارک اور فائزر کی دو خوراکوں کے لیے ادا کیے ہیں۔
بہت سے ممالک کا کہنا ہے کہ ان کے شہریوں کی ویکسین کے لیے حکومت پیسے دے گی۔

You might also like