Baseerat Online News Portal

دہلی فسادات:پولیس کو قبول نامہ لیک ہونے کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

نئی دہلی،26نومبر(بی این ایس )
دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو سٹی پولیس سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم کاقبول نامہ میڈیا میں لیک ہونے کے الزامات کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کوکہاہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران فروری میں شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ تشدد کے الزام میں طالب علم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جسٹس وبھو باکھرو نے پولیس سے اسٹیٹس رپورٹ میں اس حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا ذکر کرنے کو بھی کہا ہے۔ دہلی پولیس کی طرف پیش ایڈووکیٹ امت مہاجن نے عدالت کو بتایا کہ کیس ڈائری سے اعتراف جرم کے معاملے میں تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسٹیٹس رپورٹ درج کرنے کے لئے وقت مانگا۔ ہائی کورٹ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کررہی تھی، جس میں میڈیا میں بیان سامنے آنے کے معاملے میں پولیس پرلاپرواہی برتنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تنہا کی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ سدھارتھ اگروال نے کہا کہ پولیس کی جانب سے دستاویزات لیک ہونے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کے علاوہ ایک سنجیدہ جرم بھی ہوا ہے اور اس معاملے میں مناسب کاروائی کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زی نیوز میڈیا کارپوریشن لمیٹڈ اور آپ انڈیا میڈیا انسٹی ٹیوشن کے ذریعہ میڈیا میں ایسے دستاویزات لانا پروگرام کوڈ کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں تحریری بیان داخل کرنے کے لئے وقت مانگا ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 18 جنوری کو مقرر کردی ہے۔

You might also like