Baseerat Online News Portal

مختصر جامع سوانح حیات 100 واں یومِ وفات ۔۔۔۔۔۔ 30 نومبر ۔۔۔۔۔۔ 1920ء شیخُ الھِند حضرتِ اقدس مولانا محمُود حَسن صاحب دیوبَندی نوّر اللہ مَرقدہ

 

مختصر جامع سوانح حیات
100 واں یومِ وفات ۔۔۔۔۔۔ 30 نومبر ۔

از : محمد طاھر قاسمی ابن حضرت مولانا قاری دین محمد صاحب قاسمی میواتی ثم الدھلوی رحمۃ اللہ علیہ ، سابق خطیب و امام جامع مسجد حوض رانی نئی دھلی انڈیا

آپ دارالعلوم دیوبند کے سب سے پہلے طالب علم ، شیخ العالَم ، المعروف بہ شیخ الہند ، اسیرِ مالٹا ، ھزاروں عُلماء کے مُربّی و استاذ ، اپنے دور کے مُحدّث و مُفسّر ، دارالعلوم دیوبند کے صدرُالمُدرسین و شیخ الحدیث ، ریشمی رومال تحریک کے بانی ، عظیم مُجاھد اور جنگِ آزادی کے علمبردار تھے ۔

*ولادت :*
حضرت شیخ الھندؒ کی پیدائش 1268ھ مطابق 1851ء میں بمقام بانس بریلی یوپی میں ہوئی ، جہاں آپ کے والد ماجد حضرت مولانا ذوالفقار علی صاحبؒ بوجہ ملازمت مع اھل و عیال مقیم تھے ۔
والد محترم نے آپ کا نام محمود حسن رکھا ، اور تاریخی نام بعض علماء نے “ولد ذوالفقار علی” تجویز کیا ۔

*تعلیم و تربیت :*
آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں میاں جی منگلوریؒ سے پڑھیں ، اور کتب عربیہ اپنے چچا مشھور عالم حضرت مولانا مہتاب علیؒ سے پڑھیں ، قدوری اور شرح تھذیب پڑھ رھے تھے کہ دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا ، آپ اس میں داخل ہوگئے ۔
اکثر کتب درسیہ دارالعلوم دیوبند کے اولین استاذ حضرت مولانا مُلاّ محمود دیوبندیؒ سے پڑھیں ، آپ کے اساتذہ کرام میں حضرت مولانا مُلاّ محمود دیوبندیؒ ، حضرت مولانا سیّد احمد دھلویؒ اور حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ کا نام شامل ھے ، نصاب دارالعلوم کی تکمیل کے بعد حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی خدمت میں رہ کر علم حدیث کی صحاحِ ستہ اور دیگر علوم کی اعلی کتابیں پڑھیں ، فنون کی بعض اعلیٰ کتابیں اپنے والد ماجد ( حضرت مولانا ذوالفقار علیؒ ) سے پڑھیں ۔ 1290ھ مطابق 1873ء میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے دستِ مبارک سے دستار فضیلت حاصل کی ۔
زمانہ تعلیم ہی میں آپ کا شمار حضرت نانوتویؒ کے ممتاز تلامذہ میں ہوتا تھا اور حضرت نانوتویؒ آپ پر خاص شفقت فرماتے تھے ۔ قاسمی علوم کا جو فیضان آپ کی ذات سے ہوا اس کی نظیر دوسرے تلامذہ میں نہیں ملتی ، آپ حضرت نانوتویؒ کے علوم و افکار کے امین تھے اور ان کی ایضاح و تشریح میں نمایاں حصہ لیا ۔

*علوم و تقوی میں یگانہ روزگار شخصیت اور درس و تدریس :*
حضرت شیخ الھندؒ کی اعلیٰ علمی و ذہنی صلاحیتوں کے پیش نظر دارالعلوم دیوبند کی مدرسی کے لئے اکابر کی نظر انتخاب آپ کے اوپر پڑی اور 1291ھ میں مدرس چہارم کی حیثیت سے آپ کا تقرر عمل میں آیا ۔
حضرت شیخ الھندؒ نے اپنی تدریسی زندگی کے آغاز سے بڑی محنت اور جاں فشانی کے ساتھ دارالعلوم دیوبند کی خدمت کی ۔ کبھی کبھی آپ کے ذمہ 19؍ کتابوں کا سبق متعلق ہوتا تھا اور آپ مغرب و عشاء اور فجر کے بعد بھی اسباق پڑھاتے تھے ۔ حضرت نانوتویؒ کی وفات کے حادثہ جانکاہ کی وجہ سے تدریسی سلسلہ موقوف کردیا تھا لیکن پھر حضرت مولانا شاہ رفیع الدین دیوبندیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند کے اصرار کے بعد دوبارہ مسند تدریس سنبھالی ۔
1308ھ مطابق 1890ء میں حضرت مولانا سید احمد دھلویؒ کے بعد دارالعلوم دیوبند میں صدارت تدریس کے منصب پر فائز ہوئے ۔ دارالعلوم دیوبند صدارت تدریس کا مشاھرہ اس وقت 75 ؍ روپیہ تھا ، مگر آپ نے 50 ؍ روپئے سے زیادہ کبھی قبول نہیں فرمائے ، بقیہ 25 ؍ روپئے دارالعلوم کے چندے میں شامل فرمادیتے تھے ۔
ظاھری علم و فضل کی طرح باطن بھی آراستہ تھا ۔ طریقت کی تحصیل حضرت مولانا رشید احمد گنگوھیؒ کی بارگاہ میں کی ۔ جب آپ کو سلوک و تصوف میں کمال حاصل ہوگیا تو حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ کو تحریر فرمایا کہ مولوی محمود حسن اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ حضرت کی طرف سے ان کو اجازت و خلافت عنایت فرمادی جائے ۔ جب تک حضرت حاجی صاحبؒ حیات تھے ، حضرت گنگوھیؒ بالعموم خود اجازت و خلافت دینے کے بجائے آپ سے سفارش کرتے تھے اور حضرت حاجی صاحبؒ اجازت و خلافت کی تحریر بھیج دیتے تھے ، پھر اس کے بعد آپ بھی اپنی طرف سے اجازت و خلافت دے دیتے تھے ۔
حضرت شیخ الھندؒ اور اوراد و وظائف ، شب بیداری اور تہجّد گزاری کے ہمیشہ پابند رھے ۔ جن ایام میں آپ اٹھارہ انیس اسباق پڑھاتے تھے ، عشاء اور فجر کے بعد بھی درس ہوتا تھا ، رات میں مطالعہ بھی کرتے تھے اور شب بیداری کے معمول میں کبھی فرق نہیں آتا تھا ۔ اسارت مالٹا کے زمانے میں جب کہ وہاں کی سردی اور برفانی ہوائیں نوجوان ہمراہیوں کے لئے ناقابل برداشت تھیں ، آپ بڑھاپے اور لاغری کی حالت میں بھی رات کو اخیر پہر اٹھ کر اپنے مولی سے راز و نیاز میں مصروف ہوجاتے ۔
آپ کی زندگی میں بڑی سادگی تھی ۔ گفتار و کردار ، عادات و اطوار اور لباس وغیرہ میں کسی طور پر برتری کا اظھار نہیں فرماتے تھے ۔ تواضع و خاکساری طبیعت میں بہت زیادہ تھی ۔ غرباء اور معمولی آدمیوں میں رہنا پسند فرماتے تھے ۔ امراء اور اھل دنیا کے تکلفات سے گھبراتے تھے ۔ بڑے فقیہ تھے ، نقلی و عقلی علوم میں پوری مہارت تھی ۔ تاریخ کا مطالعہ بھی بڑا وسیع تھا ۔ شعر و ادب سے بھی لگاو تھا اور بہت زیادہ اشعار یاد تھے ۔ خود بھی شاعر تھے ۔ آواز صاف تھی ، کلام میں ایجاز تھا ۔ درمانہ قد تھا ۔ چلنے اور بات کرنے میں بڑا وقار تھا ۔ آپ کے چہرے سے ہمت اور تواضع کے آثار نمایاں تھے ، عبادت اور مجاھدہ کا نور ٹپکتا تھا ۔ احباب اور تلامذہ کے ساتھ انبساط کے باوجود وقار اور ہیبت کا اثر دکھائی دیتا تھا ۔

*حضرت شیخ الھندؒ کا علمی فیضان :*
تدریس کی ابتداء آپ نے دارالعلوم دیوبند سے کی اور آخر تک آپ کا علمی فیضان جاری رہا ۔ آپ کے درس کا امتیاز تحقیق اور ایجاز تھا ، لب لباب پر اقتصار فرماتے تھے ۔ محدّثین اور ائمۂ مجتہدین کا بے حد احترام کرتے تھے ۔ آپ کے حلقہ درس کو دیکھ کر سلف صالحین اور اکابر مُحدثین کے حلقہ درس کا نقشہ نظروں میں پھر جاتا تھا ۔ قرآن و حدیث حضرت کی زبان پر تھا ، صحابہ و تابعین اور فقہاء و مجتہدین کے اقوال اور ائمہ اربعہ کے مذاھب ازبر تھے ۔ بہت سے ذی استعداد اور ذہین ذکی طالب علم جو مختلف اساتذہ کی خدمتوں میں استفادہ کرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے اپنے شکوک و شبہات کے کافی و شافی جواب پانے کے بعد حضرت مولانا کی زبان سے آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کے معانی اور مضامین عالیہ سن کر سر نیاز خم کرکے معترف ہوتے کہ یہ علم کسی میں نہیں ھے اور ایسا محقق عالم دنیا میں نہیں دیکھا ۔
آپ کی زبردست علمی شخصیت کے باعث کثیر تعداد میں طلبہ نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے فراغت حاصل کی ۔
دارالعلوم دیوبند کے صف اول کے فضلاء و علماء میں تقریبا سب ہی نے آپ سے کسب فیض کیا ھے ۔ حضرت شیخ الھندؒ کے فیض تعلیم نے مختلف علوم و فنون کے ماہرین کی ایک جماعت تیار کی ھے ۔ مثلاً : حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ ، حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ، حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دھلویؒ ، حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ ، حضرت مولانا شبّیر احمد عثمانیؒ ، حضرت مولانا سیّد اصغر حسین دیوبندیؒ ، حضرت مولانا منصور انصاریؒ ، حضرت مولانا ابراھیم بلیاویؒ ، حضرت مولانا اعزاز علی امروہویؒ ، حضرت مولانا سیّد مناظر احسن گیلانیؒ ، حضرت مولانا سیّد فخرالدین احمدؒ ، حضرت مولانا سیّد احمد فیض آبادی ثم المدنیؒ بانی مدرسہ علوم شرعیّہ مدینہ منوّرہ ، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاھوریؒ ، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ بانی تبلیغ ، حضرت مولانا غلام رسول ہزارویؒ ، حضرت مولانا سھول بھاگلپوریؒ ، حضرت مولانا ریاض الدین بجنوریؒ ، حضرت مولانا خواجہ عبد الحئی فاروقیؒ ، حضرت مولانا رسول خاں ہزارویؒ ، حضرت مولانا فضل ربی ہزارویؒ ، حضرت مولانا محمد اکبر شاہ پشاوریؒ ، حضرت مولانا عُزیر گل سرحدیؒ ، حضرت مولانا عبدالوھاب در بھنگویؒ ، حضرت مولانا عبدالصمد رحمانیؒ ، حضرت مولانا محمد صادق کراچیؒ ، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحئی لکھنویؒ ، حضرت مولانا احمد اللہ پانی پتیؒ وغیرہ اساطین اُمت شامل ہیں ۔

*تالیفات و تصنیفات :*
اپنے وسیع علم اور کثرت درس کے باعث تالیف و تصنیف کی طرف زیادہ توجہ نہ دے سکے ۔ ابتدائی پچیس تیس سال تو درس و تدریس میں مشغول رھے اور اس کے بعد تا زندگی مجاھدانہ سرگرمیوں میں مصروف رہے ۔ مگر اس کے باوجود آپ نے نہایت قابل اور ماہرین علم و فن شاگردوں کی ایک جماعت کے ساتھ گراں قدر علمی ورثہ بھی چھوڑا جو حسب ذیل ھے :
( 1 ) ترجمہ قرآن کریم : اردو کا مقبول ترین ترجمہ ، سورہ نساء تک آپ کے حواشی بھی ہیں جنہیں بعد میں حضرت علامہ شبّیر احمد عثمانیؒ نے مکمل کیا ۔ سعودی حکومت کی طرف سے بھی شائع ہوچکا ھے ۔ ( 2 ) ، الابواب والتراجم ، صحیح بخاری کے تراجم ابواب کی مختصر شرح ، ( 3 ) تقریر ترمذی عربی ( 4 ) حواشی و تعلیقات علی سنن ابی داود ( 5 ) حاشیہ مختصرالمعانی ( 6 ) جہدالمقل فی تنزیہ المعز والمذل : اردو میں مسئلہ امکان کذب کے موضوع پر ( 7 ) الادّلہ الکاملہ : محمد حسین بٹالوی کے دس سوالوں کا جواب میں ( 8 ) ایضاح الادلہ : بجواب مصباح الادّلہ از محمد احسن امروہویؒ ( 9 ) احسن القری ( 10 ) افادات : دو مضامین کا مجموعہ ( 11 ) فتاویٰ ( 12 ) مکتوبات شیخ الھندؒ ( 13 ) کلیات شیخ الھندؒ : منظوم کلام کا مجموعہ ۔

*ملکی و مِلّی خدمات :*
ھندوستان میں سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد آزادی وطن کی تحریک کا تذکرہ ہو یا آزادی وطن میں مسلمانوں کے فخر و مباہات کا ذکر ، مجاھدین کی جاں سپاریوں کا ذکر ہو یا انقلاب و بغاوت کی بے مثال منصوبہ بندی کا ، ہر موقعہ پر تدبّر و فراست ، بصیرت و سیاست دانی اور بے مثال انقلابی قربانیوں کے لئے حضرت شیخ الھندؒ کا نام نہایت ادب و احترام اور پورے احساس عظمت کے ساتھ لیا جاتا ھے ۔ حضرت شیخ الھندؒ ان علماء دیوبند کے سچے وارث تھے جنہوں نے دارالعلوم کا قیام ہی اس جذبہ سے کیا تھا کہ اس سے علماء و فضلاء کی ایک ایسی جماعت تیار ہو جو ایک طرف مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور اسلامی ورثہ و تھذیب کے فروغ میں نمایاں حصہ لے تو دوسری طرف مغربی استعمار سے ھندوستان کو آزاد کراکر مسلمانوں کو سیاسی و مذھبی آزادی عطاء کرے ۔
سب سے پہلے آپ نے فضلاء دیوبند کو ذہنی و فکری اعتبار سے مستحکم و منظّم کرنے کے لئے انجمن ثمرہ التربیت قائم فرمائی ۔ پھر جمعیۃ الانصار قائم فرمائی جس کا مقصد عامّۃ المسلمین میں دارالعلوم کی مرکزیت کا احساس پیدا کرنا اور دارالعلوم کے اثرات کی ترویج و اشاعت اور اس کو ہمہ گیر بنانا تھا ۔ اسی جمعیۃ کے فارم سے آپ نے اپنے شاگردوں کو تیار کرنا شروع کیا ۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اس کے سکریٹری تھے ۔ بعد میں مختلف وجوہات کی بنیاد پر نظارہ المعارف القرآنیہ نام کی نئی تنظیم قائم کی گئی ۔ اسی درمیان عالم اسلام میں کافی سنگین حالات پیدا ہورہے تھے ۔ جنگ طرابلس و بلقان کی وجہ سے مسلمانوں میں ہیجان پھیلا ہوا تھا ۔
حضرت شیخ الھندؒ نے ھندوستان سے برطانوی حکومت کے اقتدار کو ختم کرنے کے لئے ایک اسکیم تیار کی ، یہ 1330ھ مطابق 1930ء کا زمانہ تھا ، آپ نے مسلّح انقلاب کے ذریعہ برطانوی گورنمنٹ کا تختہ الٹ دینے کا نقشہ تیار کیا ۔ اس کے لئے آپ نے نہایت منظم طور پر اپنا پروگرام مرتب کیا تھا ، آپ کے شاگردوں اور رفقاء کار کی ایک بڑی جماعت جو ھند و بیرون ھند کے اکثر ممالک میں پھیلی ہوئی تھی ، آپ کے مجوزہ پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نہایت سرگرمی اور جاں بازی کے ساتھ کوشاں تھی ۔ شاگردوں میں حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ ، حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاریؒ اور ہندوستان اور باہر کے بہت سے نمایاں افراد اس میں شامل تھے ، جنہوں نے حضرت شیخ الھندؒ کے سیاسی اور انقلابی پروگرام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں ۔
دراصل آپ آزادئ ھند کے خواہاں تھے ، آپ اسلامی حکومتوں کے تعاون سے اپنے ملک کو آزاد کرانا چاھتے تھے ۔
حضرت شیخ الھندؒ کے اسی پروگرام کے تحت حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے افغانستان میں آزاد ہندوستان کی حکومت قائم کی جس کے سربراہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ ، مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ وزیر اعظم اور حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ وزیر داخلہ تھے ۔ اسی وقت عام خیال یہ تھا کہ طاقت کے بغیر ہندوستان سے انگریزوں کا نکالنا ممکن نہیں ھے ، اس کے لئے سپاہ اور اسلحہ کی ضرورت ھے ، ان چیزوں کی فراھمی کے لئے افغانستان اور ترکی کا انتخاب کیا گیا ۔ حضرت شیخ الھندؒ نے اپنی مجوزہ اسکیم کو کامیاب بنانے کے لئے پیرانہ سالی کے باوجود 1333ھ مطابق 1915ء میں حجاز کا سفر فرمایا ۔ وہاں کے ترکی گورنر غالب پاشا اور انور پاشا سے جو اس وقت ترکی کے وزیر جنگ تھے ملاقات فرماکر بعض اہم امور طے کئے ۔ اس وقت جنود ربانیہ کے نام سے ایک مسلم فوج قائم کی گئی جس کا مرکز مدینہ منورہ تھا ، کمانڈر انچیف عثمانی خلیفہ تھے اور حضرت شیخ الھندؒ اس آرمی کے کمانڈر جنرل تھے ۔ اس فوج میں عالم اسلام کے متعدد اہم مسلم کمانڈر اور قائدین شریک تھے ۔ حضرت شیخ الھندؒ حجاز سے براہ بغداد بلوچستان ہوتے ہوئے سرحد کے آزاد قبائل میں پہنچنا چاہتے تھے کہ اچانک جنگ عظیم شروع ہوگئی ۔ اسی دوران شریف حسین والی مکہ مکرمہ نے انگریز حکام کے ایماء پر آپ کو گرفتار کرکے ان کے حوالے کردیا ۔ حضرت شیخ الھندؒ کے ساتھ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ ، حضرت مولانا عزیر گل سرحدیؒ ، حضرت مولانا حکیم نصرت حسینؒ ، اور حضرت مولانا وحید احمد فیض آبادیؒ کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ۔ حضرت شیخ الھندؒ کو پہلے مصر اور پھر وہاں سے جزیرہ مالٹا لے جایا گیا ، جو برطانوی قلمرو میں جنگی مجرموں کے لئے محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا تھا ۔
برطانوی حکومت کو حضرت شیخ الھندؒ اور ان کے رفقائے کار کی تحریک اور پروگرام کی اطلاع مل گئی تھی ۔
برطانوی حکومت کے کاغذات میں اس تحریک کو Slik Letter Conspiracy Case ( ریشمی رومال سازش کیس ) کے نام سے یاد کیا گیا ھے ، اور سیکڑوں صفحات پر مشتمل یہ فائل آج بھی انڈیا آفس لندن میں محفوظ ھے ۔
جنگ عظیم ختم ہونے پر حضرت شیخ الھندؒ کو ہندوستان آنے کی اجازت ملی ، آپ کو تقریبا تین سال دو ماہ جزیرہ مالٹا کی جیل میں نظر بند رہنا پڑا ، اور 20 ؍ رمضان المبارک 1338ھ مطابق 8 ؍ جون 1920ء کو ایک بجے دن کو آپ نے ساحل بمبئی پر قدم رنجہ فرمایا ۔ اھل ھند نے نہایت تزک و احتشام کے ساتھ آپ کا استقبال کیا ۔ استقبال کرنے والوں میں حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ ، حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ ، حضرت مولانا محمد علی جوہرؒ ، تحریک خلافت کے روح رواں حضرت مولانا شوکت علیؒ ، حضرت مولانا حکیم محمد حسنؒ ، حضرت مولانا حافظ محمد طیّب قاسمیؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند ، حضرت مولانا حافظ محمد طاھر قاسمیؒ ، موہن داس کرم چند گاندھی جی اور علمی و سیاسی دنیا کی ممتاز شخصیتیں شامل تھیں ۔ تحریک خلافت کے جلسہ عام میں آپ کو سپاس نامہ پیش کیا گیا ۔ اس اجلاس میں ہندوستان کے اکابر ملت نے متفقہ طور پر آپ کو “شیخ الھندؒ” کا خطاب دیا ۔ مالٹا سے واپسی کے بعد حضرت شیخ الھندؒ کی صحت بگڑ چکی تھی ، پیرانہ سالی اور قید و بند کے باعث نہایت ضعیف ہوگئے تھے ، مگر بایں ہمہ آپ نے شدو مد کے ساتھ سیاسی کاموں میں حصہ لیا اور ہندوستان کے طول و عرض میں تمام شہروں کا دورہ کرنے کی ٹھان لی ، علی گڑھ گئے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد ڈالی ، خطبہ دیا اور ترک موالات کا فتوی جاری کیا ۔
حضرت شیخ الہندؒ کے کارناموں کا باب ہندوستان کی سیاسی و اسلامی تاریخ میں جلی حروف سے اسی لئے لکھا گیا کہ انہوں نے تنہا اتنا عظیم الشان کارنامہ انجام دیا جو بڑی سے بڑی تنظیم اجتماعی طاقت کے بل بوتے پر انجام دیتی ھے ۔ یہ حضرت شیخ الھندؒ کی بے پناہ قوت ارادی اور عزم و حوصلہ کا کرشمہ تھا جس کے سامنے اسلامی ہند کا سر ہمیشہ خم رہے گا اور سر زمین ھند ہمیشہ ان کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کرتی رھے گی ۔

*وفات :*
مسلسل جہد و ریاضت ، قید و بند اور پیرانہ سالی کے باعث علی گڑھ کے سفر کے وقت بھی صحت تشویشناک مرحلہ میں داخل ہوچکی تھی ، لیکن علی گڑھ کا یہ اجلاس ایک انقلابی قدم اٹھانے کے لئے بلایا گیا تھا اس لئے آپ نے اپنی صحت کو خطرے میں ڈال کر یہ سفر کیا تھا ، حال یہ تھا کہ دو آدمیوں کے سہارے بڑی مشکل سے اسٹیج تک تشریف لے گئے مگر بولنے کی طاقت بالکل نہیں تھی ، اس لئے آپ نے اپنے شاگرد حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی صاحبؒ کو حکم دیا کہ وہ خطبہ صدارت پڑھ کر سنائیں ۔ اسی صورت حال کے پیش نظر رفقاء سفر نے آپ کو سیدھے دہلی تشریف لے چلنے کا مشورہ دیا تھا ، اور اسی دن آپ نے ڈاکٹر انصاری صاحب کی کوٹھی دریا گنج دہلی میں پہنچ کر علاج شروع کردیا تھا ، ڈاکٹر انصاری صاحب اور ان کا گھرانہ حضرت شیخ الہندؒ کی ذات سے انتہائی عقیدت رکھتا تھا اس لئے علاج میں انہوں نے جتنی سرگرمی دکھائی ہوگی ظاہر ہے ، اسی دوران جمعیۃ علماء ہند کا دوسرا سالانہ جلسہ دہلی میں ہوا اور آپ کو صدارت کے فرائض انجام دینے پر اصرار کیا گیا ، آپ نے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ کو خطبہ صدارت مرتب کرنے کا حکم دیا اور پڑھنے کی ذمہ داری حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے سپرد کی ، آپ اس اجلاس میں ایک لمحہ کے لئے بھی تشریف نہ لے جاسکے کیوں کہ اب بستر سے اٹھنا بھی محال ہوچکا تھا ، عمر ستر سال کے قریب ہوچکی تھی ، لاغری اور کمزوری انتہا کو پہنچ چکی تھی ، علاج پوری سرگرمی سے چل رہا تھا ، کبھی کبھی کچھ افاقہ محسوس ہوتا مگر دوسرے دن اس سے بھی زیادہ حالت تشویشناک ہوجاتی ، موت و زیست کا دوراہا سامنے تھا ، قدرت کب کس راہ کی طرف موڑ دے ، ہر وقت یہ کھٹکا مخلصین کو لگا رہتا تھا ، امید و بیم کی کشمکش ، تشویش و اضطراب میں تبدیل ہوچکی تھی ۔
بالآخر 18؍ ربیع الاول 1339ھ مطابق 30؍ نومبر 1920ء بروز منگل کو حالت تشویشناک ہوگئی مرض لحظہ بلحظہ بڑھتا جارہا تھا ، ہوش و حواس بجا تھے ، مگر ایک استغراقی کیفیت طاری تھی ، مخلصین اور خدام تلامذہ چارپائی کے گرد موجود تھے ، دل دھڑک رہے تھے ، سات بجے شام کو حالت میں بہت تغیر ہوگیا ، 18؍ ربیع الاول 1339ھ کی تاریخ تھی ، حضرت شیخ الہندؒ پر ایک گہری غفلت طاری ہوگئی ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ نے سورۂ یٰسین شروع کی مگر وہ جوشِ گریہ اور ادب کی وجہ سے بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے تھے اس لئے مولوی حافظ محمد الیاس صاحب نے سورۂ یٰسین پڑھنی شروع کی ابھی سورۃ ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ حضرت نے خود بخود حرکت کرکے اپنا بدن سیدھا کیا ، ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر سیدھی کیں اور آٹھ بجے جب سورۃ قریب الختم تھی تو حضرت نے آنکھ کھولی اور تصدیق قلبی کی تائید کے لئے زبان کو حرکت دی اور خاص الیہ ترجعون کی آواز پر قبلہ رخ ہوکر تین مرتبہ اللہ اللہ کہا اور ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
دہلی میں آناً فاناً وفات کی خبر مشہور ہوگئی ، مسلمانوں اور ہندوؤں نے اپنی اپنی دوکانیں فوراً بند کردیں ، ہزاروں مسلمان ڈاکٹر انصاری صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گئے ، جب حاضرین کے ہوش و حواس بجا ہوئے تو ڈاکٹر انصاری صاحب نے حضرت شیخ الہندؒ کے برادرِ خورد (چھوٹے بھائی) حضرت مولانا حکیم محمد حسن صاحب سے پوچھا کہ اگر دہلی میں تدفین پسند فرمائیں تو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے خاندانی قبرستان مہندیان میں بندوبست کیا جائے اور اگر دیوبند میں تدفین منظور ہو تو جنازہ لے جانے کی تیاری کی جائے ، حکیم محمد حسن صاحب اور دوسرے بزرگوں نے کہا کہ حضرت شیخ الہندؒ کی آرزو اپنے شیخ اور استاذ حضرت نانوتویؒ کے جوار باکرامت میں دفن ہونے کی تھی اور یہی آرزو اور کشش دوسری دنیا (مالٹا) سے کھینچ کر لائی تھی اس لئے دیوبند ہی مناسب ہے اور پھر حضرت شیخ الہندؒ کی صاحبزادیاں بھی دہلی میں نہیں تھیں اس لئے ان کی اشک شوئی کے لئے جنازہ دیوبند ہی لے جانا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
جب جنازہ دیوبند لے جانے کا فیصلہ ہوگیا تو ڈاکٹر انصاری صاحب نے سب سے پہلے دیوبند بذریعہ تار مطلع کیا تاکہ وہاں دفن کے انتظامات کرلئے جائیں ، جنازہ شام کو دیوبند پہنچے گا ، پھر ڈاکٹر انصاری صاحب تابوت کی تیاری اور ریلوے سے منظوری لینے میں مصروف ہوگئے ، مولانا حکیم محمد حسن صاحب اور حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ و خدام نے مل کر غسل دیا اور کفن پہناکر تابوت میں رکھا چوں کہ وفات کی خبر دہلی میں عام ہوگئی تھی اس لئے ہزاروں مسلمان ڈاکٹر انصاری صاحب کی کوٹھی پر جمع ہوگئے تھے ، جب جنازہ تیار ہوا تو مجمع کی طرف سے تقاضا ہوا کہ نمازِ جنازہ یہاں پڑھی جائے ، حضرت شیخ الہندؒ کے برادرِ خورد (چھوٹے بھائی) مولانا حکیم محمد حسن صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ حضرات کی یہی خواہش ہے تو آپ لوگ نمازِ جنازہ پڑھ لیں مگر میں شریک نہ ہوں گا تاکہ میں دیوبند میں اعزہ و اقربا اور اہل دیوبند کے ساتھ نمازِ جنازہ دوبارہ پڑھ سکوں ، یہ رائے درست تھی ۔ ڈاکٹر انصاری صاحب کی کوٹھی کے سامنے میدان میں ایک بہت بڑے مجمع کے ساتھ ایک بار نمازِ جنازہ ادا کی گئی ۔ پھر جنازہ اٹھایا گیا اور آہستہ آہستہ ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا ، لوگ بڑھتے جاتے تھے ، اسٹیشن کے قریب پہنچ کر بیس ہزار مسلمان نمازِ جنازہ کی مشایعت میں تھے اس لئے انہوں نے پھر درخواست کی کہ اسٹیشن پر دوبارہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے چنانچہ وہاں بھی دوسری مرتبہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی ، اور مولانا حکیم محمد حسن صاحب شریک نماز نہیں ہوئے ، ڈھائی بجے دن میں دہلی سے ٹرین چلی جب گاڑی میرٹھ پہنچی تو شہر کے مسلمان امڈ آئے ان کے تقاضے پر وہاں تیسری بار نماز جنازہ ہوئی میرٹھ چھاؤنی کے اسٹیشن پر بھی یہی صورت حال پیش آئی اور چوتھی بار نماز ہوئی ساڑھے سات بجے شام کو تابوت دیوبند کے اسٹیشن پر پہنچا پورا شہر ٹوٹ پڑا تھا ، جنازہ اسٹیشن سے باہر نکالنے اور لے چلنے میں مشکلات پیش آئیں ، جنازہ جب حضرت شیخ الہندؒ کے مکان پر پہنچا تو رات کافی ہوچکی تھی ، کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ ابھی تدفین ہوجائے کیوں کہ قبر تیار ہے لیکن حضرت شیخ الہندؒ کی صاحبزادیاں دہلی کے لئے روانہ ہوچکی تھیں وہ ابھی واپس نہیں آئی تھیں اس لئے یہی رائے ہوئی کہ تدفین رات تک کے لئے ملتوی کردی جائے ۔ چنانچہ وہ اگلی ٹرین سے رات میں آگئیں ، بعد نماز فجر نمازِ جنازہ کا اعلان کردیا گیا اہل شہر کے علاوہ قریبی اضلاع سے بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مخلصین دیوبند آگئے ، جنازہ صبح کی نماز کے بعد دارالعلوم دیوبند میں پہنچایا گیا ، نودرہ اور باہر کا صحن آدمیوں سے بھرا ہوا تھا بمشکل صف بندی ہوئی اور حضرت شیخ الہندؒ ولی اقرب اور برادرِ عزیز مولانا حکیم محمد حسن صاحب نے نمازِ جنازہ پڑھائی کیوں کہ چاروں جگہوں پر ہونے والی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے تھے ، دیوبند میں اس وقت تک بڑے بوڑھوں نے بھی کبھی کسی کے جنازہ کے ہمراہ اتنا مجمع نہیں دیکھا تھا ، مدرسہ کے دروازہ سے قبرستان تک آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے ، جنازہ قبرستان قاسمی لے جایا گیا ، قبر تیار تھی ، جنازہ لاکر رکھا گیا ، مولانا حکیم محمد حسن صاحب اور حضرت کے داماد اور بعض مخصوص خادم قبر میں اترے ، چاشت کے وقت حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کی قبر مبارک کے قریب یہ گنجینۂ فضل و کمالات سپردِ خاک کیا گیا ۔
وہ آفتاب علم و عمل جس کی روشنی چاردانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی ، 30؍ نومبر 1920ء ۔ 18؍ ربیع الاول 1339ھ بروز منگل کو دہلی میں غروب ہوگیا ، ہر سمت غم و اندوہ کی تاریکی چھاگئی ، عقیدت کیش نگاہوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا اور علمی دنیا میں صفِ ماتم بچھ گئی ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
( متعلقہ کتب : حیاتِ شیخ الھندؒ ، نقش حیات ص : 130 ، سفرنامہ اسیر مالٹا ، اسیران مالٹا ، تحریک شیخ الھندؒ ، تذکرہ شیخ الھندؒ : ص : 3 ، حضرت شیخ الھندؒ : حیات اور کارنامے ، تاریخ دارالعلوم دیوبند 179 / 2 ، دارالعلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ : ص 464 ، علماء دیوبند کے آخری لمحات : ص 23 تا 27 ، تذکرہ اکابر : ص 89 ، ملت اسلام محسن شخصیات : ص 172 )

You might also like