Baseerat Online News Portal

“کشمیر کی تعمیر و ترقی “

“کشمیر کی تعمیر و ترقی ”
✍مفتی منظور ضیائی چیئرمین علم و ہنر فاؤنڈیشن ممبئی مہاراشٹر ۔
ایک طرف جہاں کشمیر کے پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کی خوبصورتی دل کو لبھاتی ہے وہی دوسری طرف خستہ حال انفراسٹرکچر اپنی بوسیدگی کا احساس دلاتا ہے،کسی بھی ذی شعورانسان کو اس جنت بے نظیر کے قدرتی حسن سے زیادہ یہاں کے باسیوں کی بدحالی کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے،چشموں کی فراوانی کے باوجود پینے اور استعمال کے پانی کا حصول ایک مشقت طلب امر ہے۔ سڑکیں ایک طرف سے بننا شروع ہوتی ہیں تو دوسری طرف سے ٹوٹنے لگتی ہیں، علاج و معالجے کی سہولیات برائے نام ہیں ، روزگار نا پید ہے اور غربت عام ہے،یہاں کی سڑکوں اور شاہراہوں پر بڑے پیمانے پر فوجی دستے تعینات رہتے ہیں، اور یہاں کے اصحاب اقتدار کے ذریعے کشمیر اور کشمیری عوام کی تعمیر و ترقی کی گردان سن سن کر کئی نسلوں کے کان پک چکے ہیں اور ان حکمرانوں کے دوسرے بہت سے دھوکوں کی طرح آزادی کا جھانسہ اور حق خودارادیت کی نعرہ بازی محض سیاسی چالبازی ہے اور ان کے بلند و بانگ دعوے اور وعدے محض سراب ثابت ہوئے ہیں !یہ لوگ آزادی کے بعد آج تک کشمیر میں ریلوے اور سڑکوں کا جال بچھانے اور انفراسٹرکچر کے دوسرے منصوبے شروع کرنے کے کئی وعدے کرکے کشمیر کو سوئزر لینڈ بنانے کا صرف خواب دکھاتے رہے لیکن اس خطے کی ترقی کے لئے نہ کبھی ٹھوس اقدامات نہ کیے اور نہ ہی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ کبھی مخلص ہی نہیں رہے اور جس طرح وزارتوں کی تقسیم پر کارپوریٹ سرمایہ دار بولیاں لگاتے ہیں بالکل اسی طرح پہلے کشمیر کی سیاست ٹھیکیداروں کے کنٹرول میں ہوتی تھی اور کشمیری سیاست پر براجمان یہ سیاسی ٹھیکیدار مال کمانے کے لئے سیاست کرتے آئے ہیں اور پچھلے 66سالوں میں کشمیری عوام کے معاشی اور سماجی مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوگئے ہیں اور کشمیری نوجوان دہلی سے ممبئی اور ملائیشیا سے یورپ تک روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور کشمیری معیشت کا بڑا حصہ ان رقوم پر مبنی ہے جو یہ تارکینِ وطن اپنے خاندانوں کو بھیجتے ہیں! اب کشمیر کو اٹوٹ انگ اور شہ رگ کہنے والے حکمراں کشمیری عوام کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے خوفزدہ ہیں۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ انہوں نے پچھلے 66 سالوں میں جو کھلواڑ کیا ہے اس کے پیشِ نظر کشمیر کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے جس کو یہاں کی عوام بخوبی واقف ہو چکی ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ کشمیر میں قوم پرست سیاست کی ایک تاریخ رہی ہے لیکن کشمیری عوام کی تعمیر و ترقی اور ان کے مسائل کو ترجیحات کی بنیاد پر محنت کشوں کی لڑائی سے نہ جوڑ پانے کی وجہ سے کشمیری قوم پرستی تنہائی اور بیگانگی کا شکار ہو کر بہت حد تک زائل ہوچکی ہے۔ پھر ’’جہاد کشمیر‘‘ کے نام پر اسلامی بنیادپرستی اور دہشتگری کو اس خطے پر مسلط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے لیکن کشمیر کی سیکولر اور ترقی پسندانہ ثقافتی روایات کے پیش نظر اس رجحان کو کبھی بھی کشمیری عوام میں حمایت نہیں مل سکی ہے اور نہ کبھی مل سکتی ہے اور قومی محرومی کے جذبات کو اپنے رجعتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ہر کوشش کو کشمیر کے نوجوانوں نے مسترد اور ناکام کیا ہے کیونکہ کشمیر کے نوجوانوں کا انقلابی جوش و جذبہ اور عملی سیاست میں شمولیت بے مثال ہے۔ یہاں کے طلبہ اور نوجوان جبر اور سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف جدوجہد کی سنہری روایات کی امین ہیں اور جو کشمیری نوجوانوں کی بلند حوصلوں کی غمازی کرتا ہے اور بے روزگاری اور مہنگائی جیسے سماجی و معاشی مسائل کا حل ان کے
بنیادی مطالبات میں شامل ہے اور کشمیری نوجوانوں کے نزدیک سب سے اہم مسئلہ معاشی محرومی ہے جس کو حل کرنے کے لیے مرکزی حکومت کوشاں ہے اور کشمیر کی ترقی کے لیے بہت سارے وسائل و مصادر ہیں جن سے بھرپور طور پر استفادہ حاصل کرنےکی ضرورت ہے اور سب سے پہلے سیاحت اور صنعتی شعبوں کو مستحکم کیا جائے جن سے کشمیر کی اقتصادی ترقی ممکن ہوگی جن میں خصوصی اقتصادی علاقہ کی تعمیر و ترقی کے علاوہ کئی دیگر پراجیکٹس پر بھی خاص توجہ دینے کی ضروت ہے تاکہ کشمیری عوام کے لئے ترقی کی نئی راہیں ہموار ہو سکیں اور ان کی ترقی یقینی بن جانے پر اس خطے میں بدامنی پھیلانے والے شر پسند عناصر کے منصوبے ناکام ہو جائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی تعمیرو ترقی میں مرکز حکومت کوگہری دلچسپی لے رہی ہے جس کا واضح ثبوت مرکز وزیر دفاع کے ذریعے جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں 6 پُلوں اور کئی اہم سڑکوں کا افتتاح ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ سڑکیں اور پل ایک قوم کی زندگی ہوتے ہیں اور ان کی سماجی و اقتصادی تعمیر و ترقی میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں اور کشمیری عوام کو بھی چاہیے کہ وہ خوف و ہراس اور غیر یقینی صورتحال سے نکلیں اور بےروزگار سے برسرے روزگار ہونے کے لیے کلیدی کردار ادا کریں اور کشمیر کو تعلیمی اور اقتصادی طور پر ترقی دے کر کشمیر کا روشن چہرہ دنیاد کو دکھانے کی کوشش کریں اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تعلیم ، صحت ، رسل و رسائل اور مواصلات کے شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں ان سب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مرکزی حکومت متعدد فلاحی رفاہی اسکمیں کشمیر کے لیے لائی ہے جن کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور تعلیم ہر دور میں عوام کی ترجیح رہی ہے اور اسی کے پیشِ نظر مرکزی حکومت کے سامنے تعلیمی ڈھانچہ کو مضبوط اور وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیمی ایک بڑا چیلنج ہے اور مرکزی حکومت جس سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور کشمیر اپنے قدرتی حسن و جمال ، لوگوں کی امن پسندی اور مہمان نوازی کے باعث ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے پرکشش علاقہ ہے، مرکزی حکومت اس کے سیاحتی سیکٹر کو ترقی دے کر اسے سب سے زیادہ منافع بخش صنعت بنانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایک پراجیکٹ جلد شروع کرنے جاری ہےجس سے عوام کو روزگار کے بہتر مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ اُن کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا ،کشمیر قدرتی معدنی وسائل سے بھی مالا مال علاقہ ہے جہاں سارا سال بہتے دریا ، پہاڑوں کے اندر مدفون قیمتی اور نیم قیمتی پتھر اور دیگر دہاتیں قدرت کا بیش بہا خزانہ ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے مرکزی حکومت جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے، کشمیر صدیوں پرانی کثیر المذاہب اور کثیر الروایات کی حامل ثقافت اور کلچر رکھنے والی ایسی ریاست ہے جس میں پر امن بقائے باہمی کا اُصول ہمیشہ کار فرما رہا ہے،مرکزی حکومت کشمیر کے اس ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے لیے بھی ترجیح بنیادوں پر اقدمات کر رہی ہے ،اور کشمیریوں کے مستقبل کا معاملہ کشمیریوں کی منشا اور مرضی کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا ہے اس لیے کشمیری عوام کا تعمیر و ترقی کے لیے آگے آنا بہت ضروری ہے اور کشمیر کے عوام پرُ امن شہری ہیں جن کا دہشت گردی اور انتہای پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے مرکزی حکومت اس حساس اور نازک مسئلہ پر بھی کشمیر کے لوگوں کے لئے فکر مند ہے اور ان کی ہمہ گیر ترقی یقینی بنانا چاہتی ہے اور ترقی کا ایک نیا دور شروع کرنا چاہتی ہے اور مرکزی حکومت کی یہ منشا ہے کہ کشمیری نوجوان ایسی سرگرمیوں میں شامل ہوں جس سے کشمیری قوم کی تعمیر و ترقی میں مدد ملے کیونکہ نوجوانوں کی طاقت ہر طرح کی تبدیلیوں کی آماجگاہ رہی ہے۔سرگرمی کرنا کوئی بری چیز نہیں ہے ، لیکن صحیح آپشن کا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کی سرگرمی قوم کی ترقی کی ہدایت کی جانی چاہئے ، کیونکہ یہ ملک آپ کے علاوہ کسی اور کا نہیں ہے ، اور آپ اس کے مستقبل کے رہنما ہیں،مرکزی حکومت کشمیر کے عوام کی ترقی ، فلاح و بہبود اور معاشرتی تغیر پذیر کا ایک بہتر متبادل فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہےاور ۲۰۱۹ میں نافذ آئینی تبدیلی کے بعدمرکزی حکومت نے خطے کا چہرہ بدلنے کے لئے ایک یا دو نہیں بلکہ تاریخی کئی فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقی کا ایک نیا دور طلوع ہو اور کشمیری عوام ایک نیا سفر شروع کر سکیں اور مرکزی حکومت کے پاس پانچ اہم رہنما اصول ہیں۔ ایک منصفانہ اور شفاف نظام حکمرانی کو قائم کرنا ، نچلی سطح کی ترقی کی منازل طے کرنا ، سرکاری فلاحی منصوبوں کی زیادہ سے زیادہ حد تک رسائی۔ معاشی ترقی ، اور روزگار کے مواقع کو تیز کرنا۔
آزادی کے بعد بدقسمتی سے کچھ “غلط فیصلے” لئے گئے جس سے کشمیر کے لوگوں کے دلوں میں ناراضگی پیدا ہوگئی اور باقیوں سے دور ہوگئے “نسل در نسل نسل کی نفرت کی قربان گاہ پر قربانیاں دی گئیں” ، لیکن اب جموں و کشمیر میں آہستہ آہستہ مساوات اور انصاف کو بحال کیا جا رہا ہے۔

You might also like