Baseerat Online News Portal

مقام ولایت پانے کیلئے نبیؐ کی تعلیمات پر عمل ضروری: مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی

جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت ؐ کانپور کے زیر اہتمام میر پور چھاؤنی میں غوث اعظمؒ کانفرنس کا انعقاد
کانپور:۳۰؍نومبر(پریس ریلیز) اللہ پاک نے ہم سب کو اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا یہ اللہ خاص فضل ہے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ ہم کو انسان بنایا اور انسانوں میں بھی اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کاامتی بنایا ہے۔اتنی نعمتوں کے نوازنے کی بعد بھی اللہ نے ہم سے کچھ بھی مطالبہ نہیں کیاصرف اتنا کہا کہ ہر دن ہمارے گھر میں پانچ وقت آکر ہمارے سامنے سجدہ کر لیا کرو۔مذکورہ خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت ؐ کانپور کے زیر اہتمام منائے جا رہے پندرہ روزہ عظمت اولیاء اللہ کے تحت مسجد رسی والے میرپور میں منعقد غوث اعظم ؓکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کانپور کے جنرل سکریٹری مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور نے کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے دنیا کی تمام چیزوں کو ہماری خدمت میں لگا رکھا ہے جو انسانوں کی خدمت کر رہی ہیں چاہے وہ جاندار ہو یا غیر جاندار ہو اسی کو اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ہم نے انسانوں اور جناتوں کو محض اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ساری چیزیں ہمارے لئے ہیں اور ہم اللہ کے لئے ہیں۔جب اللہ کی عطا کی نعمتوں کا ہم بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں تو ہم کو اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنی پڑے گی۔ صرف نماز پڑھ لینے،قرآن کی تلاوت اور ذکر اذکار کر لینے سے ولایت نہیں ملا کرتی بلکہ ہم کو خدمت خلق کو اپنی زندگی کا جزء بنانا پڑے گا جو نبی ؐکی تعلیم ہے اور صحابہؓ بزرگان دینؒ کا یہی عمل تھا،تب کہیں جا کر اللہ ولایت جیسے منصب سے نوازتے ہیں۔مولانا نے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں پر زور دے کر کہا کہ آج ہم کو ایک دوسرے سے شکایت ہے۔ہر ایک کو اپنی اصلاح کے بجائے دوسرے کی اصلاح کی فکر ہے خاندانوں کے اندر نااتفاقی ہوتی چلی جا رہی ہیں معاشرے میں بے حیائی عام ہو رہی ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے؟اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم نبیؐ صحابہؓ اور غوث اعظم ؒکا نام تو لیتے ہیں لیکن ان کی تعلیمات کو آج مسلم معاشرے نے پس پشت ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے آج مسلم قوم کرب و بے چینی میں مبتلا ہے۔اگر آج بھی مسلمان ان کی تعلیمات پر عمل پیراں ہو جائے تو یقینا یہ امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
مولانا انصار احمد صاحب جامعی نے عظمت اولیاء کے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ان پروگراموں کا مقصد یہ ہے کہ ہم صرف بزرگان دین کا نام نہ لیں بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔اسی درد کے ساتھ آج سے چند سال قبل مجاہد اسلام حضرت الحاج مولانا محمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمیؒ نے ان پروگراموں کی بنیاد ڈالی جس سے الحمدللہ فائدہ ہوا تک کتاب و سنت کی روشنی سے ولایت کا پیغام پہنچا۔بزرگان دین نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ سنتوں پر عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام ولایت سے نوازا۔وہ صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ غیروں کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرتے تھے حسن سلوک کی تعلیم تو ہم کو نبی ؐو صحابہؓ سے ملی ہے۔حضرت انس ابن مالکؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دس سال رہے۔ اللہ نے حضرت انسؓ کو اپنے حبیب کی خدمت کے لئے قبول فرمایا تھا حضرت انسؓ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کبھی اف تک بھی نہیں کہا اس سے ہم کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم بھی نبی رحمت ؐکے نام لیوا ہیں حضرات صحابہؓ کے عاشق ہیں اور اولیاء اللہ باالخصوص حضرت غوث اعظم ؒسے محبت کرنے والے ہیں تو ہم سب کو بھی اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھے سے پیش آنا پڑیگا۔دنیا کچھ بھی کہے جیسے بھی حالات ہوں لیکن ہم کسی قیمت پر بھی محبت کا پیغام عام کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جب ہم یہ عہد کریں گے تو نفرت کو اللہ پاک محبت میں مبدل فرما دیگا۔
مفتی محمد واصف قاسمی نے فرمایا کہ ولی کے معنیٰ ہوتے ہیں دوست کے جس کے اندر جتنا تقویٰ و خوف خدا ہوگا وہ اتنا بڑا اللہ کاولی اور دوست ہوگا۔اسی لئے ہمارا عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام باالخصوص خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں لیکن ان کو ولایت کے ساتھ مقام نبوتؐ بھی اللہ عنایت فرمایا ہے تو اسی وجہ سے ہم ان کو نبی یا رسول کہتے ہیں۔انبیاء کے بعد تمام صحابہؓبھی اللہ کے ولی ہیں اور اللہ نے حضرات صحابہ کرامؓ کو اسی دنیا میں اپنی بشارت و جنت کی خوشخبری سے نواز دیا لہٰذا صحابہؓ بھی انبیاء کے بعد اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں۔اللہ نے نبوت اور صحابیت کا دروازہ تو بند فرما دیا لیکن ولایت کا دروازہ اللہ پاک نے قیامت تک کھول رکھا ہے اور اس کے دو بنیادی اصول قرآن میں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے۔رب ذوالجلال فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے ولی ہوتے ہیں ان کو نہ ماضی میں کسی چیز کا غم ہوتا ہے اور نہ مستقبل میں کسی طرح کا خوف آگے فرماتے ہیں کہ اللہ نے دوست وہ ہوتے ہیں جو ایمان لائیں اور تقویٰ اختیار کریں۔جس کے اندر جتنا اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس ہوگا وہ اتنا بڑا اللہ کا ولی ہوگا۔ولایت نام ہے خوف خدا کا نہ کہ کرامت کا،ضروری نہیں ہر ولی سے کوئی کرامت ظاہر ہی ہو۔ہاں اللہ کبھی لوگوں کے دلوں میں ان کی توقیر بڑھانے کیلئے کبھی کبھی ان کے ذریعہ خلاف عادت کسی کرامت کا ظہور فرما دیتے ہیں لیکن ہم قرآن و سنت سے ولی کی جو پہچان بتائی گئی ہے وہ صرف وہی دو چیزیں ہیں ایمان اور خوف خدا۔حضرت غوث اعظم ؒکے مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ ہم کوپیران پیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے جو سب بڑا پیغام ملا وہ وہی ہے جیسے بھی ناگفتہ بہ حالات ہو جائیں ہمیں سچ کا دامن نہیں چھوڑنا ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانی ؒنے اپنی ماں کی نصیحت پر عمل کرتے ہو سچ بولے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈاکوؤں کا گروہ حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ہم صرف غوث اعظمؒ کی اسی نصیحت پر عمل کر لیں جو نبی رحمتؐ کا ارشاد ہے اور حضرات صحابہ ؓکی بھی یہی تعلیمات ہیں تو ہم بھی اللہ کے ولی اور دوست ہو سکتے ہیں۔
اس سے قبل کانفرنس کا آغاز قاری مجیب اللہ صاحب عرفانی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ حافظ عبادہ وقاری کلیم اللہ جامعی نے نعت ومنقبت کا نذرانہ پیش کیا۔مولانا محمد کاشف جامعی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ کانفرنس میں مفتی سعود مرشد قاسمی، قاری عبدالمعید چودھری،مفتی اظہار مکرم قاسمی، قاری نفیس احمد جامعی،حافظ حشمت اللہ،مولانا محمد ثمین قاسمی،مولانا عبداللہ قاسمی،مولانا داؤد قاسمی،مولانا محمد شاہد قاسمی،مولانا نجم الاسلام ثاقبی،حافظ رضوان احمد،حافظ محمد عارف،حافظ عبدالرحمن، حافظ محمد کاشف،حافظ محمد طفیل،حافظ محمد ثقلین، حافظ ساجدعلی کے علاوہ دیگر کثیر تعداد میں علاقائی لوگ موجود تھے۔

You might also like