Baseerat Online News Portal

خلیق الزماں نصر ت تخلیق کے پس منظر میں حالات زندگی کا غائر مطالعہ کرتے ہیں:منصور خوشتر ایک شام خلیق الزماں نصرت کے نام

 

 

رفیع ساگر /بی این ایس

دربھنگہ۔ خلیق الزماں نصر ت تخلیق کے پس منظر میں حالات زندگی کا غائر مطالعہ کرتے ہیں اور نفسیاتی زندگی کے ساغر و مینا سے کھیلتے ہیں۔ وہ تحقیق، تنقید اور شاعری کے آدمی ہیں۔ سنہری کرنوں سے گزر کر احساس اور نازک مزاج کو کائنات میں سموتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجیں ان کے آس پاس دلگداز جاں سوز بنتی ہیں اور موجود کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر معاصر انداز میں ترجمانی کرتی ہیں ےہ باتےں 30نومبر 2020ءبروز سوموار المنصور ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ ، شوکت علی ہاﺅس،پرانی منصفی خلیق الزماں نصرت کی دربھنگہ آمد پر ایک پروگرام بعنوان ”ایک شام خلیق الزماں نصرت کے نام“ پر ٹرسٹ کے سکریٹری منصور خوشتر نے کہی ۔انہو ں نے کیا کہ کہ خلیق الزماں نصر نے اردو ادب کے لئے جو کام کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ انہوں نے گمنام اشعار پر تحقیق کرکے اس کے اصل شاعر سے منسوب کیاہے۔ اس طرح انہوں نے بہت سے لوگوں کی غلط فہمی دور کردی ہے۔پروگرام کے صدرانور آفاقی نے کہا کہ خلیق الزماں نصرت کی تنقید نگاری کو پسند کرنے والوں میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ، ڈاکٹر علی احمد، ڈاکٹر خورشید نعمانی، شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی، پروفیسر جگنا تھ آزاد، ڈاکٹر اختر نجمی، ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر توقیر احمد خاں، ڈاکٹر علی احمد جلیلی وغیرہ جیسی معروف و معتبر شخصیتوں کے اسمائے گرامی شامل ہیں ۔ ”جہان اردو“ دربھنگہ (ایڈیٹر ڈاکٹر مشتاق احمد ) نے ایک خاص نمبر ان کے اعزاز میں ”نصرت فرد و فنکار “ کے عنوان سے نکالا تھا جس میں ان کی شاعری اور تنقید نگاری پر مضامین شائع ہوئے تھے۔پروگرام کی نظامت کر رہے ڈاکٹر احسان عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ خلیق الزماں نصر نے اردو ادب کے لئے جو کام کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ انہوں نے گمنام اشعار پر تحقیق کرکے اس کے اصل شاعر سے منسوب کیاہے۔ اس طرح انہوں نے بہت سے لوگوں کی غلط فہمی دور کردی ہے۔ جنید عالم آروری نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ نصرت نے سینکڑوں برمحل اشعار کو تحقیق کے بعد اصل شاعر کے نام سے منسوب کرکے ایک بڑا کار خیر اور بڑا اہم کام کیا ہے۔ان کے ساتھ تشریف لائے مہمان اعزازی جناب مشتاق شمسی نے کہا کہ ان کا گھرانہ بڑا ہی علمی و ادبی گھرانہ تھا ۔ اس وجہ سے زبان وادب سے فطری طور پر دلچسپی بچپن ہی میں پیدا ہوگئی تھی۔ ابتدا شاعری سے ہوئی اور معروف شاعر مہر شکروی سے اصلاح سخن لیا اور بعد میں فیضی نظام پوری سے کلام دکھانے لگے ۔ مگر جناب فیضی کے گزر جانے کے بعد شبیر احمد راہی سے اصلاح لینی شروع کی۔موبائل کے زوم ایپ سے جڑے رہنے والے اشخاص میں پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی ، پروفیسر عبدالمنان طرزی، پروفیسر محمد آفتاب اشرف (صدر شعبہ اردو ، پی جی ، ایل این ایم یو، دربھنگہ) رہے۔ پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی نے بذریعہ ایپ کہا کہ ذاتی تجربے اور مشاہدے کو مدنظر رکھتے ہوئے سحر انگیز حسن میں ڈوب کر تخلیق کو خوشنما بنانے والے ادیب کا نام خلیق الزماں نصرت ہے۔ ان کی تخلیقات مطالعہ کی روشنی دیتی ہیں اور جمالیاتی احساس کو جگاتی ہیں۔ پروفیسر عبدالمنان طرزی نے اپنے خوبصورت اشعار کے ذریعہ خلیق الزماں نصرت کی تعریف و توصیف بیان کی۔ پروفیسر آفتاب اشرف نے بذریعہ ایپ کہا کہ خلیق الزماں نصرت کی اب تک کوئی بارہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ کوئی نصف درجن کتابیں اور مسودے طباعت کے لئے تیار ہیں جو عنقریب منظر عام پر آجائیں گی جو نوجوان نسلوں کی رہنمائی کریں گے۔ خلیق الزماں نصرت نے اپنے غزلیہ اشعار سنائے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں:

تیری آواز اٹھاتے تھے جو ایواں میں

ویسے اب لوگ کہاں ہیں ترے دیوانوں میں

لوگ آزاد نظر آتے ہیں یوں تو لیکن

زندگی قید ہے حالات کے زندانوں میں

اتنا ہی دور حقیقت سے وہ ہوجاتا ہے

جتنا پھیلاﺅ ہوا کرتا ہے افسانوں میں

ان کے علاوہ وہاں موجود لوگوں میں ڈاکٹر انتخاب ہاشمی، جاوید اختر، اشتیاق ہاشمی، وسیم اختر ، سید ارشد منہاج اور ڈاکٹر احسان عالم وغیرہ تھے

You might also like