Baseerat Online News Portal

“اگر آپ بھی خوش رہنا چاہتے ہیں تو ؟ ”      

 

 

محمد قمر الزماں ندوی

 

کسی یونیورسٹی کا ایک نوجوان طالب علم ایک دن اپنے پروفیسر کے ساتھ چہل قدمی کر رہا تھا ۔ پروفیسر اپنی مشفقانہ طبیعت کی وجہ سے تمام طالب علموں میں بہت مقبول تھے ۔

چہل قدمی کرتے ہوئے اچانک ان کی نظر ایک بہت خستہ حال پرانے جوتوں کی جوڑی پر پڑی جو پاس ہی کھیت میں کام کرتے ہوئے غریب کسان کی لگتی تھی

طالب علم پروفیسر سے کہنے لگا ، “ایسا کرتے

ہیں کہ اس کسان کے ساتھ کچھ دل لگی کرتے ہیں اور اس کے جوتے چھپا دیتے ہیں اور خود بھی ان جھاڑیوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور پھردیکھتے ہیں کہ جوتے نہ ملنے پر کسان کیا کرتا ہے”۔

پروفیسر نے جواب دیا ، “ہمیں خود کو محظوظ کرنے کے لئے کبھی بھی کسی غریب کے ساتھ مذاق نہیں کرنا چاہئیے ، تم ایک امیر لڑکے ہو اور اس غریب کی وساطت سے تم ایک احسن طریقہ سے محظوظ ہو سکتے ہو ۔

ایسا کرو ان جوتوں کی جوڑی میں پیسوں کا ایک ایک سکہ ڈال دو اور پھر ہم چھپ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ سکے ملنے پر کسان کا کیا رد عمل ہوتا ہے ” ۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور پھر دونوں نزدیک ہی چھپ گئے ۔

غریب کسان اپنا کام ختم کر کے اس جگہ لوٹا جہاں اسکا کوٹ اور جوتے پڑے ہوئے تھے ۔ کوٹ پہنتے ہوئے اس نے جونہی اپنا ایک پاؤں جوتے میں ڈالاتو اسے کچھ سخت سی چیز محسوس ہوئی ۔ وہ دیکھنے کی خاطر جھکا تو اسے جوتے میں سے ایک سکہ ملا ۔

اس نے سکے کو بڑی حیرانگی سے دیکھا ، اسے الٹ پلٹ کیا اور پھر بار بار اسے دیکھنے لگا۔

پھر اس نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی کہ شائید اسے کوئی بندہ نظر آ جائے لیکن اسے کوئی بھی نظر نہ آیا اور پھر شش و پنج کی ادھیڑ بن میں اس نے وہ سکہ کوٹ کی جیب میں ڈال لیا ۔ لیکن اس وقت اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور اسے ایک جھٹکا سا لگا جب دوسرا پاؤں پہنتے وقت اسے دوسرا سکہ ملا اس کے ساتھ ہی وفور جذبات سے اس کی آنکھیں اشکوں سے لبریز ہوگئیں ۔۔۔ وہ اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑا ۔۔۔ اور آسماں کی طرف منہ کر کےاپنے رب کا شکر ادا کرنے لگا کہ جس نے اس کی کسی غیبی طریقے سے مدد فرمائی وگرنہ اس کی بیمار بیوی اور بھوکے بچوں کا ، جو گھر میں روٹی تک کو ترس رہے تھے ، کوئی پرسان حال نہ تھا ۔

طالب علم پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے

تب اچانک پروفیسر بول پڑے اور لڑکے سے پوچھنے لگے “کیا تم اب زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہو یا اس طرح کرتے جو تم کرنے جا رہے تھے ؟”

لڑکے نے جواب دیا، ” آج آپ نے مجھے ایسا سبق سکھایا ہے جسے میں باقی کی ساری زندگی نہیں بھولوں گا، اور آج مجھے ان الفاظ کی حقیقت کا بھی صحیح ادراق ہوا ہے جو پہلے کبھی ٹھیک طرح سے سمجھ نہ آ سکے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے ۔

اگر آپ بھی زندگی میں حقیقی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو دوسروں کی مدد کیجئے ۔

کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا، اس کی حاجت روائی کرنا، اس کے لیے خوشی کا سامان فراہم کرنا یہ انتہائی اعلی عمل اور اونچا کام ہے، دین میں اس کا درجہ بہت بلند اور اونچا ہے، دوسروں کو خوش دیکھنے کی خواہش انتہائی پسندیدہ خواہش ہے۔ یہ خواہش آدمی کے اندر اسی صورت میں ابھر سکتی ہے، جبکہ اسے بندگان خدا سے گہرا اور جذباتی انس اور لگاو ہو اور ان کی تکلیف اور پریشانی کو دیکھ کر بے چین ہوجاتا ہو،

کسی ضرورت مند کی حاجت روائی کے پیچھے کوئی خود غرضی اور دنیاوی مفاد محرک نہیں ہونا چاہیے۔۔ حاجت مند کو خوش کرنے کی خواہش اور جذبہ خود ایک قوی محرک ہے۔۔ اور شاید نہایت قوی محرک اور قوی داعیہ۔۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ہمدردی اور غم گساری کا جذبہ موجود ہو۔۔۔ یہی ہمدردی، دل سوزی اور غم خواری کا جذبہ ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص انسانیت اور آدمیت کے اعلی و بلند مقام پر فائز ہوتا ہے اور جس کے سبب اس کی شخصیت میں کشش اور جاذبیت پیدا ہوتی ہے۔۔ یہ جذبہ اگر مفقود ہوجائے تو انسان کی آدمیت کے لحاظ سے موت ہوجاتی ہے۔۔ اگرچہ بظاہر وہ زمین پر چلتا پھرتا، لوگوں سے باتیں کرتا اور اپنی موجودگی کا اعلان کرتا ہو، کسی شخص کی زندگی کا ثبوت نہ تو اس کی بلند اور فلک بوس بلڈنگوں کے ذریعہ ہوتا ہے اور نہ کتابوں، تحریروں، تقریروں اور اخباری بیانات کے ذریعہ سے ملتا ہے اور نہ لاوڈ سپیکر اور ریڈیو و جدید سوشل میڈیائی آلات و وسائل اس کی زندگی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ کسی کی زندگی کا ثبوت تو ان کی اس خدمات سے ملتا ہے جو بنی نوع انسان کے لیے وہ کر رہا ہوتا ہے، کسی کے بارے میں یہ جاننے کا کہ اسے زندگی حاصل ہے معتبر ذریعہ یہی ہے۔ اس سے ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ وہ کتنا زندہ ہے۔۔ (مستفاد از کلام نبوت جلد دوم مولفہ مولانا محمد فاروق خاں)

اسی لیے تو آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو شخص میری امت میں سے کسی شخص کی حاجت روائی کرے اور اس سے اس کی منشا اسے خوش کرنا ہو، اس نے مجھے خوش کیا۔۔ اور جس شخص نے مجھے خوش کیا، اس نے اللہ کو خوش کیا اور جس کسی نے اللہ کو خوش کیا اسے اللہ جنت میں داخل فرمائیں گے۔۔ (البیھقی فی شعب الایمان)

ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کمزور، بے شوہر والی عورت اور محتاج و نادار شخص کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو راہ خدا میں سرگرمی دکھاتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :ایسا شخص اس شب بیدار یعنی تہجد گزار کی طرح ہے جو عبادت سے تھکتا نہیں یا اس روزہ دار کی طرح ہے جو روزوں کے تسلسل کو توڑتا نہیں۔۔ (بخاری و مسلم)

اللہ تعالیٰ ان حقائق کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ہم سب کو بھر پور توفیق عطا فرمائے آمین۔۔۔

You might also like