Baseerat Online News Portal

حضرت شیخ الہندؒ کے افکارو نظریات اس ملک کی ترقی کے ضامن

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی وفات کے ایک صدی مکمل ہونے پر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کیا یاد
کانپور:یکم دسمبر(پریس ریلیز) جنگ آزادی کے سب سے بڑے مجاہد تحریک ریشمی رومال کے روح رواں، انگریزوں کیخلاف اس وقت کی سب سے مؤثر آواز،دار العلوم دیوبند کے اولین شاگرد و صدر المدرسین شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی وفات کے ایک صدی مکمل ہونے پر جمعیۃعلماء کانپور کے جنرل سکریٹری مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نائب ناظم جامعہ محمودیہ اشرف العلوم نے کہا کہ تحریک ریشمی رومال جس کے بانی شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نوراللہ مرقدہ تھے،ہندوستان کی جنگ آزادی کے قائد اور سپہ سالار تھے، انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ انگریزوں کے ظلم وستم کا سامنا کیا وہ دار العلوم دیوبند کے صدر مدرس، ہندوستان کے ممتاز عالم دین اور ہزاروں نامور علماء کے استاذ تھے۔ ان کی وفات کے 100سال مکمل ہو رہے ہیں، ہمیں ان کی خدمات اور کارناموں کو یاد رکھنا چاہئے۔ مولانا نے کہا کہ اس ملک کو آزاد کرانے کیلئے دوسوسال تک جو تحریکیں چلائی گئیں تھیں ان میں سب سے زیادہ منظم تحریک حضرت شیخ الہندؒ کے ذریعہ چلائی گئی تحریک ریشمی رومال تھی، جس کا راز فاش ہونے کے بعد انگریز گورنر نے کہا تھا کہ اگر یہ تحریک کامیاب ہوگئی ہوتی توانگریزوں کو سمندر کی تہہ میں سرچھپانے کی جگہ نہ ملتی۔ریشمی رومال ایک خط تھا جس میں ان سبھی مجاہدین کی پوری تفصیل درج تھی جو منصوبہ کے تحت ایک خاص تاریخ کو انگریزوں سے بغاوت کرنے والوں کی قیادت کرنے والے تھے۔ ایک منصوبہ بنایا گیا تھا کہ باہر سے ترک، جرمن، جاپان، چین وغیرہ ممالک یلغار کردیں اور اندر سے ہندوستانی حملہ کردیں تاکہ انگریزوں کو بھاگنے کی کوئی جگہ ہی نہ بچے۔ لیکن یہ خط ایک شخص کی لاپرواہی سے انگریزوں کی خوشامد حاصل کرنے والے کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے انگریزکمشنر کو دے دیا۔ جس کی تفصیل کو معلوم کرنے کے بعد پوری برطانوی حکومت دہل کر رہ گئی کہ یہ منصوبہ اتنا منظم اور مستحکم تھا کہ اگر یہ کامیاب ہوجاتا تو پوری دنیا سے برطانوی حکومت کا اسی وقت خاتمہ ہوجاتا۔ تحریک ریشمی رومال کو ناکام نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس کے طفیل میں 27-26سال کے بعد ہی انہیں جیالے فرزندوں نے جمعےۃ کے بینر تلے متحد ہوکر ہندوستان نے انگریزوں کو نکال کر دم لیا۔
انہوں نے کہا شیخ الہند ؒ کی قیادت میں ان کے ہزاروں شاگردوں نے جنگ آزادی کی تاریخ میں حصہ لیا جس میں خاص طور پر علامہ انور شاہ کشمیریؒ، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا عطا ء اللہ شاہ بخاری جیسی شخصیات تھیں۔ آج ہمارے لئے عظیم لمحہ فکریہ ہے کہ اتنے عظیم مجاہد آزادی کی خدمات کو حکومت کے ساتھ ساتھ ہم نے بھی یاد کرنا چھوڑ دیا،اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شیخ الہند ؒ سمیت تمام اکابر کی شخصیت اور ان کی تحریکات سے عوام وخواص خصوصاً نوجوان نسل کو متعارف کرایاجائے کیونکہ ہندوستان کے ذرہ ذرہ پر مسلمانوں اور علماء کرام کی قربانیوں کے نقوش موجود ہیں۔ جو قوم اپنے اسلاف اور بزرگوں کی تاریخ اور ان کے صبح و شام کے معمول سے واقف نہیں ہوتی وہ خود کو منظم نہیں کرسکتی وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔
مولاناعبداللہ نے بتایا کہ جمعیۃ علماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمود مدنی کی قیادت میں جمعےۃ علماء کی کوششوں سے سال 2013میں دو شخصیات پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیاتھا۔والد محترم حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ سابق صدر جمعیۃ علماء یوپی سابقہ کئی برسوں سے حکومت سے مطالبہ کر تے ہوئے زندگی کے آخری دنوں تک اس سلسلے میں مسلسل کوشاں رہے کہ شیخ الہند ؒاور شیخ الاسلام سمیت حریت کے تمام مجاہدین کو تاریخ میں درج کیا جائے اور باقاعدہ انہیں بھی دیگر مجاہدین آزادی کی طرح تعلیمی نصاب میں داخل کیا جائے۔ ان کے اس مشن اور خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری اب ہم سب کی ہے اس لئے جب تک بزرگوں کی زندگیوں کو نصاب میں شامل کرنے کاہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوگا ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔

You might also like