Baseerat Online News Portal

چندر بابو نائیڈو سمیت ٹی ڈی پی کے 14 ایم ایل اے آندھراپردیش اسمبلی سے ایک دن کے لئے معطل

امراوتی،یکم دسمبر( بی این ایس )
آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے پہلے دن اسپیکر کے اسٹیج کے سامنے احتجاج کرنے پر مرکزی اپوزیشن تیلگو دیشم پارٹی کے رہنما چندرابابو نائیڈو سمیت پارٹی کے 14 ارکان کو ایک دن کے لئے ایوان سے معطل کردیا گیا۔ پہلی بار چندر بابو نائیڈو اپنی پارٹی کے ممبروں کے ساتھ ایوان میں زمین پر بیٹھ گئے، جس کے بعد وزیر اعلی وائی ایس جگن موہن ریڈی نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ حزب اختلاف کے کسی بھی رہنما نے اس سے قبل ایوان میں اس طرح کا سلوک نہیں کیا تھا۔ ٹی ڈی پی لیڈرحکمران جماعت وائی ایس آر کانگریس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسانوں کو دی جانے والی امداد کی رقم سمیت دیگر امور پر بولنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ وزیر زراعت کے کنا بابو کے بیان دینے کے بعد بحث کے دوران ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ٹی ڈی پی رہنما این رامانائیڈو کو بعد میں بولنے کی اجازت دی گئی لیکن انہیں بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ رامانائیڈوکی تنقید پر وزیر اعلی نے کہا کہ ٹی ڈی پی قائدین ایوان میں غیر مہذب سلوک کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ڈی پی قائدین اس معاملے کو سمجھے بغیر بول رہے ہیں۔ ریڈی نے کہا کہ حکومت دسمبر کے آخر تک کسانوں کو سبسڈی دینے کے لئے پرعزم ہے۔چندر بابو نائیڈو چیف منسٹر کو جواب دینا چاہتے تھے لیکن انہیں موقع نہیں دیا گیا۔ وائی ایس آر کانگریس کے رہنماؤں نے ٹی ڈی پی صدر کو بولنے کا موقع نہیں دیا، جس کے بعد اپوزیشن پارٹی کے رہنما اسپیکر کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ اسپیکر ٹی سیتارام نے ناراض ایم ایل اے کو اپنی نشستوں پر جانے کی درخواست کی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر بی راجندر ناتھ نے تلگودیشم کے ایم ایل اے کو ایوان سے ایک دن کے لئے معطل کرنے کی تجویزپیش کی جو صوتی ووٹ کے ذریعہ منظور کیا گیا ۔ اس کے بعد چندربابو نائیڈو نے اپنے ممبران اسمبلی کے ساتھ ایوان کے داخلی دروازے کے قریب دھرنا دیا۔

You might also like