Baseerat Online News Portal

مریضوں کے گھرپر پوسٹر چسپا ں کیے جانے سے بھید بھاؤ ہو تا ہے : سپریم کورٹ

نئی دہلی، یکم دسمبر ( بی این ایس )
منگل کوسپریم کورٹ میں کرونا متاثرہ مریض گھر کے باہر پوسٹر لگائے جانے کے متعلق سماعت ہوئی۔ عدالت نے کہاہے کہ ایک بارجب کرونامریضوں کے گھروں پر پوسٹر لگادیئے جائیں، تو پھر ان سے اچھوتوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔مرکزی حکومت نے عدالت میں کہاہے کہ یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے ، اس کا مقصد کورونا مریضوں کی شبیہ مسخ کرنا نہیں ہے ، بلکہ یہ نظام دوسروں کی حفاظت کے لیے ہے۔ حکومت کی جانب سے سالسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ کچھ ریاستیں کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لیے اپنی کوششوں میں یہ طریقہ اختیار کررہی ہیں۔حکومت کے جواب پر جسٹس اشوک بھوشن ، آر سبھاش ریڈی اور ایم آر شاہ پر مشتمل بنچ نے کہاہے کہ زمینی حقیقت مختلف ہے۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت جمعرات کو ہوگی۔سپریم کورٹ نے 5 نومبر کو مرکزی حکومت سے کہا تھا کہ وہ کرونامتأثرہ مریضوں کے گھروں کے باہر پوسٹروں چسپاں کئے جانے کو روکنے کے لئے ہدایات جاری کرنے پر غور کریں۔ درخواست گزار کش کالرا نے اس معاملہ میں یہ اپیل کی تھی۔ اس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کیے بغیر ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جب دہلی حکومت نے ہائی کورٹ میں اس بات پر اتفاق کیا کہ کرونا مریضوں کے گھروں کے باہر پوسٹر نہیں لگائے جائیں گے تو ، مرکز کیوں پورے ملک کے لئے اس طرح کے رہنما خطوط جاری نہیں کرسکتا؟۔دہلی ہائی کورٹ میں بھی کش کالرا نے عرضی دائر کی تھی۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ ریذیڈنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن (آر ڈبلیو اے) اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعہ کورونا مریضوں کے نام لیک ہونے کی وجہ سے ان کی پریشانیوں میں اضافہ ہواہے۔ کرونا مریضوں کو رازداری حاصل کرنی چاہئے، تاکہ وہ تماشا بنے بغیر ہی اس بیماری کا سامنا کرسکیں۔

You might also like