Baseerat Online News Portal

کورونا کا قہر، ملک کی معیشیت کے ساتھ پرنٹنگ پریس والوں کی قسمت بھی تباہ، شادی ۔بیاہ کا موسم بھی مایوس کن، دانے دانے کو محتاج   اسپیشل کورونا اقتصادی پیکیج بھی نکلا جملہ، شمیم احمد ربانی

 

 

رفیع ساگر /بی این ایس

جالے۔ یہ کہنے میں کوئی گریز نہیں ہوگا کہ مہلک وائرس کورونا کے حملہ کے بعد ملک میں جاری لاک ڈون کی وجہ کر ملکی معیشت کی تباہی کے علاوہ چھوٹے بڑے کاروباریوں کو بھی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کا اثر ان لاک کے بعد بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ زبوں حالی کا شکار ہوئے مختلف شعبے کے علاوہ پرنٹنگ پریس و فلیکس ہورڈنگ کے کاروبار سے جڑے افراد بھی اپنی حالت زار سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں۔ لاک ڈاون میں مزدوروں کی ہجرت کے سبب کمپنیوں میں روشنائی ، پیپر ، پلاسٹک سمیت دیگر اشیاء کی پروڈکشن میں تخفیف ہونے سے ان چیزوں کی قیمت میں ایک طرف اگر اضافہ ہوئی ہے تو دوسری طرف اس کی مانگ بھی کافی کم ہوگئی ہے جس کا سیدھا اثر ان کاروباریوں کی آمدنی پر پڑا ہے نتیجتا جو کاروباری بینک سے قرض لیکر اپنی دکانیں یا کمپنیاں چلارہے تھے انہیں بجلی بل ، مزدروں کی تنخواہ سمیت بینک کی قسط ادا کرنے میں پسینے چھوٹ رہے ہیں اور موجودہ حکومت کا اسپیشل کورونا اقتصادی پیکیج ٹھنڈے بستے میں ہی پڑا ہوا ہے جس جانب ان بے بس و لاچار کاروباریوں کی پرامید نگاہیں جمی ہوئی ہیں مگر اندھی ، بہری حکومت سے فائدے کی امید کرنا ہی بے سود ہے۔ ادھر پرنٹنگ ، طباعت و اشاعت کے کاروبار سے جڑے مقامی بلاک کے دوگھرا گاوں باشندہ محمد شمیم کا کہنا ہیکہ امسال کورونا کی وجہ کر شادی ۔ بیاہ کا موسم بھی ناشاد رہا جس وجہ کر شادی کارڈ و شادی بورڈ وغیرہ ذرائع سے ہونے والی آمدنی بالکل رک گئی اس کے بعد ان لاک میں مشروط شادیاں شروع بھی ہوئی مگر کم افراد کو مدعو کرنے کی وجہ کر شادی کارڈ کی پرنٹنگ نہیں ہوسکی نتیجتا کاروبار تھپ پڑ گیا۔ محمد شمیم نے کہا کہ اسی طرح لاک ڈاون کی وجہ سے مدرسہ ، اسکول ، کالجوں کو طویل مدت تک کیلئے بند کردیا گیا جس کے منفی اثرات سیدھے طور پر دیکھا جائے تو پرنٹنگ پریس اور فلیکس ہورڈنگ کاروبار پر پڑا ہے کیونکہ مدرسے و پرائیوٹ اسکولوں کو تشہیر و اشاعت کیلئے فلیکس بورڈ کی ضرورت پرتی ہے جو امسال نہیں پڑی اس کے علاوہ ان اداروں میں رسید بک ، حاضری رجسٹر ، لیٹر پیڈ ، واوچر ، سالانہ رپورٹ کارڈ سمیت دیگر متعلقہ اشیاء کی بھی درکارنہیں ہوئیں جس کے سبب ان کاروبار سے جڑے لوگ آج بھوکمری کے شکار ہوچکے ہیں لہذا حکومت کو چاہئے کہ وقت کی مناسبت سے ان کاروباریوں کی تکلیف دہ صورتحال کا نہ صرف جائزہ لے بلکہ ان کے درد کو درد خود سمجھتے ہوئے حتی الامکان کرم فرمائی کرے تاکہ ان کے ماتحت افراد کی زندگی میں ایک خوبصورت سویرا کا آغاز ہو کیونکہ انسان خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور یہ افراد ڈیزائنر اپنی صلاحیت و عقل و فہم سے کسی بھی اشیاء کی ایسی تخلیق کرتے ہیں کہ ان میں خوبصورتی ، انفرادیت ، نفاست اور دلکشی آجاتی ہے۔

 

You might also like