مضامین ومقالات

یہ ناداں گرگئےسجدے میں جب وقت قیام آیا ؟

  تحریر  :منصور عالم قاسمی ،   ایڈیٹر اعزازی  بصیرت آن لائن  سعودی عرب

ہندوستانی وزیر اعظم شری نریندر مودی نے جب سے وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالی ہے وہ ہمیشہ سرخیوں میں چھائے رہے ،کبھی انداز خطابت کو لے کر ،کبھی سوٹ بوٹ پہن کر ،کبھی پارلیامنٹ میں بول کر،کبھی خاموش رہ کر ،کبھی ملک میں رہ رہے لاکھوں غریبوں اور کسانوں کو نظر انداز کر کے تو کبھی غیر ممالک پر دھن لٹا کر ،کبھی اندرون ملک مصیبت زدہ صوبے نہ جا کر تو کبھی بیرون ممالک گھوم گھوم کر ۔ اس پندرہ ماہ کی مدت میں وزیر اعظم نے ۲۵ ممالک کےاسفار کئے ان میں ایک اہم دورہ ،دورۂ متحدہ عرب امارات بھی شامل ہے جو گزشتہ ۱۷؍ اگست کو اختتام پزیر ہوا ۔                                                                                                        ۱     نریندر مودی نے اپنے سفر کی ابتدأایک مبارک جگہ مسجد ِشیخ زائد سے کی ،یہ مسجد دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد ہے ،اس میں قدیم و جدید فن معماری کا حسین سنگم ہے یہی وجہ ہے کہ روزانہ ہزاروں لوگ جہاں عبادت کے لئے آتے ہیں وہیں سیر و تفریح کرنے والوں کی بھیڑ بھی لگی رہتی ہے ۔وزیر اعظم اگرچہ حسن معماری و فنکاری سے لطف اندوز ہونے کے لئے شیخ زائد مسجد آئے تھے تاہم ان کی ایک شبیہ جو اول یوم سےبنی ہوئی تھی یہ یکسر اس سے مختلف تھی ،شری نریندر مودی نے جب ہاتھ اٹھا کر ،آنکھیں جھکا کر مسجد کو پرنام کیا تو یہ منظر دیکھ کر ایک طبقہ کہنے لگا ’’نریندر مودی دھیرے دھیرے بدل رہے ہیں ‘‘اللہ کرے بدل جائیں (اے اللہ تو ہی ہادی ہے ان کو ہدایت دے ) لیکن ماضی میں انہوں نے اقلیتی طبقات خصوصاًمسلمانوں کے خلاف جس طرح کھلی ہوئی دشمنی دکھائی ہے سب پر عیاں ہے ۔ دورہ کا آغاز ایک مسجد سے کر کے غالباً وزیر اعظم نے سبھوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں ،اسلام اور مسلمان میرے لئے قابل احترام ہیں ،میں سیکولر پسند ہوں ۔کہتے ہیں کہ سیاست میں سب کچھ جائز ہے،یہ کھیل اکھاڑے کے داؤں پیچ سے کم نہیں ہے اور نریندر مودی اس کھیل کے ایک ماہر کھلاڑی ہیں وہ حریف کو زیر کرنا خوب جانتے ہیں ۔متحدہ عرب امارات کا سفر بھی نریندر مودی کی بڑی جیت کہی جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔شیخ زائد مسجد سے سفر کی شروعات کی پھر ابو ظہبی کے مصدر سیٹی پروجیکٹ کا دورہ کیا جو سورج کی توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی پر منحصر ہے ،اس کے بعد کارو باری لیڈروں سے گول میز مٹینگ کی اور ہندوستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی ۔  ا نہوں نے کہا :ملک میں فوری ایک کھرب سرمایہ کاری کی گنجائش ہے ۔بیمہ ،ریلوے ،دفاعی ساز وسامان کو بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے کھول دیا گیا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ: بہت سے لوگ اکیسویں صدی کو ایشیائی صدی کہتے ہیں اگر ہندوستان اور یو اے ای مل کر کام کریں تو ایشیائی صدی کے تصور کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں ‘‘۔ولی عہد محمد بن زائد النہیان کی قیادت میں قانون کے نفاذ،منی لانڈرنگ ،منشیات کی اسمگلنگ،بین ملکی جرائم میں حوالگی سے متعلق بند و بست اور پولیس ٹریننگ کے شعبوں میں تعاون کومضبوط کرنے کا معاہدہ ہوا ، سائبر سیکوریٹی کے معاملے میں تعاون کو فروغ دینے پربھی زور دیا گیا ۔وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات سے ۴ لاکھ ۵۰ ہزار کروڑ سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا ہے ۔ان معاہدوں کے لئے دونوں ممالک کے قائدین یقینا ًقابل مبارکباد ہیں اگر ان پر مکمل عمل ہوا توممکن ہے اکیسویں صدی  ایشیائی صدی ہوگی اور اس میں ہندوستان اور یو اے ای کا اہم رول ہوگا کیونکہ اقتصادی اور معاشی طور پر خلیجی ممالک میں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سب سے زیادہ مضبوط ہیں ،ان کے پاس وسیع تر ذخائر ہیں ۔لیکن افسوس صد افسوس اتنے اہم معاہدوں کو ،اتنی بڑی کامیابی کو نظر انداز کر کے ایک طبقہ نریندر مودی کے لئے اور ہندوستانی عوام کے لئے سب سے بڑی کامیابی سوامی نرائن مندر کے لئے زمین کےحصول کو قرار دے رہا ہے یہاں تک کے وزارت خارجہ کے ترجمان سوروپ نے ٹویٹ کر کے کہا : ہندوستان کا لمبا انتظار ختم ہو گیا ،وزیر اعظم کے دورۂ یو اے ای پر وہاں کی سرکار نے ایک مندر کے لئے زمین دینے کا فیصلہ کیا ہے ،نریندر مودی نے اس تاریخی فیصلے پر یو اے ای سرکار کے قائدین کا شکریہ ادا کیا ہے ‘‘۔یاد رہے !دبئی میں پہلے ہی سے دو مندر شیوہ اور کرشنا ہیںلیکن ابو ظہبی میں ابھی تک کوئی مندر نہیں تھا ۔پورے یو اے ای میں ۲۶ لاکھ غیرمقیم ہندوستانی رہتے ہیں جو وہاں کی کل آبادی کا تقریباً۳۰   فیصد ہے ،غیر مسلم ہندوستانی کمیونٹی کی دیرینہ خواہش تھی کہ ابو ظہبی میں بھی ان کے لئے کوئی مندر بنے جو اب پوری ہو گئی ،حالانکہ وزیر اعظم کا مندر کے لئے حصول زمین کا سہرا خود لینا جھوٹ اور بے ایمانی ہے ۔۔ٹائمس آف انڈیا کی ۹؍جولائی ۲۰۱۳؁ء کی خبر کے مطابق ایک انویسٹ کمپنی کے اہم رکن نظام القدسی کی دعوت پر سوامی نارائن سنپردای مندر کے ذمہ داران نے(۰۲۰۱۳؁ءمیں) ابو ظہبی کا دورہ کیا تھا اور مندر کے لئے زمین اسی وقت مذکورہ شیخ نےد ی تھی ۔کچھ بھی ہو نریندر مودی نے سفر کی شروعات زیارت مسجد سے کر کے اورکھیل کا آخری داؤں کے طور پر مندر کی زمین کے لئے تجدید عہد کرکے کریڈیٹ خود لے اڑے اور یوںنریندر مودی فاتح بن کر واپس چلے گئے ۔

       تاہم شاہان متحدہ عرب امارات کامندر کے لئے زمین دینے کے فیصلے سے اہل اسلام اور محبین عرب کو سخت مایوسی ہوئی ہے ،ہرطرف اضطراب و بے چینی پا ئی جا رہی ہے۔نبی اکرم ﷺنے فرمایا تھا :یہود و نصاریٰ کو جزیرۂ عرب(سعودی عرب،یمن ،متحدہ عرب امارات ،کویت اور عمان)سے نکالو یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں ‘‘کبھی فرمایا:مشرکین کو جزیرۂ عرب سے باہر کرو‘‘یعنی خطۂ عرب کو شرک سے پاک و صاف رکھو ،لیکن مندر کے لئے زمین فراہم کر کے کر یو اے ای نے اسلام اور مسلمانوں کو بہت افسوس ناک پیغام دیا ہے ۔اسلام کی واضح تعلیم ہے کہ دین و عقیدے کے معاملہ میںکسی طرح کاسمجھوتہ نہ کیا جائے خواہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں ! دینی اخوت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ قائدین یو اے ای صنم خانہ کے لئے زمین دینے سے پہلے ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہے ظلم و ستم اور وہاں پر ڈھائی جا رہی مسجدوںکے مسئلے پر بھی باز پرس کرتے مگرافسوس؎   یہ ناداں گر گئے سجدےمیں جب وقت قیام آیا۔

                      mansoorqasmi8@gmail.com             

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker