Baseerat Online News Portal

اسلامک بینکنگ کے بغیر امت مسلمہ بانجھ ہے۔ رضوان ریاضی آل انڈیا ملی کونسل کے پروگرام میں رضوان ریاضی کا خطاب

 

پریس ریلیز

۱ دسمبر ۲۰۲۰ء کو مدرسہ ریاض العلوم ساٹھی ضلع مغربی چمپارن بہار میں آل انڈیا ملی کونسل کی جانب سے منعقدہ ایک دینی، علمی اور سماجی پروگرام میں مختلف مکاتب فکر کے علما ودانشوران نے شرکت کی۔ پروگرام کی صدارت مولانا مشتاق قاسمی نے جبکہ نظامت کا فریضہ مولانا غیاث الدین قاسمی نے انجام دیا۔ پروگرام کے روحِ رواں مولانا انیس الرحمن قاسمی (سابق ناظم امارت شرعیہ بہار واڑیسہ، اور نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل) تھے۔
دورانِ خطاب انجنئیر شمیم صاحب نے کہا کہ عوام نے ہمیشہ علما کے اشارے پر کام کیا ہے اور جو جو مطالبات علما کی طرف سے ہوئے ہیں عوام نے پورا کیا ہے۔ ایسی صورت میں علما کے اوپر بہت ساری ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں حتی کہ سیاسی ذمے داری بھی علما کو ہی انجام دینی چاہئے، مولانا ابو الحسن علی ندوی ہمیشہ علما کو میدانِ سیاست میں آگے آنے کی دعوت دیتے تھے۔
مولانا اصغر مدنی (امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند) نے کہا کہ علما ہی دین کے راہنما ہیں اس لیے انھیں عوام تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور دعوت وتبلیغ کا فریضہ انجام دینا چاہئے۔
جناب رضوان ریاضی (صدر کُل ہند جمعیت اہل حدیث کونسل و چئیرمین آل انڈیا التقوی ایجوکیشنل گروپ) نے اپنے خطاب میں اسلامک بینکنگ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامک بینکنگ کے بغیر امت بانجھ ہی رہے گی۔ ساتھ ہی سیاست میں اتحاد پر زور دیتے ہوئے جناب ریاضی نے کہا کہ جس قوم کی بنیاد اتحاد پر تھی اسے آج ٹکڑوں میں دیکھا جا رہا ہے، خاص کر سیاسی طور پر امت لاشعوری کی زندگی گزار رہی ہے۔ دینی رہنمائی میں سیاسی رہنمائی بھی شامل تھی لیکن ہمارے کچھ بزرگوں نے سیاست کو دین سے بالکل الگ رکھا جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں کہ ہر آدمی الگ الگ سیاسی پارٹیوں کا جھنڈا لیے کھڑا ہے۔ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی دوسروں کی دری چادر بچھانے اور دوسروں کا جھنڈا اٹھانے پر خوش ہے جبکہ ہمیں اب خود کی قیادت کی سخت ضرورت ہے۔
پروگرام میں پروگرام کے روح رواں مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانا اصغر علی امام مہدی ، ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور، داعی انجنئیر شمیم، مولانا رضوان احمد مظاہری، مفتی ضیاء الحق قاسمی، مولانا علی احمد، مولانا غیاث الدین قاسمی، مولانا انوار الحق قاسمی،
مفتی نظام الدین قاسمی، شمس طبریز بن جاوید احمد، منظر کمال ندوی، سیاسی کارکن افسر امام اور ڈاکٹر تابش شبیر وغیرہ شریک تھے۔

You might also like