Baseerat Online News Portal

سرمایہ داروں کی غلام بن چکی مودی حکومت اب کسان کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہے، انجینئر شہزاد تمنا حکومت کسان مخالف تینوں زرعی بل کو واپس لے

 

رفیع ساگر /بی این ایس

 

جالے۔ جس طرح گزشتہ سال کورونا کی آڑ میں مرکز کی مغرور مودی سرکار نے این آر سی ، سی اے اے اور این پی آر کے جیسے کالے قوانین کے خلاف ہورہے دہلی کے شاہین باغ میں احتجاج اور مظاہرے کو ختم کردیا ٹھیک اسی طرح آج ملک کے کسانوں کے احتجاج کو پھر سے دبانے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں اس سردی کے موسم میں بھی آنسو گیس کے گولے اور پانی کے بوچھاڑوں سے دل نہیں بھرا تو اسے دہشت گرد اور خالصتانی عناصر کہ کر ان احتجاجیوں پر جو زیادتی کی جارہی ہے وہ یہاں کے شہری کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرینگے کیونکہ شاید ان حکومت کو معلوم نہیں کہ جب حق کی بات آتی ہے تو یہاں کے شہری پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لیتے ہیں۔ مذکورہ باتیں مقامی بلاک کے نگرڈیہہ گاوں باشندہ سماجی کارکن اور بھاکپا مالے لیڈر انجینئر شہزاد تمنا نے ایک پریس ریلیز میں کہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی شجاعت پسند لوگ ہیں جنہوں نے اس سے قبل بھی فرنگیوں کے ذریعہ کئے گئے ظلم و زیادتی کا نہ صرف سامنا کئے تھے بلکہ اس کے پیروں تلے کی زمین بھی چھین لی تھی اسلئے مودی سرکار کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ کسان اپنے حق و حقوق کیلئے اس وقت تک لڑتے رہینگے جب تک کہ ان کے جائز مطالبات پوری نہ کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات تینوں قوانین مودی سرکار کے مٹھی بھر سرمایہ دار دوستوں کیلئے ہی ہے کیونکہ وہ خود تو غلام بن ہی چکے ہیں اور اب کسانوں کو بھی ان کے غلام بنانے کی سازش رچ رہے ہیں۔ تاکہ ملک کا پیٹ بھرنے والے کسان خود اپنی پیٹ بھرنے کیلئے ان کاروباریوں کے رحم و کرم پر آجائینگے اور اس کے بعد حکومت کے ذریعہ ملنے والے مختلف مراعات رفتہ رفتہ ان سے چھین لی جائے گی لیکن ملک کے کسان کسی بھی صورت میں اس سازش کو کامیاب ہونے نہیں دینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس حالیہ مثال پٹرول ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں ہیں جو اب سرکار کے بس سے باہر ہے کیونکہ یہ اب نجی کاروباری کے ہاتھوں میں ہے جو اپنی مرضی سے ان کے دام کو بڑھا گھٹا رہے ہیں اور یہی ہوگا آئندہ بھی ان کسانوں کے ساتھ ان کو دیا جانے والا ایم ایس پی ( کم ازکم حمایتی قیمت ) ختم کردیا جائے گا۔ مسٹر شہزاد تمنا نے کہا کہ یہ بات سچ ہیکہ ان کسانوں کی حمایت میں آج نہ صرف پورا ملک کھڑا ہے بلکہ ملک کے تمام خطوں سے انیہ داتا یہاں آرہے ہیں مگر افسوس تو تب ہوتی ہے جب بی جے پی کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر ان مظلوم کسانوں کو انگریزوں کی ڈیوائیڈ اینڈ رول پالیسی کے جیسا ہی پنجاب اور ہریانہ میں منقسم کرنے کی ناپاک کوششیں کررہے ہیں جو یہ کہتے ہے کہ یہ کسان تحریک ہریانہ کی نہیں ہے بلکہ پنجاب کے کسانوں کے علاوہ دیگر تنظیموں نے اسے اکساکر کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے اس زرعی اصلاحات قانون کی حقیقت کو ایک نظیرپیش کر بیان کیا کہ جب مودی جی کہتے ہے کہ یہ تدوین قوانین کسانوں کے مفاد میں ہے اور اس قانون کے ذریعہ انہیں یہ حق مل جائے گا کہ وہ اپنا سامان ملک کے کسی بھی کونے میں خرویدو فروخت کرسکتے ہیں تو ہریانہ کے بی جے پی وزیر اعلی نے کیوں ٹوئٹ کرکے کہا ہیکہ راجستھان کا باجرا ہریانہ میں بیچنے نہیں دیا جائے گا اسلئے یہ سمجھ سے بالاتر ہیکہ یہ کیسا قانون ہے جس کے ترتیب دینے والے ایک طرف کسانوں کے مفاد میں بتا رہے ہیں تو دوسری طرف وہی اس قانون کے پرویزن کو نہیں مان رہے ہیں۔

You might also like