جہان بصیرتنوائے بصیرت

قابلِ رشک شہادت

شکیل رشید (فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
یہ ’سانحہ‘ دل کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے والا ہے۔
مکہ معظمہ کے سانحے پر صرف ہمارا ملک ہندوستان یا صرف اسلامی ممالک ہی نہیں ساری دنیا غم والم میں ڈوب گئی ہے۔ سو سے زائد افراد اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔ یہ سب دنیا بھر سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں فریضہ ٔحج کی ادائیگی کے لیے پہنچے تھے۔ حج کا فریضہ یعنی ’امت واحدہ‘ کا عملی مظاہرہ۔ جب ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی صف میں کھڑے ہوکر کالے گورے، عربی عجمی، امیر وغریب کی تفریق مٹادیتے ہیں اور ساری دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ ’مسلمان ہر حال میں ایک ہیں‘
کرین سانحہ میں بھی ساری دنیا سے آئے الگ الگ رنگوں اور نسلوں کے مسلمانوں نے جام شہادت نوش کرکے یہ بتادیا ہے کہ موت میں بھی وہ ’امت واحدہ‘ ہی ہیں۔ ہمارا دل ان کے لیے رو ر ہا ہے ۔ لیکن ان کی شہادت پر رشک بھی ہے۔ یہ سب کے سب اللہ کی راہ کے مسافر تھے، اللہ کی راہ میں اللہ ہی کے حکم کی تعمیل کے لیے نکلے تھے اور جو بھی اللہ کی راہ میں نکلتا اور اس راہ میں اپنی زندگی کھودیتا ہے وہ اللہ ہی کے حکم کے مطابق شہید کہلاتا ہے۔ اور یہ کیسے شہید ہیں! حرم پاک میں جان دینے والے شہید! حج کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے اپنے گھروں سے نکلے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں، اپنے والد، والدہ اور بہنوں اور پیاروں کو چھوڑ کر اس عظیم ترین فریضے کی ادائیگی کے لیے آنے والے شہید، جو اللہ کو اس قدر پیارا ہے کہ وہ اس فریضے کے ادا کرنے والوں کو گناہوں سے یوں پاک کردیتا ہے جیسے کہ ماں کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ!
یہ شہدا قابل رشک ہیں۔ یہ اس سرزمین پر دفن ہوں گے جس پر اللہ کے سب سے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پڑے تھے۔ وہ زمین جس پر ان صحابہ کرامؓ کے قدم مبارک پڑے تھے جنہوں نے اسلام کی بقاء اور فروغ کے لیے نہ صرف اپنی جانوں کی قربانی دی بلکہ آل واولاد اور اپنی جائیداد، دولت اور اپنے اثاثے کی بھی قربانی دی۔ وہ پاک سرزمین جہاں نہ جانے اللہ کے کتنے جنتی بندے سپرد خاک ہوئے ہیں۔ یہ تمام کے تمام ’شہدائے راہ حج‘ ہیں۔ اللہ یقینا ان تمام شہدا ء کو حج کی سعادت سے بہرور کرے گا، بلاشبہ یہ قیامت تک اپنی قبروں میں زندہ رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رزق کا مزہ لیں گے۔
غم ہے کہ یہ فطری جذبہ ہے مگر غم پر رشک حاوی ہے۔ کاش ہم سب اسی طرح اللہ کی راہ میں ،سفر حج میں، مکہ معظمہ میں موت سے ہمکنار ہوں، اسی پاک سرزمین میں دفن ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں شامل ہوں۔ اللہ مرحومین کو جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ سے جگہ اور پسماندگان کو صبرجمیل دے۔ اور ہماری اللہ کی راہ میں شہادت کی دعا قبول کرے۔ (آمین)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker