Baseerat Online News Portal

عزم و استقلال کے پیکر: مولانا محمد علی جوہرؔ

(جن کے کارہائے نمایاں کو فراموش کر دیا گیا)
محمد قاسم ٹانڈؔوی
اس ملک کا چپہ چپہ ہمارے اکابر و بزرگ اور علماء کرام کی بےلوث و بےبہا قربانیوں کا شاہد و ناظر ہے۔ کشمیر سے لےکر کنیا کماری تک، گجرات سے لےکر آسام بنگال کی کھاڑی اور ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹی تک صرف اور صرف ہمارے ہی بزرگوں کا لہو اور جسم کے ٹکڑے حصے دفن ہوئے ملیں گے۔ ارض وطن کی مٹی کو جب بھی کوئی کرید کر دیکھنا چاہےگا تو یقینی طور پر اسے ہمارے مجاہدین کے لہو سے تربتر خاک اور خوشبو محسوس ہوگی۔ اس لئے کہ یہ ہمارے اکابرین ہی تھے جنہوں نے اول مرحلے میں تجارت کی غرض سے داخل ملک ہونے والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایجینٹ اور انگریزوں ٹولہ کے ناپاک مقاصد کو بھانپا تھا، جو اس وقت ہمارے سادہ لوح حکمرانوں کی مہربانی اور اپنی شاطر دماغی کی بدولت بدقسمتی سے ہمارے اس ملک میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ چنانچہ تاجروں کی شکل میں ہمارے دین و ملک کے دشمن یہ انگریز قوم جب داخل ملک ہونے میں مکمل کامیاب ہو گئی تو اس نے اسی وقت سے اپنا کام انجام دینا شروع کر دیا، جس نے سب سے پہلے مذہب اسلام کی شناخت کو ختم کرنے اور مسلم قائدین کو منظم طریقے پر ٹھکانے لگانے کا عمل انجام دیا، اس لئے کہ یہ تن کی اجلی اور من کی کالی قوم جانتی تھی اور اسے اس بات پر یقین تھا کہ جب تک ہم اپنی راہ سے ان کے مذہبی راہنماؤں کو نہیں ہٹاتے ہیں اور ان کے دینی پیشواؤں کو ختم نہیں کریں گے، اس وقت ہمیں اپنے مقصد میں بھرپور کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے۔
چنانچہ تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس ظالم و جابر قوم نے سب سے پہلے ہمارے ہی بزرگوں کو لہو لہان کر اور پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر موت کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا۔ اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہانہ بنا کر بڑی بڑی سزائیں تجویز کی جانے لگیں، تاکہ ملک کو لوٹ کھسوٹ کر اسے کنگال کرنے اور یہاں کے باشندوں کو اپنی غلامی میں لینے کا جو ان کے پلان اور ارادے تھے، اس میں بآسانی کامیابی سے ہمکنار ہو جائیں۔ اسی لئے انہوں نے ہر وہ ظلم اور حربہ اختیار کیا جو انسانیت کو بھی شرمسار کر دینا والا تھا۔ لیکن جنہیں نگاہیں عاشقانہ کی دولت اور جن کے قلوب حرارت ایمانی سے منور تھے، وہ ان کے ہر ظلم و ستم کو بخوشی برداشت کرتے ہوئے منزل مقصود کی تلاش میں سرگرداں رہے، ایسی سنگین اور بھیانک کیفیت میں بھی ہمارے اکابرین نے نہ تو اپنے عزائم کو پژمردہ ہونے دیا اور نہ ہی انہوں نے ستم رسیدہ حالات اور دلخراش واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے دل برداشتہ اور شکست خوردہ ہونے پر آمادگی ظاہر کی، بلکہ پورے ولولے اور ایمانی عزائم کے ساتھ میدان کار زار میں کودے اور حالات نے جن چیزوں کا تقاضہ کیا یا وطن عزیز نے اپنی محبت میں جن چیزوں کی قربانی کا مطالبہ کیا انہیں پیش کرنے میں پل بھر کےلئے بھی گریز نہیں۔ انہیں قربانیوں اور محبت کا نتیجہ کہ ہمارے اکابرین دیگر برادران وطن کو ہمراہ لے کر میدان میں نکلے اور کم و بیش دوسو سال کی محنت و کاوش اور بےشمار جان و مال کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد اپنے اس وطن عزیز ہندوستان سے طاغوتی طاقتوں کو ہمیشہ ہمیش کےلئے بےدخل کرنے اور ملک کو ان کے پنجئہ استبداد سے چھٹکارا دلا کر یہاں کے حقیقی باشندوں کو آزادی کی فضا مہیا کرانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ بات سو فیصد سچ ہے کہ اگر اس وقت ہمارے اکابرین اور مسلم مجاہدین میدان جنگ میں نہ آئے ہوتے اور انہوں نے تن من دھن کی بازی لگا کر پروانہ وار جنگ آزادی میں شرکت نہ کی ہوتی تو ابھی اس ملک کو آزاد کرانے میں اور کتنا طویل وقت صرف ہوتا یا قوم کو اپنی گردن میں ابھی اور کتنے عرصے غلامی کا طوق لٹکا کر یوں ہی غلامی کی زندگی گزر بسر کرنی ہوتی کچھ معلوم نہیں تھا؟ الغرض ! یہ صرف اور صرف ہمارے اکابرین کی خفیک جد وجہد اور شب و روز کی مجاہدانہ سرگرمیاں تھیں جنہوں نے اپنی جہادی بصیرت اور فکری حملوں سے ایسی پختہ قوم کو نہ صرف ناکوں چنے چبانے پر مجبور کر دیا بلکہ اس کے اس وہم و گمان کو بھی پاش پاش کرکے رکھ دیا جسے اس نے اپنے دل و دماغ میں رچا بسا رکھا تھا کہ:
“ہماری حکومت دنیا کی وہ واحد حکومت ہے جس کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا” لیکن ہمارے اکابر کی دور اندیشی اور ہمت و جلالت نے اس کے اس وہم کو بھی چکنا چور کر دیا۔
اس ملک کو آزادی دلانے اور وطن عزیز کی سلامتی، خوشحالی اور یہاں کے امن پسند عوام کو حقیقی معنوں میں مسرت و شادمانی کی فضا میسر ہو، اس کےلئے اپنے لہو سے آبیاری کرنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، جس کو مرتب کرنے والوں نے اپنے اپنے حساب سے مرتب بھی کیا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف و اقرار بھی کیا ہے، جس کا آغاز شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے فتوی جہاد جاری کرنے سے ہوتا ہے اور اختتام ریشمی رومال تحریک، دانڈی مارچ، اسباب بغاوت، تقسیم ہند جیسے دلخراش و دل سوز مراحل پر آ کر ہوتا ہے۔ اس پورے عرصے میں نہ جانے کیسی کیسی ہستیوں نے اپنا سب کچھ ملک پر قربان کر دینا گوارا کیا اور ملک کی آزادی اور اس کی سلامتی کے خاطر کچھ بھی پیش کرنے سے پس و پیش نہیں ہوئے۔ انہیں بےشمار ہستیوں میں سے ایک اہم نام مولانا محمد علی جوہرؔ رامپوری کا بھی تاریخ میں رقم ہے۔ جنہوں نے ملک عزیز کی آزادی کے خاطر اپنا سب کچھ نچھاور کر نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
مگر افسوس! جیسے ہمارے دیگر بہت سے علماء کرام اور مسلم مجاہدین آزادی کے نام اور کام نفرت و عصبیت کے شکار ہو کر آج گمنامی اور بھول بھلیاں کے شکار ہو کر رہ گئے ہیں ویسے ہی رامپور کے اس مایہ ناز سپوت، مجاہد جلیل اور بےمثال و لاجواب قلم کے شہسوار سپاہی کے کردار اور عظمت پر بارہا چشم پوشی کی چادر ڈال کر ان کی تمام تر خدمات جلیلہ اور عظیم قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور ان کے نام کے تذکرے کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ ملک بھر میں رائج تاریخ کی نصابی کتابوں سے ملت کے اس نامور شاعر اور میدان صحافت کے پختہ کار خادم کے ذکر اور ان کے کارہائے نمایاں کو رفتہ رفتہ کم ہی نہیں بلکہ منظم طریقہ پر حذف کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نئی جنریشن مولانا محمد علی جوہر کی جائے پیدائش و تاریخ پیدائش اور جائے وفات و تاریخ وفات اور مقام وفات کا علم اپنے پاس نہیں پاتی؟
کسے پتہ تھا کہ (10/دسمبر/1878) کو ریاست رامپور میں بی اماں کی گود میں آنکھیں کھولنے والا یہ بچہ آگے چل کر وہ تاریخ رقم کرےگا، جو اپنی فطری صلاحیتوں اور سیاسی فکر و بصیرت سے پوری سوئی ہوئی قوم کو ایسا بیدار کرےگا کہ صدیوں تک اس کے قلم سے بکھرے ہوئے موتیوں کو جمع کیا جائےگا اور ان سے ہر زمانہ میں استفادہ کیا جائےگا۔ کیوں کہ مولانا جوہرؔ جہاں ایک باصلاحیت مقرر و خطیب تھے وہیں مولانا عمدہ ادیب اور قلمکار بھی تھے، جن کے قلم سے نکلنے والے شہ پارے اور مواد سے پُرمضامین بیک وقت اردو انگریزی اخبارات میں شائع ہو کر ان کی قدر و قیمت میں اضافہ کا ذریعہ ہوتے تھے۔ مولانا کی زیر ادارت و اشاعت جن اخبارات نے جگہ پائی ان میں ہفت روزہ “ہمدرد” اردو اور “Comradeانگریزی بہت مشہور و معروف ہیں، یہی وہ دو اخبار ہیں جن میں مولانا اپنے بھائی شوکت علی خان سے بھی کافی حد تک تعاون لیا کرتے تھے۔
13/نومبر/1930 کو مولانا جوہرؔ “گول میز کانفرنس” میں شرکت کی غرض سے لندن تشریف لے گئے، اس وقت مولانا نے حکومت برطانیہ کے روبرو ایک بیش قیمت رائے کا اظہار کیا اور دوران گفتگو یہ مطالبہ رکھا کہ:
’’یاتو وہ لندن سے اپنے ملک ہندوستان کی آزادی کا پروانہ لے کر جائیں گے یا پھر وہیں اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کر دیں گے‘‘۔ حقیقت میں یہ زبانی الفاظ نہیں بلکہ دلی مراد تھی، جس کی اللہ نے لاج رکھی، اس لئے کہ مولانا ابھی لندن ہی میں قیام پذیر تھے کہ آپ بیماری طاری ہو گئی، اور لندن ہی میں 4/جنوری/1931 کو امت کا یہ عظیم خادم اور کردار ساز ستارہ ڈوب گیا =انا للہ وان الیہ راجعون= بعد ازاں مولانا کی تجہیز و تدفین مولانا کی دیرینہ خواہش کے مطابق سر زمین انبیاء “فلسطین” میں ہوئی، جہاں آج بھی آپ آسودۂ خاک ہیں اور آپ کی لحد مرجع عام و خاص بنی ہوئی ہے۔
([email protected])

You might also like