Baseerat Online News Portal

’’کلام خاکی‘‘رفیق العلما کی شعری شاہکار

 

تبصرہ نگار: وزیر احمد مصباحی (بانکا)
ریسرچ اسکالر: جامعہ اشرفیہ مبارک پور
“وہ ایک خدا ترس عالم دین ہیں، نیک سیرت و صورت ہیں، نہیں! بچوں سے پیار و شفقت کرنے والے ہیں، شیریں کلام ہیں، اوہ ہاں! شاید وہ علما نواز ہیں یا پھر سادگی پسند، ملنسار اور بلا تفریق ہر ایک کی دعوت پر لبیک کہنے والے ہیں، ارے ہاں! وہ تو قوم کی زلفِ برہم سنوارتے ہیں، نہیں! وہ تو نجی محفلوں میں سامعین کے دل‌ بھی اپنی میٹھی اور پیاری باتوں سے لبریز کر دیتے ہیں، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی محفل میں جگہ پانے والے کبھی بور نہیں ہوتے، ان کا دل قومی و ملی درد و سوز سے لبا لب ہے، وہ ہر ممکن ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرتے ہیں، نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔چھوڑیں یہ سب، ہاں؛ وہ تو بس خاکی ہیں خاکی”۔
یقین مانیں! رفیق العلما حضرت مولانا رفیق عالم خاکی مصباحی (استاذ: مسلم ہائی اسکول، بھاگلپور، بہار) کا نام سنتے ہی مذکورہ بالا سارے خیالات و تصورات میرے ذہنی دریچے میں یکا یک گردش کرنے لگتے ہیں اور پورا وجود مسرت و شادمانی کی لہروں میں ڈوب جاتا ہے۔ سچ بتاؤں! تو میں‌نے اپنی زندگی میں اب تک رفیق العلما جیسا منکسر المزاج اور کشادہ دل شخص کسی کو نہیں پایا۔ یقیناً! خاکی جیسا قیمتی تخلص آپ کی خدا ترس ذات پر خوب جچتا ہے۔ کہیں بھی اور کسی بھی محفل میں دعوت شرکت دے دیں بغیر کسی تکلف کے اپنی حاضری درج کرانے کے ساتھ ساتھ قیمتی ناصحانہ باتوں سے مستفیذ بھی فرماتے ہیں۔
پہلی مرتبہ آپ کو میں نے رو برو کہاں دیکھا تھا یہ تو یاد نہیں، ہاں؛ ذہنی تہہ خانے پر جب بھی زور دیتا ہوں تو تحت الشعور سے یہ مدھم سی یاد اچانک میرے شعور کی اوپری سطح پر اکثر ابھر آتی ہے کہ کہیں کسی دینی پروگرام میں ہی آپ کا دیدار نصیب ہوا تھا، جلسے کا آخری دور تھا، اپنے ٹوٹے پھوٹے جملوں کی مدد سے ایک تیار کردہ ہدیہ تشکر پڑھ کر میں بیٹھا ہی تھا کہ بذات خود رفیق العلما نے سب کے سامنے میری تحسین فرمائی اور پھر سو روپیے کا انعام میری تھیلی میں ڈال دی۔ اس کے بعد حضرت کی ذات سے شناسائی کا رشتہ مزید گہرا ہونے لگا۔ شروع کے ایک دو ملاقاتوں میں تو خود آپ نے ہی میرا نام و پتہ دریافت فرمایا، بتانے پر حضرت بے انتہا خوش ہوئے اور پانچ سو/ ہزار کے نوٹ تحفتاً عنایت فرما دیے اور اب جب بھی ملاقات ہوتی ہے، اپنی میٹھی اور پاکیزہ گفتگو سے سیراب کرنے کے ساتھ بوقت رخصت سو/ دو سو کے نوٹ یہ کہتے ہوئے جبراً تھما دیتے ہیں کہ: “آپ جیسے مصباحی علما کو دیکھتا ہوں تو میری طبیعت خوش ہو جاتی ہے، آپ لوگ سلامت رہیں”۔ یہ آپ کی کرم نوازی ہی ہے کہ ابھی چند ماہ قبل جب میں اپنے رفیقوں کے ہمراہ بھاگلپور جانا ہوا تھا تو آپ کے در دولت پر بھی حاضری ہوئی تھی۔ وقت رخصت آپ نے جہاں ہم سب کو تحفوں سے نوازا وہیں کتاب کی صورت‌ میں دو گراں قدر تصانیف” کلامِ خاکی” اور ” رفیقِ سفر” سے بھی شادکام فرمایا۔
بسا اوقات مجھے یہ سوچ کر حیرت ہونے لگتی ہے کہ آپ ایک سرکاری اسکول کے ٹیچر ہیں، محلہ صدر الدین چک، بھاگلپور کی مسجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داری ہے، مدرسہ ابراہمیہ غوث الورٰی کدمہ، بسنت رائے گڈا، جھارکھنڈ کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں اور پتا نہیں گھریلو کتنی ذمہ داریاں ہوں گی۔۔۔مگر۔۔۔پھر بھی اس قدر مصروف ترین اوقات میں سے کب اور کیسے صنف نعت، حمد، منقبت اور غزل میں اتنے اچھے اور گراں قدر اشعار قلم بند کر لیتے ہیں؟___مجھے لگتا ہے شاید یہاں میری اس حیرت کا یہ حقیقت بہترین جواب بن جائے کہ : کام کرنے والوں کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے ” ہمت مرداں مددے خدا”۔ آج آپ کی انھیں انتھک کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ خوبصورت گلدستہ” کلامِ خاکی” راقم الحروف کے مطالعاتی میز کی زینت بنی ہوتی ہے۔
رفیق العلما کی یہ تصنیف اس جہت سے واقعی منفرد ہے کہ اس میں جہاں نعتیہ، حمدیہ اور غزلیہ اشعار شامل ہیں وہیں منقبت، دعا، مناجات اور رمضان، حج و ماں جیسی عظیم ہستی وغیرہ کی فضیلت و عظمت پر مشتمل گراں قدر اشعار بھی شامل بزم ہیں۔ ص:۳ پر مصنف موصوف کا ایک ایسا مختصر سا تعارف پیش کیا گیا ہے جسے پڑھنے کے بعد مجھے نہیں لگتا ہے کہ کوئی بھی قاری آپ کو جاننے کے حوالے سے اپنی تشنہ لبی کا شکوہ کرے۔ فہرستِ کتاب سے اپنی آنکھوں کا رشتہ ہموار کرنے کے بعد جب آپ آگے بڑھ کر ” مقدمہ” میں قدم رکھیں گے تو بدست مصنف لکھی ہوئی تمام تر حقائق آپ کو یہ سوچنے اور پھر رشک کرنے پر مجبور کر دیں گے کہ آپ نے کہاں کہاں اور کس طرح قومی و ملی غیرت و حمیت میں ڈوب کر اپنے قیمتی اوقات بتائے ہیں۔ میں تو مصنف موصوف کی شعری تحریک کی جانب یہ وجہ جان کر ہی دنگ رہ گیا جس نے آپ کو اپنی محنت و لگن کے ساتھ اتنا مخلص بنا دیا ہے کہ آج بھی آپ اپنے شعری کمال و ہنر کے بل پر محفل لوٹ لیتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:
” صدر الدین چک کی جامع مسجد میں خطبہ سے پہلے کچھ دیر تقریر ہوتی تھی اسی محلہ کے مشہور و معروف عالی جناب ماسٹر شوکت علی صاحب انجم مرحوم و مغفور سابق ہیڈ ماسٹر مسلم ہائی اسکول، بھاگلپور گاہ بگاہ کہہ دیتے تھے کہ مولانا آپ تقریر تو اچھی کر لیتے ہیں لیکن شعر جب پڑھتے ہیں تو بحر سے گر جاتا ہے۔ یہ بات میرے لیے باعث حیرت تھی کہ مرحوم تو سائنس کے ٹیچر ہیں ویسے ان کی اردو بھی ماشاءاللہ اچھی تھی ان کا یہ جملہ میرے دل میں اثر کر گیا کہ میں اردو، فارسی کا ٹیچر ہوں اور ایک سائنس کا ٹیچر کہے کہ بحر سے شعر بھاگ جاتا ہے تب میرے ضمیر نے مجھ کو جھنجھوڑا اور میں خود ہی اشعار رفتہ رفتہ کہنے کی کوشش کرنے لگا جس سے فائدہ یہ ہوا کہ دوسرے شعرا کے کلام بھی صحت سے پڑھنے لگا”۔ ( ص: ۵، ۶)
آپ شاعری کی دنیا‌ میں پروفیسر سید رافق صاحب زماں شہبازی( ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ آف فزکس، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی اور عالی جناب ڈاکٹر و پروفیسر بدر الدین صاحب شبنم، (شعبہ اردو: ٹی- ایم بھاگلپور یونیورسٹی، بھاگلپور) کو اپنا استاد بتاتے ہیں کہ انھیں دو حضرات سے اصلاح زبا‌ن اور شعری نوک پلک سنوارنے میں آپ نے تراش و خراش کا کام لیا۔ زیر نظر کتاب” کلامِ خاکی” آپ کی اولین شعری مجموعہ ہے اور ۶۲/ ۶۳ صفحات پر مشتمل ہے۔ ص: ۶ تا ۱۷ میں مصنف موصوف نے تقریباً نصف درجن اہم شخصیات سے دعائیہ کلمات، تاثرات اور تقریظ وغیرہ لکھوانے کا کام کیا ہے۔
آپ کی ذات جس طرح سادگی پسند ہے، اسی طرح آپ کے تمام تر اشعار بھی لفظی زیر و بم کے طمطراق سے پاک و منزہ ہے۔ سلاست، روانی اور سادگی کے ساتھ سوز و ساز آپ کے کلام سے اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ پڑھتے وقت آمد کے بجائے آورد کی سی کیفیت کا احساس جمال ہونے لگتا ہے۔ بلند و آہنگ ترتیب، گنجلک الفاظ اور پیچیدہ اشارات و کنایات سے آپ دامن بچاتے ہیں۔ ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ کلام پہیلی بننے کے بجائے ادائیگی مفہوم و معانی کے باب میں عام فہم قارئین کے ذوق پر بھی گراں نہ گزرے۔ اللہ و رسول ﷺ کی مقدس ذات کے ساتھ ساتھ اولیاے کاملین و بزرگانِ دین سے قلبی لگاؤ و عشق کی آگ آپ کے یہاں خوب بلند ہے۔ عشق رسالت مآب ﷺ اور نعت گوئی کی سعادت ارزانی نے آپ کو خوب بلند کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعتیہ اشعار قلم بند کرتے ہوئے” با‌خدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہوشیار” جیسا قاعدہ ہمیشہ نگاہوں کے سامنے رہتا ہے کیوں کہ اس باب میں حزم و احتیاط اور اعتدال و توازن کی کنجی ہی کامل عشق کی پہچان و نشانی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:

اوصاف کیا بیاں کروں تیرے شباب کی
ہیں بابِ حب انوکھے بدن کی کتاب کی

جلتا ہوں رات دن عشقِ نبی کے سوز میں
ہیں لطف ہی الگ میرے دل‌کے کباب میں

خوشبو کی آسمان‌ سے برسات ہو گئی
“شبنم نے بھر دئیے تھے کٹورے گلاب کے”

بندے بہک گیے ہیں بہت حق کی راہ سے
دیکھے ابھی نہیں ہیں مناظر عتاب کے

جس علاقے سے شاعر موصوف کا تعلق ہے، اسے میں ایامِ طفلی سے جانتا ہوں۔ شعور کی رمق پانے کے بعد ہی میری آنکھوں نے ان علاقوں میں پڑھے لکھے افراد تو بہت دیکھے،مگر بہترین عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ شستہ و سہل زبان میں شاعری کرنے والی ذات میں نے پہلی مرتبہ دیکھی ہے۔ میں اسے موصوف کی محنت و لگن اور خلوص دعا ہی کا اثر سمجھتا ہوں کی آج کل آپ ایک دوسرا مجموعہ منصہ شہود پر لانے کے فراق میں ہیں۔ بطورِ مناجات آپ لکھتے ہیں:

اللہ ترے نام سے کرتا ہوں ابتدا
رحمن اور رحیم تری ذات ہے خدا

تکمیل ہو کتاب کی فیض رسول سے
مقبول شاعری ہو یہ کرتا ہوں التجا

توفیق دے رفیق کو اشعار کہہ سکے
آتی رہے ہمیشہ اسے یاد مصطفےٰ (ﷺ)

آپ نعت نبی ﷺ رقم کرنا اپنے لیے ابدی سعادت تصور کرتے ہیں۔ دیارِ حبیب ﷺ کی زیارت توشۂ آخرت گردانتے ہیں۔ یہ چند اشعار دیکھیں کہ آپ نے ان متعدد احادیث کی ترجمانی کس خوبصورتی کے ساتھ کیا ہے، جس میں حضور اکرم ﷺ اور آپ کی ہر شئ سے محبت جزو ایمان قرار دیا گیا ہے:

توہین رسالت ہو یہ ایمان نہیں ہے
سجدہ وہ کرے لاکھ مسلمان نہیں ہے

جو حمد خدا نعت نبی سے رہا محروم
در اصل وہ انسان کوئی انسان نہیں ہے

خاکی پہ بھی ہو جائے ذرا چشم عنایت
سرکار سے بڑھ کر کوئی سلطان نہیں ہے

کامیاب شاعر کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ الفاظ کا چناؤ بڑی بیدار مغزی سے کرتے ہیں اور یہ خوبی آپ کے یہاں بھی اس قدر واضح ہے کہ شیفتگی و شگفتگی کا رنگ برقرار رہتا ہے، آداب فن کے التزام کے ساتھ معنوی گہرائی و گیرائی اور معنی آفرینی پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ذوق نعت اور سخن شناسی کی دنیا‌ میں آپ کا قد دھیرے دھیرے بڑھتا جا رہا ہے۔
خاکی کے اس مجموعے میں دس منقبتوں کا انتساب جن دس ہستیوں کی جانب کیا گیا ہے، وہ اپنی ذات میں یکتا و منفرد ہیں۔ حضرت عثمان غنی، حضرت امام حسین، حضور غوث اعظم ( رضی اللہ عنہم) اور مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ جیسی اہم اور بلند پایہ ہستیوں کے ماسوا ماضی قریب کی چند چنندہ شخصیات بھی ہیں۔ فہرستِ کتاب دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ متعدد صنف سخن میں طبع آزمائی کرنا آپ کا محبوب مشغلہ ہے۔ زیر نظر کتاب کی ہی بات کریں تو اس میں آپ کے تین غزل بھی شامل اشاعت ہیں اور تینوں خوب ہیں۔ غزل ے یہ چند اشعار دیکھیں:

کوئی سونے کو گر پیتل کہے اچھا نہیں لگتا
سبھی پانی کو گر شیتل کہے اچھا نہیں لگتا

وہ بحرِ عشق میں غرقاب ہو کر ہو گیا مجنوں
جو سب کو ہجر کا گھائل کہے اچھا نہیں لگتا

صنم کے پیر میں گہنا چمکتا ہے بہت خاکی
کوئی زنجیر کو پائل کہے اچھا نہیں لگتا
________________
زنجیر کی جنبش میں عبادت کا مزہ ہے
محبوب کے کوچے میں ریاضت کا مزہ ہے

اشرف ہے اگر انس تو ارزل بھی وہی ہے
انسان ہو مومن تو شرافت کا مزہ ہے

اللہ تیری یاد ہو خاکی کے جگر میں
سینے میں رہے نور تو نسبت کا مزہ ہے

آپ کے کلام میں واقعی سادگی کا ایسا جوہر اور حسن کا ایسا عنصر موجود ہے کہ جس کی وجہ سے اشعار میں دھنک کے سارے رنگ سمٹ آئے ہیں۔ کتابی ٹائٹل پیج کے انتخاب میں بھی اعلی حسن ذوق کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اوپری صفحہ کے ماتھے پر اگر ایک عدد خانہ کعبہ کی دلکش تصویر ثبت ہے تو وہیں دوسری جانب گنبد خضریٰ کی پرکشش جھلک بھی ہے، بیک کور میں “مدرسہ ابراہمیہ غوث الوری” کی امداد سے متعلق مختصر سی اپیل شامل‌ ہے۔ ص:۳۵/ پر بارگاہِ خیر الانام ﷺ میں استغاثے کے طور پر پیش کردہ آپ کے یہ اشعار مجھے بے حد پسند آیا کہ:

پریشان ہوں مجھے بھی دے سہارا یا رسول اللہ ﷺ
مدینے سے خبر لے اب خدا را یا رسول اللہ ﷺ

حوادث کے بھنور میں پھنس گئی تقدیر کی کشتی
عطا کر دے اسے اب تو کنارہ یا رسول اللہ ﷺ

شفیع المذنبین اور رحمتہ اللعالمین تو ہے
کہاں جائے بتا دے یہ بیچارہ یا رسول اللہ ﷺ

کرم ہوتا رہا خاکی بہ پیہم سرورِ عالم
تجھے جس نے عقیدت سے پکارا یا رسول اللہ ﷺ

کتاب اور صاحب کتاب سے اس قدر پردہ اٹھا چکنے کے بعد،مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ خاکی کے اور اہم خصوصیات سے آپ اپنا رشتہ شناسائی مزید گہرا کرنے کے لیے اس گلدستہ سے ہی اپنی آنکھوں کا رشتہ ہموار کر لیں۔ اہلِ ذوق قارئین اور شعر و شاعری سے شغف رکھنے والے طلبہ ۵۰/ روپیے قیمت کی ادائیگی کے ساتھ اسے ایم-ایس بک سینٹر، نزد مسلم ہائی اسکول اور جامعہ شاہ جنگی پیر، حبیب پور بھاگلپور سے حاصل کر سکتے ہیں۔

You might also like