Baseerat Online News Portal

آن لائن نیوزڈیسک
جرمنی کو اس سال دو بڑے چینلجز کا سامنا رہے گا، کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ اور بڑی سیاسی تبدیلیاں۔ اس سال عام انتخابات کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا عہدہ کسی اور کے پاس جائے گا۔
جرمنی میں اس وقت سب سے اہم موضوع کورونا وائرس کی وبا ہے۔ ملک کے کئی حلقوں کی جانب سے وبا پر قابو پانے کے لیے عائد پابندیوں کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار فلوریان ہارٹلب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایک سماجی تحریک میں دھیرے دھیرے شدت پیدا ہو رہی ہے، ایک ایسی تحریک جس میں دائیں اور بائیں بازو کی شدت پسند افراد اور ایسے جرمن شہری جو سائنس کو ہی نہیں مانتے، یکجا ہو رہے ہیں۔‘‘

چانسلر انگیلا میرکل کے عہد کا اختتام
اس سال ستمبر میں جرمنی میں عام انتخابات کا انعقاد ہو گا۔ اسی کے ساتھ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے عہد کا اختتام ہو جائے گا۔ سولہ برس اور حکومت کے چار ادوار کے بعد انگیلا میرکل اس عہدے کو چھوڑ دینا چاہتی ہیں۔ جرمنی کے سابق چانسلر ہیلمٹ کوہل بھی اتنی ہی طویل مدت تک ملک کے چانسلر رہے تھے۔
فلوریان ہارٹلب کہتے ہیں، ’’ جرمن شہری میرکل کے ڈسپلن اور ان کے کام کرنے کے انتہائی اعلیٰ اقدار کو یاد کریں گے۔‘‘ لیکن میرکل حکومت کی کچھ ایسی پالیسیاں بھی ہیں جو انہیں غیرمقبول بناتی ہیں۔ فلوریان کے مطابق، ’’ خاص طور پر میرکل کی مہاجرین سے متعلق پالیسی جس کے باعث انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کو اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا۔‘‘

مارکوس زوئڈر نئے چانسلر؟
جرمنی میں اس سال سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انگیلا میرکل کی جگہ کون ان کے عہدے پر فائز ہوگا؟
ان کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی رائے عامہ میں پسندیدگی 35 فیصد ہے، جو کہ کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ جرمنی میں چانسلر کا عہدہ اسی جماعت میں سے کسی کو ملے۔
تاہم رائے عامہ کے مطابق جرمن عوام سی ڈی یو کی باویریا میں اتحادی جماعت سی ایس یو کے مارکوس زوئڈر کو اگلے چانسلر کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو ایسا پہلی مرتبہ ہو گا کہ سی ایس یو کے باویریا کے رکن جرمن چانسلر بنیں گے۔ تاہم سی ڈی یو کے فریڈریش میرز، جو کہ میرکل کے ناقد رہے ہیں، کو بھی سی ڈی یو کے قدامت پسند ارکان کی کافی حمایت حاصل ہے۔

ممکنہ سیاسی اتحاد
چانسلر کوئی بھی ہو، سی ڈی یو اور سی ایس یو کے اتحاد کو حکومت قائم کرنے کے لیے ایک سیاسی جماعت کی مدد درکار ہوگی۔
موجودہ مخلوط حکومت میں اس اتحاد کے ساتھ شامل جماعت ایس پی ڈی رائے عامہ کے جائزوں مطابق اپنی شہرت کھو رہی ہے۔ لہٰذا اگلی مرتبہ کے لیے گرین پارٹی کو سی ڈی یو اور سی ایس یو اتحاد کا ممکنہ پارٹنر قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک بٹا ہوا معاشرہ
اس وقت پارلیمان میں انتہائی دائیں باز کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ حالیہ کچھ عرصے میں اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے لیکن کورونا وائرس کی وبا کے دوران حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث اس جماعت کو کچھ حلقوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔
فلوریان کے مطابق، ’’ہم ایک بٹا ہوا ملک دیکھ رہے ہیں، اگر کورونا وبا کے بعد اقتصادی مشکلات آتی ہیں تو معاشرے کا یوں بٹا رہنا بھی برقرار رہے گا۔‘‘

You might also like