Baseerat Online News Portal

جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر 1/کی میٹنگ کاانعقاد اور ممبر سازی کے لیےایک کمیٹی کی تشکیل!

( انوارالحق قاسمی)
مسلمان جس دور سے گذررہے ہیں ،اس کاتقاضا یہی ہے کہ مسلمانوں کاملی مرکز مضبوط سےمضبوط تر ہو،اور یہ اتحاد کےبغیر ناممکن ہے،واضح رہے کہ اتحاد ہی ایک واحد چیز ہے جس میں ایک غیر معمولی طاقت ہے۔
مسلمانوں کو اپنےحقوق کےحصول یابی اور مسائل کے حل کےلیے “جمعیت علماء نیپال”کےاستحکام کی بڑی ضرورت ہے؛ کیوں کہ اس کے بغیر کسی بات کومستحکم طریقہ سے نہیں کہہ سکتے ہیں،بالخصوص جمہوری ملک میں ،جہاں سرگنےجاتےہیں،تنظیم کی طاقت اور اس میں افراد کی کثرت کوشمار کرائے بغیر کوئی بات موثر نہیں ہو سکتی۔
ایسے میں ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ احباب کو “جمعیت علماء نیپال” سےجوڑیں اور ممبر سازی مہم کو خوب کامیاب بنائیں ۔
اسی ممبر سازی مہم کوتیزسے تیز تر کرنے کےلیے آج بتاریخ 4/جنوری کو “جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر(1 )کی ایک اہم میٹنگ موضع “چھتونا” کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی،جس کی صدارت حضرت مولانا محمد شوکت علی صاحب المدنی نے فرمائی۔
نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے ملک کے جید الاستعداد عالم دین حضرت مولانا محمد اسلم جمالی صاحب قاسمی نے فرمایا :کہ اس ضلع روتہٹ میں اب تک کئی ایک تنظیمیں قائم ہوئیں، مگرمن جانب اللہ “جمعیت علماء نیپال” کو جو نمایاں مقام حاصل ہوا ہے ،وہ کسی فردبشر سے مخفی نہیں ہے ۔
یہ سب بس بانی جمعیت ہردل عزیزعالم دین حضرت اقدس مولانا محمد عبدالعزیز صاحب صدیقی کی خلوص نیت اور دعاسحرگاہی کی برکت ہے،کہ آج “جمعیت علماء نیپال ” کی خدمات سے ملک نیپال ہی کی عوام و خواص نہیں؛ بل کہ بیرون ملک کی عوام وخواص بھی بخوبی واقف ہیں ۔
اورمجلس کاآغاز ثانی سدیس حضرت مولانا وقاری اسرارالحق صاحب قاسمی (ناظم تعلیمات:جامعہ عربیہ دارالعلوم /جینگڑیا،ونائب ناظم:معہد ام حبیبہ للبنات )کی مسحور کن تلاوت قرآن سے ہوا،پھر متصلا ہی شان رسالت میں نعت النبی حافظ محمد اظہارالحق صاحب نےگنگنایا۔
حضرت مولانا مفتی محمد آس محمد صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا :کہ ہم بے حد ممنون و مشکور ہیں ضلعی جمعیت کے ارباب اختیار کاکہ انہوں نے ہماری بستی “چھتونا” میں “جمعیت علماء روتہٹ حلقہ نمبر 1/کی میٹنگ رکھا اور ہمیں خدمات کاموقع عنایت فرمایا،امید قوی ہے کہ آئندہ بھی ہمیں بار بار خدمات کاموقع دیں گے ۔
جمعیت علماء نیپال کے سکریٹری اور الجامعة الابرار الاشرفيه کے ناظم حضرت مولانا وقاری حنیف صاحب قاسمی، مدنی نے فرمایا :کہ ملک نیپال میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی بھی مسئلہ پیش آتاہے،خواہ وہ معمولی ہو یاغیر معمولی،اسے تن تنہا “جمعیت علماءنیپال “ہی حل کرتی ہے،اور بحمد اللہ اس کاہر فردبشر معترف بھی ہے ۔
حضرت نے مزید کہا :کہ جمعیت علماء نیپال سن 2006ء میں قائم ہوئی اور سن 2007ء میں جمعیت علماء نیپال کاایک تاریخی اجلاس گئور کے رائس میل میدان میں منعقد ہوا، جس میں ملک کےکونے کونے اور گوشے گوشے سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور اجلاس کوکامیاب بنانے میں اپنا ایک اہم کردار ادا کیا ۔
حضرت کہا :کہ اس موقع سے اگر صوبہ بہار کے نامور عالم دین اور جمعیت علماء بہار کے نائب صدر حضرت مولانا محمد انوار الحق صاحب قاسمی کانام نہ لیاجائے،تو یہ بڑی ناسپاسی ہوگی ۔
جمعیت علماء نیپال کے قیام کے محرک اول حضرت اقدس مولانا محمد انوار الحق صاحب قاسمی ہی ہیں؛ اس لیے ہم مسلمانوں پر ان کابےحد احسان ہے،جنہیں کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
حضرت نے سلسلہ کلام کوجاری رکھتے ہوئے فرمایا:کہ جب “برتا”میں آگ لگی تھی ،تواس موقع سےبھی ہم خدام جمعیت نے مسلسل دس روز تک خوب محنت کیا اور بلاتفریق ہر ایک کےلیے اشیاء خوردنی، پہننے کےلیے کپڑوں اوررہنے کے لیے مکانات کاانتظام کیا۔
اور جب سن 2072 میں زلزلہ آیا،توصرف گورکھا میں جمعیت نے پچاس لاکھ کاجستہ تقسیم کیاہے۔
جمعیت علماء نیپال کےمرکزی ممبر حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نے کہا:کہ ہم جمیع مسلمانان نیپال “جمعیت علماء نیپال “کو اپنامرجع سمجھیں! دنیا میں ہم کسی بھی پارٹی سے منسلک رہیں؛ مگر جب اسلام اور مسلمان کی بات آئے، تو ایسےموقع سے جمعیت ہی کے ساتھ رہیں اور اسی کے سایہ تلے زندگی بسر کریں۔
حضرت نے کہا:کہ اس میٹنگ کااصل مقصد ممبر سازی ہے اور ملک کے کونے کونے میں بسنے والے ہرایک مسلمان کو اس کاممبر بناناہے، واضح رہے کہ جس قدر ممبران میں کثرت ہوگی ،اسی بقدر جمعیت ہراعتبار سے مستحکم اور مضبوط ہوگی۔
اور دیگر علماء کرام نے بھی مثلا:قاری شہاب الدین صاحب،مولانا محمد طیب صاحب، مولانا محمد جواد عالم صاحب مظاہری،انجینئر عبدالجبار صاحب، حضرت مولانا محمد اسعد اللہ صاحب مظاہری،مولانا معین الدین صاحب، مولانا صابر صاحب ،مولانا امجد صاحب قاسمی،مولانا شاہد صاحب، قاری بشیر صاحب، مولانا نذرعالم صاحب ، مولانا محمد طیب صاحب قاسمی،مولانا نسیم صاحب،تبارک صاحب، مولانا شاہ عالم صاحب اپنےقیمتی مشوروں سے نوازا ۔
اور پھر ممبر سازی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل ہوئی ،جن کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں :
شیخ احمد،میزان الرحمان ،تبارک ،حافظ اظہار الحق، مفتی آسان محمد، قاری اسماعیل، نظام الدین، اعزاز احمد، نبی جان ،انصارالحق،اکالو محمد، مولانا نذر عالم،مولانا شفیع اللہ، عبداللہ، مولانا شاہ عالم، حافظ محمد شہید، حافظ وصی احمد، مولانا محمد طیب صاحب قاسمی،ضمیر الدین، مسلم، مولانا دوست محمد، مولانا ثناءاللہ، قاری سراج، مولانا ضیاء اللہ، عبد الجبار،شکیل احمد اور محمد تبریز عالم صاحب ۔

You might also like