Baseerat Online News Portal

’لوجہاد‘ آرڈیننس پریوپی حکومت کوجھٹکا، ہائی کورٹ میں جاری رہے گی سماعت

حکومت کے دلائل کوکورٹ نے کیا خارج
پریاگراج، 7 جنوری (بی این ایس )
یوپی میں’لو جہاد‘ کے واقعات کو روکنے کے لئے یوگی حکومت کے ذریعہ لائے جانے والے تبدیلی مذہب آرڈیننس پر الہ آباد ہائی کورٹ اپنی سماعت جاری رکھے گی۔ ہائی کورٹ نے آج اس آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ختم کرکے درخواستوں کو مسترد کرنے کی یوپی حکومت کی درخواست مسترد کردی ہے اور حتمی سماعت کے لئے 15 جنوری کی مہلت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت ہونے کا بھی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہائی کورٹ خود کو اس معاملے سے الگ کرے۔ یوپی حکومت کے لئے صرف ایک راحت بھری بات یہ ہے کہ آج بھی عدالت نے اس معاملے میں کوئی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کردیا۔درخواست گزاروں کی درخواست پر عدالت نے آج کی سماعت ملتوی کردی اور حتمی سماعت کے لئے 15 جنوری کی تاریخ مقرر کردی۔ اس سے پہلے یوپی حکومت نے 5 جنوری کو عدالت میں اپنا جواب داخل کیا تھا۔ ایک سو دو صفحات کے جواب میں یو پی حکومت نے آرڈیننس کو وقت کی ضرورت بتایا۔ متعدد مقامات پرلوجہا کے واقعات کی وجہ سے امن و امان کے نظام کو خطرہ لاحق تھا، امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اس طرح کا آرڈیننس لانا انتہائی ضروری تھا۔
دراصل یوگی حکومت کی طرف سے ’لو جہاد‘ کے واقعات کو روکنے کے لئے لائے گئے آرڈیننس کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں چار الگ الگ درخواستیں دائر کی گئیں۔ ان درخواستوں میں سے ایک سوربھ کمار کی تھی، دوسری درخواست بدایوں کے اجیت سنگھ یادو کی، تیسری ریٹائرڈ سرکاری ملازم آنند مالویہ اور چوتھی کانپور سے تھی۔ تمام درخواستوں میں اس آرڈیننس کو غیر ضروری بتایا گیا تھا، کہاگیاکہ یہ صرف سیاسی فائدے کے لئے ہے۔ اس میں ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ دلیل یہ بھی دی گئی کہ یہ آرڈیننس عوام کو دئے جانے والے بنیادی حقوق کے منافی ہے، اس لئے اسے منسوخ کیا جانا چاہئے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ آرڈیننس صرف کسی ہنگامی صورتحال میں لایا جاسکتا ہے، عام حالات میں نہیں۔اس آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ کل ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے آرڈیننس سے متعلق یوپی حکومت کی طرف سے جواب طلب کیا تھا۔ یوپی حکومت کو چار ہفتوں میں سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرنا ہوگا۔ یوپی حکومت نے ان درخواستوں کو برخاست کرنے اور سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمے کی بنیاد پر سماعت نہ ہونے کی اپیل کی تھی لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے سماعت پر کوئی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ہائی کورٹ نے سماعت جاری رکھی اعلان کیا۔

You might also like